صحت مند چین کا وژن

صحت مند چین کا وژن
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

صحت مند اور طویل زندگی ہر معاشرے کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ بدلتی آبادی، بڑھتی عمر رسیدہ آبادی اور جدید طبی ضروریات کے پیش نظر دنیا بھر میں صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ چین نے بھی عوامی صحت کے معیار کو بلند کرنے کے لیے آئندہ پانچ برسوں کے لیے جامع منصوبہ جاری کیا ہے، جس میں بیماریوں کی روک تھام، طبی سہولیات تک مساوی رسائی، ڈیجیٹل صحت اور عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

چین نے اپنے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران اوسط متوقع عمر کو بڑھا کر 80 سال تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس وقت 2025 میں ملک میں اوسط عمر 79.25 سال ہے۔

چین کے قومی صحت منصوبے کا مقصد عوامی طبی خدمات کو مزید بہتر بنانا اور صحت مند چین کے قومی اقدام کو آگے بڑھانا ہے۔ منصوبے میں صحت کی سہولیات تک منصفانہ رسائی کو وسعت دینے، عوام میں فعال صحت مندانہ طرز زندگی کے شعور کو فروغ دینے اور صحت کے بنیادی اشاریوں کو بلند آمدنی والے ممالک کے معیار کے قریب لانے پر زور دیا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت عوامی صحت کے ہنگامی ردعمل کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے، بنیادی سطح پر بیماریوں کی روک تھام اور علاج کے نظام کو بہتر بنانے اور تمام شہریوں کے لیے زندگی کے ہر مرحلے پر صحت کی خدمات فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

نئے منصوبے میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت تمباکو نوشی سے پاک ماحول کے فروغ اور ترکِ تمباکو خدمات کو مضبوط بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ 15 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں سگریٹ نوشی کی شرح کم ہو کر 20 فیصد تک آ سکے۔
بچوں کی پیدائش اور خاندانی صحت کے شعبے میں بھی پالیسی فریم ورک کو بہتر بنانے، بانجھ پن کی تشخیص اور علاج کی خدمات کو معیاری بنانے اور معاون تولیدی ٹیکنالوجی کے استعمال کے انتظام کو مزید بہتر بنانے کا منصوبہ شامل ہے۔ مناسب معاون تولیدی خدمات کے لیے طبی اخراجات کی کوریج میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔


خواتین کی صحت کے حوالے سے چھاتی اور رحم کے سرطان کی اسکریننگ، ابتدائی تشخیص اور علاج کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اہل بچیوں کے لیے قومی حفاظتی ٹیکہ کاری پروگرام کے تحت ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین کی مفت فراہمی کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔

عمر رسیدہ افراد کی صحت کے لیے منصوبے میں ادویات کے مناسب استعمال کی رہنمائی، عمر رسیدہ طب میں خصوصی صلاحیت رکھنے والے ہسپتالوں کی ترقی، گھریلو بنیادوں پر بزرگوں کی دیکھ بھال کے نظام کو فروغ دینے اور معذوری یا ذہنی کمزوری کا شکار بزرگ افراد کے لیے نگہداشت کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

کام کرنے والی آبادی کے لیے بھی صحت کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس میں نئی صنعتوں اور روزگار کی نئی شکلوں سے متعلق پیشہ ورانہ بیماریوں کے خطرات کی شناخت اور جائزہ لینے کے نظام کو بہتر بنانا شامل ہے۔


معذور افراد اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے بھی صحت کے تحفظ کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں معذوری سے بچاؤ کے نئے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد، معذور بچوں کے لیے بحالی معاونت میں اضافہ اور بیماری کے باعث غربت میں دوبارہ جانے کے خطرے کی نگرانی اور معاونت کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

منصوبے میں طبی وسائل کی بہتر تقسیم پر بھی زور دیا گیا ہے۔ بڑے ہسپتالوں کی علاج اور تحقیق کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ بنیادی سطح کے طبی اداروں کی خدمات کو مقامی ضروریات کے مطابق بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

بحالیِ صحت کے شعبے میں افرادی قوت بڑھانے کے لیے خصوصی نرسوں اور معالجین کی تربیت کو فروغ دیا جائے گا۔ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2030 تک ہر 10 ہزار افراد کے لیے 0.7 بحالی معالجین اور 1.6 بحالی تھراپسٹس دستیاب ہوں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی آئندہ پانچ برسوں میں صحت کے شعبے کی ترقی کا اہم محرک بنے گی۔ منصوبے کے تحت قومی سطح کا ذہین صحت پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے مختلف علاقوں کے درمیان طبی ریکارڈ کا تبادلہ، طبی تصاویر تک بروقت رسائی، تشخیصی نتائج کی باہمی منظوری اور عوامی صحت سے متعلق معلومات کے بہتر انضمام کو ممکن بنایا جائے گا۔مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے ادویات سازی کی مکمل صنعتی چین کو جدید بنانے، نئی ادویات اور طبی آلات کی تیاری اور استعمال کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

چین صحت کے شعبے میں عالمی تعاون کو بھی مزید فروغ دے گا۔ منصوبے میں بڑے ہسپتالوں کی بنیاد پر صحت تعاون کے مراکز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ طبی تحقیق، جدید طبی ٹیکنالوجی کے استعمال اور بین الاقوامی طبی خدمات میں تعاون کو بڑھایا جا سکے۔اس کے علاوہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور عوامی صحت و روایتی چینی طب کے شعبوں میں بیرونِ ملک طبی معاونت کو وسعت دینے پر زور دیا گیا ہے۔

چین پہلے ہی عالمی ادارہ صحت کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک میں صحت تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر چکا ہے، جبکہ 160 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ صحت تعاون کے معاہدے بھی کیے جا چکے تھے۔اسی طرح منصوبے میں روایتی چینی طب کے معیار بندی نظام کو مزید بہتر بنانے اور اسے عالمی سطح پر فروغ دینے اور بین الاقوامی شناخت دلانے کی کوششوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

چین کا نیا قومی صحت منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک صحت کے شعبے کو صرف علاج تک محدود رکھنے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام، فعال صحت مندانہ طرز زندگی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور عالمی تعاون پر مبنی جامع نظام کی جانب لے جا رہا ہے۔ اوسط عمر میں اضافہ، طبی سہولیات تک بہتر رسائی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے اقدامات صحت مند چین کے وژن کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 2021 Articles with 1184660 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More