ہیپاٹائٹس کے خلاف جنگ، چینی اور مغربی طب کا امتزاج
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
ہیپاٹائٹس کے خلاف جنگ، چینی اور مغربی طب کا امتزاج تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ہیپاٹائٹس بی اور سی سمیت وائرل ہیپاٹائٹس آج بھی دنیا بھر میں صحت عامہ کے اہم مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ اگر اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ بتدریج جگر کے سکڑاؤ اور جگر کے سرطان جیسے سنگین امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے 2030 تک وائرل ہیپاٹائٹس کو صحت عامہ کے خطرے کے طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
چین میں بھی وائرل ہیپاٹائٹس کے خلاف طویل عرصے سے اقدامات جاری ہیں۔ متعلقہ اعداد و شمار کے مطابق چین میں لاکھوں افراد دائمی ہیپاٹائٹس بی وائرس سے متاثر ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ویکسی نیشن کے دائرہ کار میں توسیع، نئے انفیکشنز کی روک تھام، اور ہیپاٹائٹس سے متعلق جگر کے سرطان کے علاج و بچاؤ پر مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔
اس کوشش میں روایتی چینی طب کا کردار بھی نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جدید مغربی طب وائرس کی افزائش کو روکنے میں مؤثر ثابت ہوتی ہے، جبکہ روایتی چینی طب مریض کی مجموعی صحت، علامات میں کمی، جگر کے افعال کو بہتر رکھنے اور جگر کے ریشے دار ہونے کے عمل کو سست کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
روایتی چینی طب کا بنیادی تصور مریض کی مجموعی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج فراہم کرنا ہے۔ اس طریقہ علاج میں تھکن، پیٹ کے پھولنے، جسمانی بے آرامی اور دیگر علامات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بعض پیچیدگیوں کو قابو کرنے پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔
متعلقہ طبی حلقوں کے مطابق روایتی چینی طب صرف ادویات تک محدود نہیں بلکہ طرز زندگی میں بہتری کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی، متوازن غذا اور مناسب جسمانی سرگرمی کو جگر کی صحت بہتر رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
چین میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ آلودہ خوراک اور پانی سے پھیلنے والے ہیپاٹائٹس اے اور ای کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کیا گیا ہے، جبکہ خون کی منتقلی کے ذریعے ہیپاٹائٹس بی اور سی کی منتقلی پر بھی مؤثر قابو پایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ماں سے بچے میں ہیپاٹائٹس بی کی منتقلی کو ختم کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
حالیہ برسوں میں مختلف طبی اداروں نے ہیپاٹائٹس کی مفت اسکریننگ، عوامی آگاہی مہمات اور طبی مشاورت کے پروگرام شروع کیے ہیں۔ ان اقدامات میں روایتی چینی طب سے متعلق صحت کے جائزے اور انفرادی نوعیت کی رہنمائی بھی شامل کی جا رہی ہے۔
متعلقہ اداروں کی جانب سے 2025 سے 2030 تک وائرل ہیپاٹائٹس کی روک تھام اور علاج کے لیے ایک عملی منصوبہ بھی ترتیب دیا گیا ہے، جس میں تشخیص اور علاج کے مربوط نظام کو بہتر بنانے، روایتی چینی طب کے طبی طریقہ کار کو مزید منظم کرنے اور صحت کے جامع انتظام کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس جیسے پیچیدہ امراض سے نمٹنے کے لیے صرف ایک طریقہ علاج کافی نہیں، بلکہ مختلف طبی علوم کے مؤثر امتزاج کی ضرورت ہے۔ اسی سوچ کے تحت چین میں روایتی چینی طب اور مغربی طب کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
یہ رجحان صرف ہیپاٹائٹس تک محدود نہیں بلکہ دیگر بیماریوں کے علاج میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ سرطان سمیت کئی شعبوں میں دونوں طبی نظاموں کو یکجا کرنے کے لیے مربوط مراکز اور علاج کے نئے ماڈلز تیار کیے جا رہے ہیں۔
صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق جدید طبی سائنس اور روایتی تجربات کے درمیان تعاون مستقبل کے علاج کے نظام کو مزید جامع بنا سکتا ہے۔ ہیپاٹائٹس کے خلاف جاری کوششیں اس بات کی مثال ہیں کہ جب مختلف طبی طریقے مشترکہ مقصد کے لیے کام کرتے ہیں تو مریضوں کو زیادہ مؤثر اور متوازن علاج کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ چین میں روایتی اور جدید طب کے امتزاج پر بڑھتی توجہ اسی وسیع تر سوچ کا حصہ ہے، جس کا مقصد بیماریوں کا علاج کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بہتر اور صحت مند زندگی فراہم کرنا ہے۔ |
|
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.