خیبر: جہاں ہیروئن کے خلاف جنگ اور قبائلی اختیار آمنے سامنے آگئے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
23 اگست 1983 کی ایک سابقہ خفیہ CIA رپورٹ نے لنڈی کوتل کو پاکستان میں منشیات کی پروسیسنگ کا اہم مرکز قرار دیا—مگر اصل کہانی صرف ہیروئن کی نہیں، ریاست اور سرحدی قبائلی نظام کے درمیان اختیار کی کشمکش کی بھی تھی۔تاریخ میں کچھ دستاویزات ایسی ہوتی ہیں جو صرف ماضی کی تصویر نہیں دکھاتیں بلکہ اس زمانے کے ریاستی مسائل کی پوری ساخت سامنے رکھ دیتی ہیں۔ 23 اگست 1983 کو امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) نے ایک میمو تیار کیا جس کا عنوان تھا:
“The Khyber: Heroin Trafficking Continues”
یہ رپورٹ بنیادی طور پر ایک سوال کا جواب دینے کے لیے تیار کی گئی تھی کہ پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے میں ہیروئن کی تیاری اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے باوجود یہ کاروبار کیوں جاری ہے۔CIA کا جواب سیدھا تھا کارروائی ہوئی، کچھ لیبارٹریاں بند ہوئیں، کچھ لوگ گرفتار ہوئے، کچھ لیبارٹریاں افغانستان منتقل ہوئیں، لیکن لنڈی کوتل اور اس کے گردونواح میں ہیروئن کی پروسیسنگ ختم نہیں ہوئی۔ اور شاید یہی اس رپورٹ کا سب سے اہم پہلو ہے۔
1983 میں CIA نے لنڈی کوتل کو محض ایک سرحدی شہر نہیں سمجھا بلکہ اسے منشیات کی تجارت کے لیے غیر معمولی جغرافیائی اہمیت رکھنے والا مقام قرار دیا۔وجوہات واضح تھیں۔ یہ علاقہ افغانستان کی سرحد کے قریب تھا، پاکستان اور افغانستان کے افیون پیدا کرنے والے علاقوں سے جڑا ہوا تھا، پشاور جیسے بڑے تجارتی اور بروکریج مرکز سے زیادہ دور نہیں تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر پاکستان میں دباو¿ بڑھتا تو لیبارٹریوں کو سرحد پار منتقل کرنا نسبتاً آسان تھا۔یعنی ایک ہی جغرافیہ میں تین سہولتیں موجود تھیں: خام مال، پروسیسنگ اور سرحد پار نقل و حرکت۔ CIA کے مطابق 1982 میں پاکستانی نارکوٹکس کنٹرول بورڈ نے عوامی طور پر بتایا تھا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی ہیروئن تجارت کا مرکز لنڈی کوتل ہے، جہاں تقریباً 30 لیبارٹریاں کام کرنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ یہ تعداد محض ایک عدد نہیں تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ منشیات کی تجارت اب چھوٹے پیمانے کی خفیہ سرگرمی سے نکل کر ایک منظم صنعتی شکل اختیار کر رہی تھی۔
اس صورتحال کے بعد صدر جنرل ضیاء الحق نے نومبر 1982 میں خیبر ایجنسی کے سیاسی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ قبائلی عمائدین کے ذریعے لنڈی کوتل کی ہیروئن کی تجارت روکی جائے۔ یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔ ریاست نے براہِ راست بڑے پیمانے پر طاقت استعمال کرنے کے بجائے قبائلی قیادت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔ قبائلی عمائدین نے مبینہ طور پر لیبارٹری چلانے والوں کو سامان حوالے کرنے کا حکم دیا، بصورت دیگر جرمانے اور سماجی رسوائی کی دھمکی دی گئی۔CIA کے مطابق دسمبر 1982 کے آغاز تک پاکستانی حکام نے امریکی سفارت کاروں کو بتایا کہ 27 لیبارٹریوں کا سامان حوالے کروایا جا چکا ہے اور خیبر میں ہیروئن کی پیداوار بند ہوگئی ہے۔
