احساس کمتری اور اس سے نجات کے طریقے

احساس کمتری در حقیقت ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان دوسروں کے مد مقابل خود کو کمتر، قابلیت میں پیچھے یا اہمیت کے لحاظ سے کم جاننے لگتا ہے۔ اس احساس کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کا زندگی کی طرف مثبت رویہ متاثر ہوتا ہے۔ اس کا علاج بروقت نہ کیا جاۓ تو یہ مایوسی اور تنہائ کی وجہ بن جاتا ہے۔
احساس کمتری کی کوئ ایک وجہ نہیں ہوتی۔ بچپن سے مسلسل تنقید، دوسروں سے موازنہ، ناکامیوں کا ڈر،معاشرتی دباؤ،خد و خال کے بارے میں احساسات، اور دوسروں کی کامیابیوں سے موازنہ کرتے ہوۓ خود کو ناکام جاننا۔ یہ وہ چند وجوہات ہیں جو اس احساس کو آہستہ آہستہ بڑھا دیتی ہیں۔ اکثر انسان اپنی کچھ کمزوریوں کو اپنی پوری شخصیت پہ حاوی کر لیتا ہے اور اپنی خوبیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتا ہے۔انسان نہ صرف ذہنی سکون سے جاتا ہے بلکہ اس کی عملی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے اشخاص نہ تو نۓ مواقع کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور نہ ہی اپنی راۓ کو قابل قدر جانتے ہیں۔ وہ خود کوئ فیصلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور دوسروں کی منظوری کے محتاج رہتے ہیں۔ بہت سی صلاحیتوں کے باوجود انہیں خود پہ یقین نہیں ہوتا اور وہ اپنی منزل تک پہنچ نہیں پاتے۔
اب خوش آئند پہلوؤں کی طرف متوجہ یوں تو امید کی کرن یہ ہے کہ احساس کمتری سے نجات ممکن ہے۔ پہلا قدم اس کی طرف یہ ہے کہ خود کو قبول کیا جاۓ۔ ہر شخص اپنی ذات میں منفرد ہے اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ انسان خوبیوں اور خامیوں کا پیکر ہے۔ موازنے کو ختم کر کے خود کو آنے والے کل میں بہتر مقام پر دیکھنے کی کوشش کریں۔ اپنی کامیابیوں کو یاد رکھیں اور ان پر شکر ادا کریں اور اپنی خوبیوں کو نعمتوں میں شمار کریں۔ایک بہت اہم پیش رفت یہ ہے کہ اپنی سوچ کو منفی ہونے سے بچائیں۔کوئ بھی منفی سوچ جیسے ہی ذہن میں آۓ اس کو حقیقت پسندانہ اور حوصلہ افزا خیالات سے تبدیل کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔ اپنی دوستی اور تعلقات مثبت لوگوں سے رکھیں اور ایسے لوگوں سے اجتناب کریں جو کسی نہ کسی طریقے سے آپ کو نیچا اور خود کو اونچا دکھانا چاہتے ہوں۔نئ مہارتیں سیکھانا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے اپنے اہداف کی طرف گامزن رہنا خود اعتمادی میں اظافہ کرتا ہے۔
اس سلسلے میں کسی ماہر نفسیات سے رہنمائ لینا ایک عقلمندی کا فیصلہ ہے کیونکہ ذہنی اور جسمانی صحت ساتھ ساتھ ہیں۔ احساس کمتری شدید ہونے کی صورت میں بر وقت مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ باشعور ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی خود کو حقیر اور کمتر سمجھنا پسند نہیں کیا گیا۔ ہر شخص خدا داد صلاحیتوں کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا گیا ہے اور ہر شخص کی اپنی اہمیت اور مقصد ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"اور ہم نے یقیناً بنی آدم کو عزت بخشی۔"(سورۃ الاسراء،70:17)
اس آیت میں یہ پیغام واضح ہے کہ ہر شخص عزت اور وقار کا حق دار ہے۔
احساس کمتری میں مبتلا شخص ایک زنجیر سے بندھا ہوتا ہے جو اسے آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔ درست سوچ، مثبت طرز حیات، اور خود اعتمادی کے ساتھ کامل ایمان ہو تو اس پر قابو پانا ممکن ہے۔ اپنی قدر کی پہچان انسان کو ایک باوقار اور کامیاب زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔ 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Syeda Khair-ul-Bariyah
About the Author: Syeda Khair-ul-Bariyah Read More Articles by Syeda Khair-ul-Bariyah: 28 Articles with 51140 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.