موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج اور جدید شہری نظم و نسق کی عمدہ مثال
(Shahid Afraz Khan, Islamabad)
|
موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج اور جدید شہری نظم و نسق کی عمدہ مثال تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دنیا بھر کے بڑے شہروں کے لیے ایک نئے امتحان کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ شدید بارشیں، طاقتور سمندری طوفان، سیلاب اور بلند ہوتی سمندری لہریں اب محض موسمی واقعات نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے اور ہنگامی انتظامات کی صلاحیت کا عملی امتحان بن چکے ہیں۔ چین نے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مربوط شہری منصوبہ بندی کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے، جس کی نمایاں مثال شنگھائی میں سامنے آنے والے اقدامات ہیں۔
2024 میں صرف تین روز کے وقفے سے دو طاقتور سمندری طوفان شنگھائی سے ٹکرائے، جو موسمیاتی ریکارڈ میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ ان طوفانوں نے اس ساحلی شہر کو تیز ہواؤں، موسلا دھار بارش، سمندری طغیانی اور شہری سیلاب جیسے متعدد خطرات سے بیک وقت دوچار کر دیا، تاہم اس واقعے نے شہر کے جدید شہری انتظامی نظام اور ہنگامی تیاریوں کا بھی کامیاب امتحان لیا۔
دریائے یانگسی کے دہانے پر واقع شنگھائی جغرافیائی لحاظ سے سمندری طوفانوں اور سیلاب کے خطرات سے دوچار رہتا ہے۔ شہر میں ہزاروں بلند و بالا عمارتیں، سینکڑوں کلومیٹر طویل ریل نیٹ ورک، شیشے سے مزین عمارتیں اور لاکھوں بیرونی اشتہاری ڈھانچے موجود ہیں، جن کی وجہ سے شدید موسم کے دوران خطرات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی حدت میں اضافے کے باعث شنگھائی میں شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کے واقعات اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ بار، زیادہ شدت اور اچانک رونما ہو رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں بعض علاقوں میں ایک گھنٹے کے دوران ہونے والی بارش نے صدی میں ایک مرتبہ ہونے والی بارش کا ریکارڈ بھی عبور کر لیا، جبکہ سمندری طوفانوں کے راستے شمال کی جانب منتقل ہونے سے شنگھائی پر براہ راست حملوں کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ان خطرات سے نمٹنے کے لیے شنگھائی نے 2025 میں مصنوعی ذہانت پر مبنی موسمیاتی پیش گوئی کا جدید مرکز قائم کیا، جہاں مقامی طور پر تیار کیے گئے دو جدید ماڈلز "یوشی" اور "فویاو" کو عملی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ نظام ریڈار، سیٹلائٹ، خودکار موسمیاتی اسٹیشنوں اور دیگر ڈیٹا کو چند سیکنڈ میں یکجا کرکے بارش، گرج چمک اور شدید موسمی حالات کی انتہائی تیز رفتار پیش گوئی فراہم کرتا ہے۔
ان جدید نظاموں کی بدولت شدید موسمی حالات کی وارننگ پہلے کے مقابلے میں 15 سے 45 منٹ پہلے جاری کی جا رہی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں چار گھنٹے سے زائد پہلے پیشگی اطلاع بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اضافی وقت سے متعلقہ اداروں کو پمپنگ مشینری تعینات کرنے، ٹریفک کی نگرانی، حساس علاقوں کو خبردار کرنے اور ہنگامی اقدامات بروقت مکمل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
شہر میں مرحلہ وار وارننگ کا باقاعدہ نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ سمندری طوفان کی صورت میں پانچ روز قبل سے مسلسل نگرانی، مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکنہ راستے کا تجزیہ، مشترکہ مشاورت، وارننگ اور مختلف شعبوں کے لیے خطرے سے متعلق خصوصی اطلاعات جاری کی جاتی ہیں، جبکہ اچانک پیدا ہونے والے موسمی حالات کے لیے ایک گھنٹہ پہلے فوری انتباہی نظام فعال ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب شہری سیلاب سے بچاؤ کے لیے بھی وسیع پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 1998 سے شہر کے نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے اور اب تک سینکڑوں مقامات پر بہتری لائی جا چکی ہے۔ پرانے رہائشی علاقوں میں بارش اور سیوریج کے نظام کو الگ کرنے، نکاسی آب کی بوسیدہ لائنوں کی تبدیلی اور پانی کے بہاؤ کی صلاحیت بڑھانے پر بھی کام جاری ہے۔
حالیہ برسوں میں شنگھائی نے ایسا مربوط نظام تشکیل دیا ہے جس میں بارش کے پانی کے ذخیرے، موبائل پمپنگ گاڑیاں اور ہنگامی ذخیرہ گاہیں شامل ہیں۔ شدید بارش کے دوران یہ گاڑیاں مختلف علاقوں سے پانی نکال کر عارضی ذخیرہ گاہوں میں منتقل کرتی ہیں تاکہ بعد میں اسے مرحلہ وار خارج کیا جا سکے اور نکاسی آب کے نظام پر اچانک دباؤ نہ پڑے۔
شہر کے متعدد پارکوں اور سبز مقامات کو بھی بارش کے پانی کے قدرتی ذخیرے میں تبدیل کیا گیا ہے۔ نشیبی سبزہ زار، مصنوعی جھیلیں، پانی جذب کرنے والے راستے اور آبی پودے نہ صرف شہری ماحول کو بہتر بناتے ہیں بلکہ شدید بارش کے دوران اضافی پانی کو جذب کرکے سیلاب کے خطرات بھی کم کرتے ہیں۔
شنگھائی نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ویڈیو نگرانی کے نظام کو بھی سیلابی خطرات سے دوچار علاقوں میں فعال کیا ہے، جہاں زیر زمین راستوں اور حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے تاکہ پانی جمع ہونے کی فوری نشاندہی اور بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ سمندری طوفان کی آمد سے قبل دریاؤں اور آبی گزرگاہوں میں پانی کی سطح کم کرکے کروڑوں مکعب میٹر اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی پیدا کی جاتی ہے۔
شنگھائی کا تجربہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں شہری تحفظ صرف مضبوط عمارتیں تعمیر کرنے کا نام نہیں بلکہ بروقت پیش گوئی، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر نکاسی آب، مربوط ہنگامی منصوبہ بندی اور مسلسل نگرانی پر مشتمل ایک جامع نظام کا تقاضا کرتا ہے۔ چین کے بڑے شہر اسی حکمت عملی کے تحت اپنی شہری منصوبہ بندی کو مسلسل جدید بنا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں شدید موسمی چیلنجز کے باوجود عوام کی جان و مال، معیشت اور شہری زندگی کو زیادہ محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکے۔ |
|