لیکن زمین پر کہانی مختلف تھی۔ جب کاروبار بند ہونے کے بجائے زیرِ زمین چلا جائے رپورٹ کے مطابق خیبر میں بعض اسمگلروں نے پابندی کی مخالفت کی۔ مظاہرے ہوئے۔ گرفتار منشیات فروشوں کے حق میں اجتماعات ہوئے۔ اور بعض قبائلی حلقوں نے حکومت کی کارروائی کو اپنے قبائلی اختیار میں مداخلت قرار دیا۔ CIA نے خاص طور پر اس کشیدگی کا ذکر کیا کہ بعض اسمگلر ریاستی کارروائی کو نہ صرف اپنے کاروبار کے لیے خطرہ سمجھتے تھے بلکہ اسے قبائلی خودمختاری پر حملہ بھی قرار دیتے تھے۔ یہاں مسئلہ صرف پولیس اور اسمگلر کے درمیان نہیں رہتا۔ یہ ریاستی اختیار اور روایتی قبائلی اختیار کے درمیان تصادم بن جاتا ہے۔۔اور یہی خیبر کی کہانی کو دوسرے علاقوں سے مختلف بناتا ہے۔
CIA کے مطابق اپریل 1983 میں لنڈی کوتل میں ایک لیبارٹری پر کارروائی کی گئی۔تین افراد گرفتار ہوئے، جن میں ایک ایسے شخص کا ذکر تھا جسے مبینہ طور پر دوبارہ قائم ہونے والی سات لیبارٹریوں میں سے چھ کے آپریشن سے جوڑا گیا تھا۔ جون میں لنڈی کوتل کے قریب باڑہ اور جمرود میں ہیروئن کی “دکانوں” پر چھاپے مارے گئے اور متعدد افراد گرفتار کیے گئے۔ یعنی حکومت کی کارروائیاں جاری تھیں۔ لیکن دوسری طرف لیبارٹریاں بھی اپنا طریقہ بدل رہی تھیں۔ کچھ کو زیرِ زمین منتقل کرنے کی اطلاعات تھیں۔کچھ افغانستان منتقل ہوگئیں۔ اور بعض کے بارے میں CIA نے لکھا کہ افغانستان میں مقامی حکام کی دعوت پر لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے پروسیسرز نے سرحد پار دوبارہ کام شروع کیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں سرحد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بنیادی مسئلہ پیدا کردیا۔پاکستان میں کارروائی کی جائے تو کاروبار سرحد پار منتقل ہوسکتا تھا۔ افغانستان میں کارروائی کا سوال ہی مختلف سیاسی اور جنگی حالات سے جڑا ہوا تھا۔
1983 کی اس رپورٹ کا ایک اہم دعویٰ یہ بھی تھا کہ کچھ لیبارٹریاں افغانستان میں دوبارہ قائم ہونے کی اطلاعات تھیں۔ CIA کے مطابق بعض شنواری افراد نے بھی افغانستان میں اپنی لیبارٹریاں دوبارہ قائم کرنے کی دعوت قبول کی۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ رپورٹ میں بیان کردہ یہ معلومات اس وقت کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹنگ اور ذرائع کی اطلاعات تھیں۔ انہیں عدالت سے ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔۔اسی طرح کسی ایک قبیلے کے بعض افراد کے مبینہ کردار کو پورے قبیلے سے منسوب کرنا بھی تاریخی اور صحافتی طور پر غلط ہوگا۔ اصل مسئلہ قبائل نہیں بلکہ وہ جغرافیائی اور سیاسی ماحول تھا جس میں ریاستی نگرانی محدود تھی اور سرحد پار نقل و حرکت نسبتاً آسان تھی۔
شاید اس رپورٹ کا سب سے دلچسپ حصہ یہ ہے کہ CIA نے صرف اسمگلروں اور قبائلی عمائدین کے اختلاف کا ذکر نہیں کیا بلکہ پاکستانی حکام کے درمیان بھی اختلافات کی نشاندہی کی۔ کچھ حکام سمجھتے تھے کہ قبائلی عمائدین کے ذریعے کارروائی کافی ہے۔ دوسرے حکام کا خیال تھا کہ صرف مذاکرات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اصل پروسیسرز کے خلاف براہِ راست کارروائی ضروری ہے۔ NWFP کے ہوم سیکریٹری جمشید برکی نے زیادہ سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستانی نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کے چیئرمین نے بڑے اسمگلروں کی گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کی حمایت کی۔ دوسری طرف بعض اعلیٰ حکام اس خدشے میں مبتلا تھے کہ خیبر میں بڑے پیمانے پر کارروائی قبائلی مزاحمت کو جنم دے سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی پالیسی کا بنیادی تضاد سامنے آتا ہے منشیات کے خلاف جنگ بھی ضروری تھی اور قبائلی علاقے میں استحکام بھی۔
