زمین میں جذب نہیں ہو رہا ہے خون میرا



ازقلم: ذوالفقار علی بخاری

قمر عباس قمر نے کیا خوب کہا تھا کہ:
یہ احتجاج عجب ہے خلاف تیغ ستم
زمین میں جذب نہیں ہو رہا ہے خون میرا

کراچی کے نوجوان تاجرمیر رضا علی خان کی موت اِس وقت ملک بھر میں زیر بحث ہے۔ میر رضا مقبول ڈیزرٹ چین وافلکس کے شریک مالک تھے۔ سوشل میڈیا پر المناک موت کے حوالے سے نوجوان کے حق میں اور مخالفت میں تبصرے جاری ہیں، جو واضح اعلان کر رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ خرابی ہے۔آپ کہ سکتے ہیں کہ مذکورہ واقعہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے رنگ کو کسی اور ہی انداز سے پیش کر رہا ہے۔پاکستان میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع بہت کم دستیاب ہیں۔ جب کوئی باصلاحیت نوجوان اپنی مددآپ کے تحت کامیاب ہوتا ہے تو اُس کے ساتھ ہونے والاغلط سلوک دوسروں کو سمجھا دیتا ہے کہ اُنھیں کس انداز سے کام کرنا ہوگا۔

کاروباری دنیا میں کامیابی کے بعد سازشوں کا ہوناایک فطری عمل ہے لیکن کسی کو جان سے مارنا کسی طور قابل قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کاروباری رقابت میں کسی فرد کو ختم کرنا کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتا ہے۔اگرچہ میر رضا کی موت کے پیچھے چھپے راز ابھی عیاں نہیں ہوئے۔ لیکن یہ کسی طور نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کامیابی سب کو ہضم ہو رہی ہوگی کہ ایک نوجوان اپنی محنت پر کامیاب تصورکیا جا رہا ہے اوردوسروں کے لیے مشعل راہ بن رہا ہے۔دنیا کا اولین قتل بھی رقابت کی وجہ سے ہوا تھا،اگرچہ قتل کے دیگر محرکات بھی اہم بنتے ہیں جیسا کہ زن، زر اورزمین۔کراچی میں بھتہ خوری بھی ایک اہم عنصر ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ہمارا سوال یہ نہیں ہے کہ اُسے یعنی میر رضا قتل کیوں کیا گیا ہے۔

میراسوال یہ ہے کہ آخر موت کے گھاٹ اترنے والے شخص کے خون کو اتنا سستا کیوں تصور کرلیا گیا کہ رائج قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور اُس کی تدفین کر دی گئی۔میر رضا کے ازسرنو ہونے والے پوسٹ مارٹم نے جو انکشافات کیے ہیں وہ حیران کن ہیں۔منظرعام پر آنے والی تفصیلات نے نہ صرف چونکا دیا ہے بلکہ پولیس کے ادارے پر کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں کہ آخر مرنے والے شخص کے ساتھ ایسی کون سی دشمنی تھی کہ اُسے بھرپور تحقیقات کیے بغیر خودکشی کے نام پر سپردخاک کر دیا گیا۔اِس ایک واقعے نے عیاں کر دیا ہے کہ پاکستان بھر میں یہ سب ہو رہا ہوگا لیکن وہاں کوئی جبران ناصر، ڈاکٹر سمعیہ سید یا شاہ زیب خانزادہ موجود نہیں ہے، جو معاملے کو اُجاگر کرے اور اداروں کو درست کام کرنے پر مائل کرے۔کیا لاکھوں روپے وصول کرنے والے اہل کاروں سے کام کرانے کے لیے بھی احتجاج یا تحریک چلانی ہوگی کہ وہ فرض شناسی دکھائیں؟

بے گناہ کا خون بولتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میر رضا کے والدین جرات اور بہادری کے ساتھ اپنے موقف پر ڈے ہوئے ہیں اور حقائق کی تلاش میں سرگرداں ہیں، یہ ہمیں بتا رہا ہے کہ کبھی کبھی انصاف کے حصول کے لیے جنگ لڑنی پڑتی ہے تاکہ حق و باطل کا فرق سامنے آسکے۔

بقول مصطفی زیدی
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

یہ المیہ ہے کہ کراچی جیسے شہر میں پے در پے سانحے رونما ہو رہے ہیں جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ اِس شہر میں رہنے والے خوف وہراس کا شکار ہو چکے ہیں کہ اُن کی حفاظت کرنے والے ہی اُنھیں بے یارو مددگار چھوڑنے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔جس شہر میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نہ صرف اسلحہ رکھنا معمول بنا لیا ہو بلکہ چوری کی وارداتوں میں ملوث مجرموں کو پکڑنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کروا لیے ہوں،اُنھیں یقینی طور پر پولیس کا محکمہ ناقابل تعریف محسوس ہوتا ہوگا۔اگر پولیس اپنے دستیاب وسائل کو چاہ کر استعمال نہ کرے تو یقینی طور پر عوام کو اپنا تحفظ خود ممکن بنا ہوگا اور جب ایسا ہوگا تب اداروں کی ساکھ مجروح ہوگی۔حکومت کو ملک بھر میں پولیس کے محکمے کی اصلاح کے لیے سنجیدہ نوعیت کے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ کل کو کسی اور میررضا کا لہو زمین میں جذب ہونے سے انکار نہ کرے۔اِس واقعے نے باضمیر افراد کو کھل کر سامنے آنے اورکام کرنے کاحوصلہ دیا ہے جو کہ قابل تعریف و قابل تقلید ہے۔

میر رضا علی خان کی موت پرچند باضمیر صحافیوں، ڈاکٹرسمعیہ سیداوروالدین نے جس انداز سے کلمہ حق بلند کیا ہے،اِسے پاکستانی معاشرے کا بدلتا ہوا چہرہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹرسمعیہ سید سمیت حقائق سامنے لانے والے اہل کاروں کو سرکاری ایوارڈ سے نوازنا چاہیے تاکہ مستقبل میں بھی ایسے افراد سامنے آسکیں جو فرض شناسی کی مثال بنیں۔
Zulfiqar Ali Bukhari
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 421 Articles with 647298 views I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More