��آن لائن گیم کھیلنا اور اس سے پیسہ کمانا
(Muhammad Shoaib Ikram, Karachi)
آن لائن گیم کھیلنا اور اس سے پیسہ کمانا انجینئر علامہ محمد شعیب اکرام اخترالقادری
|
|
آن لائن گیمز اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بنیادی طور پر دو صورتیں ہیں: پہلی صورت: ایسی گیم جس میں پہلے پیسے جمع کروائے جاتے ہیں اور پھر کھیل کے نتیجے میں ہار جیت کے ذریعے رقم میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے۔ یہ صورت شرعاً جوا (قمار) کے حکم میں ہے اور یہ بالکل ناجائز اور حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یَسْـئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا ترجمہ: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔ (سورۃ البقرۃ،آیت: 219)
دوسری صورت: ایسی آن لائن گیم جس میں ابتدا میں کوئی رقم بطور شرط یا فیس ادا نہیں کی جاتی، بلکہ محض شرکت کے بعد جیتنے کی صورت میں کمپنی یا پلیٹ فارم کی طرف سے انعامی رقم دی جاتی ہے، تو یہ صورت درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہو سکتی ہے۔ × وہ کھیل بذاتِ خود شرعاً جائز ہو اور اس میں کوئی حرام یا غیر شرعی امر شامل نہ ہو۔ × کھیل کے دوران کسی قسم کا قمار، شرط بازی یا دیگر غیر شرعی معاملات موجود نہ ہوں۔ × گیم یا اس کے دوران ظاہر ہونے والے اشتہارات و مناظر میں غیر شرعی تصاویر یا مواد شامل نہ ہو۔ × کھیل میں اس قدر غلو نہ ہو کہ فرائضِ شرعیہ (نماز، روزہ وغیرہ) میں کوتاہی یا غفلت واقع ہو۔ اس میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت پائی جاتی ہو(مثلاً ذہنی یا جسمانی صلاحیتوں کی مشق و ترقی)، محض لہو و لعب اور وقت کے ضیاع کیلئے نہ ہو، کیونکہ مؤمن کی یہ شان ہے کہ وہ ہر لایعنی اور بے مقصد کام سے اجتناب کرتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه ترجمہ: آدمی کے اسلام کے حسن سے ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو ترک کرے۔ (جامع الترمذی، جلد 4،صفحہ 558،مطبوعہ مصر) |
|