1983 میں پاکستان صرف منشیات کے مسئلے سے نہیں نمٹ رہا تھا۔ افغانستان میں سوویت جنگ جاری تھی۔ پاکستان افغان مزاحمت کا اہم پشت پناہ تھا۔ سرحدی علاقوں میں قبائلی تعاون حکومت کے لیے سیاسی اور سکیورٹی اعتبار سے اہم تھا۔ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد بھی پاکستان میں موجود تھی۔ ایسے ماحول میں خیبر میں ایک سخت نارکوٹکس آپریشن محض پولیس کارروائی نہیں رہتا تھا۔ اس کے سیاسی اور سکیورٹی اثرات بھی ہو سکتے تھے۔CIA نے اسی خدشے کو اپنی رپورٹ میں نمایاں کیا۔اس کے مطابق بعض پاکستانی حکام کو خوف تھا کہ بہت زیادہ دباو¿ سے حکومت اور مسلح قبائلی عناصر کے درمیان ایسا تصادم پیدا ہوسکتا ہے جو علاقے کو غیر مستحکم کردے۔جب ریاست بڑے اسمگلروں تک پہنچنے کی کوشش کرے
CIA کا اندازہ تھا کہ اگر حکومت لنڈی کوتل کی لیبارٹریاں مکمل طور پر بند کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو ممکن ہے کہ اس کی توجہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں میں موجود بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورکس کی طرف منتقل ہوجائے۔ رپورٹ میں کراچی، لاہور اور راولپنڈی جیسے تجارتی مراکز کا ذکر کیا گیا۔ یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ کیونکہ منشیات کا کاروبار صرف وہ جگہ نہیں جہاں نشہ تیار ہوتا ہے۔ اس کا ایک پورا نیٹ ورک ہوتا ہے:خام مال ۔ پروسیسنگ ۔ بروکریج ۔ نقل و حمل ۔ بین الاقوامی اسمگلنگ ۔ صارف۔اگر ریاست صرف آخری یا پہلے مرحلے پر کارروائی کرے اور باقی نیٹ ورک برقرار رہے تو کاروبار ختم نہیں ہوتا، صرف راستہ بدلتا ہے۔
آج، چار دہائیاں بعد، 23 اگست 1983 کی یہ CIA رپورٹ پڑھتے ہوئے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ اس وقت کتنی لیبارٹریاں تھیں۔اصل سوال یہ ہے کہ ایک ریاست نے سرحدی علاقے میں ایک ایسے غیر قانونی نیٹ ورک کا مقابلہ کیسے کیا جس کی جڑیں جغرافیہ، تجارت، قبائلی نظام، افغانستان کی جنگ اور بین الاقوامی منڈی سے جڑی ہوئی تھیں رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ لیبارٹریاں بند کرنے کی کوشش ہوئی۔ گرفتاریاں ہوئیں۔ قبائلی عمائدین کو استعمال کیا گیا۔ مظاہرے ہوئے۔ کچھ لیبارٹریاں بند ہوئیں۔ کچھ زیرِ زمین گئیں۔ کچھ سرحد پار منتقل ہوئیں۔ اور پھر بھی تجارت جاری رہی۔ شاید یہی اس پوری داستان کا سب سے بڑا سبق ہے:
جرائم کے نیٹ ورک صرف چھاپوں سے ختم نہیں ہوتے؛ جب تک ان کی مالی، جغرافیائی اور سپلائی چین کی بنیادیں موجود رہیں، وہ اپنی شکل بدل لیتے ہیں۔خیبر کی تاریخ میں 1983 کا یہ باب اسی حقیقت کی ایک پرانی مثال ہے۔اور ایک سوال آج بھی باقی ہے کیا اس وقت ریاست نے صرف لیبارٹریوں سے جنگ کی تھی، یا اس پورے نیٹ ورک سے جس نے ان لیبارٹریوں کو زندہ رکھا؟ یہ فرق معمولی نہیں۔ کیونکہ لیبارٹری بند کرنا ایک کارروائی ہے۔ نیٹ ورک توڑنا ایک حکمتِ عملی۔
|