درباری سوچ کیسے پیدا کی جاتی ہے

(پارٹ 1)
درباری سوچ کیسے پیدا کی جاتی ہے؟

ہم عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ درباری سوچ حکمران پیدا کرتے ہیں. شاید یہی اس موضوع کی پہلی اور سب سے بڑی غلط فہمی ہے. حکمران درباری ضرور استعمال کرتے ہیں، مگر درباری سوچ کی پیدائش دربار میں نہیں ہوتی. اس کی پرورش معاشرے میں ہوتی ہے.

دربار تو صرف ان ذہنوں کو جمع کرتا ہے جو پہلے ہی اپنی آزاد سوچ کسی شخصیت، نظریے یا مفاد کے سپرد کر چکے ہوتے ہیں. اس حقیقت کو سمجھے بغیر ہم ہر دور میں نئے چہروں کو الزام دیتے رہیں گے، مگر بیماری اپنی جگہ برقرار رہے گی.

درباری سوچ کی بنیاد اس دن نہیں پڑتی جب کوئی شخص اقتدار کے قریب پہنچتا ہے، بلکہ اس دن پڑتی ہے جب وہ سچ سے زیادہ اپنی وابستگی کو عزیز سمجھنے لگتا ہے.

یہی وہ لمحہ ہے جب اصول خاموش ہو جاتے ہیں اور شخصیات بولنے لگتی ہیں. پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ "صحیح کیا ہے؟" بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ "ہمارے لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟".

یہاں سے عقل ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کا رخ بدل جاتا ہے. انسان دلیل تلاش کرنا نہیں چھوڑتا. وہ صرف اپنی پسند کے حق میں دلیلیں تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے. یہی درباری ذہن کی سب سے خطرناک خصوصیت ہے.

اسے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ اس نے اپنی غیر جانب داری کھو دی ہے، کیونکہ وہ خود کو ہر وقت دلیل کے ساتھ سمجھتا ہے. درباری سوچ صرف خوف سے پیدا نہیں ہوتی. اگر ایسا ہوتا تو اقتدار ختم ہوتے ہی درباری بھی ختم ہو جاتے. حقیقت یہ ہے کہ انسان کو صرف ڈر نہیں چلاتا، بلکہ مفاد، شہرت، سماجی قبولیت، ترقی کی خواہش اور گروہی شناخت بھی اسی شدت سے اس کی رائے پر اثر انداز ہوتی ہے.

بعض لوگ خاموش اس لیے نہیں ہوتے کہ انہیں سزا کا خوف ہوتا ہے، بلکہ اس لیے ہوتے ہیں کہ انہیں انعام کھونے کا اندیشہ ہوتا ہے. اسی لیے ہر معاشرہ اپنے درباری خود پیدا کرتا ہے. گھر میں اگر بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ بڑے کی بات پر سوال نہیں ہوتا، تعلیمی اداروں میں اگر اطاعت کو سوچ پر ترجیح دی جائے، مذہبی حلقوں میں اگر اختلاف کو بے ادبی سمجھا جائے، سیاسی جماعتوں میں اگر قائد کی رائے آخری سچ قرار دے دی جائے، اور سماجی حلقوں میں اگر مقبولیت کو سچائی پر فوقیت ملنے لگے، تو پھر دربار قائم ہونے سے بہت پہلے درباری ذہن تیار ہو چکے ہوتے ہیں.

یہ بیماری صرف سیاست کی نہیں. ہر نظریہ، ہر جماعت، ہر مذہبی تنظیم، ہر علمی حلقہ، حتیٰ کہ ہر سماجی تحریک بھی اپنے درباری پیدا کر سکتی ہے.

جہاں سوال پوچھنا مشکل اور تعریف کرنا آسان ہو جائے، وہاں سمجھ لیجیے کہ فکر کی جگہ وفاداری نے لے لی ہے. سوشل میڈیا نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے.

کبھی انسان دربار میں جا کر صرف ایک آواز سنتا تھا، آج الگورتھم اس کے ہاتھ میں ایک ایسا دربار رکھ دیتا ہے جہاں اسے ہر لمحہ صرف وہی دکھائی دیتا ہے جس پر وہ پہلے سے یقین رکھتا ہے. اسے یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ پوری دنیا اسی کی طرح سوچ رہی ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ صرف اپنے ہی خیالات کی بازگشت سن رہا ہوتا ہے.

لیکن یہاں ایک فرق کو سمجھنا ضروری ہے. ہر وفادار انسان درباری نہیں ہوتا. ادارے، نظریات اور تعلقات وفاداری کے بغیر قائم بھی نہیں رہ سکتے.

درباری وہ ہے جو وفاداری کی خاطر سچ کو قربان کر دے، اور اصولوں کو صرف اپنے مخالفین کے لیے محفوظ رکھے. شاید درباری سوچ کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ وہ ایک ہی عمل کے لیے دو مختلف پیمانے رکھتی ہے.

اپنا کرے تو مصلحت، مخالف کرے تو جرم. اپنا بولے تو بصیرت، دوسرا بولے تو سازش. انصاف اسی لمحے مر جاتا ہے جب معیار بدلنے لگتے ہیں. ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ معاشرے آمروں سے تباہ ہوتے ہیں. مگر تاریخ شاید ایک اور سبق دیتی ہے. آمریتیں صرف وہاں کامیاب ہوتی ہیں جہاں آزاد ذہن کم اور درباری ذہن زیادہ ہوں.

طاقت کبھی اکیلے معاشروں کو غلام نہیں بناتی. غلام ذہن طاقت کو راستہ دیتے ہیں. اس لیے درباری سوچ سے نجات کسی ایک حکمران، جماعت یا نظام کو بدلنے سے نہیں آئے گی. اس کے لیے ہمیں اپنی فکری عادتیں بدلنا ہوں گی. سوال پوچھنے کو گستاخی نہیں، دیانت سمجھنا ہوگا. اپنی پسندیدہ شخصیات کو بھی اسی ترازو میں تولنا ہوگا جس میں ہم اپنے مخالفین کو تولتے ہیں. کیونکہ دربار بدلنے سے معاشرے نہیں بدلتے. معاشرے اس دن بدلتے ہیں جب لوگ شخصیات کی نہیں، اصولوں کی وفاداری سیکھ لیتے ہیں.

عبدالباسط سروہی 

 

Abdul Basit Sarohi
About the Author: Abdul Basit Sarohi Read More Articles by Abdul Basit Sarohi: 15 Articles with 5813 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.