چین میں دل کا آپریشن، روبوٹ کے ہاتھوں

چین میں دل کا آپریشن، روبوٹ کے ہاتھوں
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دل کی سرجری کا تصور عموماً ایسے آپریشن تھیٹر سے جڑا ہوتا ہے جہاں ڈاکٹر اور طبی عملہ مریض کے گرد موجود رہتے ہیں، مگر جدید ٹیکنالوجی نے اس منظر کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ چین میں حال ہی میں ایک پیچیدہ دل کا آپریشن مقامی طور پر تیار کردہ جراحی روبوٹ کے ذریعے انجام دیا گیا، جہاں آپریشن ٹیبل کے قریب حفاظتی لباس میں طبی عملے کی موجودگی کے بجائے سرجن نے آپریٹنگ روم سے باہر بیٹھ کر روبوٹک نظام کو کنٹرول کیا۔

یہ کامیاب تجربہ ایک 74 سالہ مریض کے دل کے متاثرہ مائٹرل والو کی کم تکلیف دہ مرمت کے لیے کیا گیا۔ سرجن نے آپریٹنگ روم کے باہر نصب کنسول پر بیٹھ کر مانیٹر کے ذریعے دل کی صورتحال کا جائزہ لیا اور جوائے اسٹک اور دیگر کنٹرولز کی مدد سے روبوٹک بازو کو حرکت دی۔ تقریباً 90 منٹ میں دھڑکتے ہوئے دل پر یہ پیچیدہ عمل مکمل کر لیا گیا۔



متعلقہ طبی ٹیم کے مطابق یہ روبوٹ کے ذریعے اس مرکز میں ہونے والی 29ویں سرجری تھی۔ ابتدائی تجربات کے مقابلے میں اب طبی عملہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں کہیں زیادہ مہارت حاصل کر چکا ہے اور پیچیدہ آپریشن نسبتاً زیادہ روانی سے انجام دیے جا رہے ہیں۔

چین میں دل کے والوز کی بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً ڈھائی کروڑ بتائی جاتی ہے۔ آبادی میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنے کے ساتھ اس بیماری کی تشخیص اور علاج کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ روایتی طریقوں میں کامیابی بڑی حد تک سرجن کے تجربے اور ہاتھ کی مہارت پر منحصر ہوتی ہے، جبکہ بعض پیچیدہ آپریشنز میں انتہائی باریک حرکات کی ضرورت ہوتی ہے۔

روایتی طریقہ کار میں طبی عملے کو ایک اور خطرے کا بھی سامنا رہتا ہے۔ دل کے بعض مداخلتی آپریشن ایکسرے اور شعاعوں کی مسلسل نگرانی میں کیے جاتے ہیں، جس کے باعث طبی عملے کو طویل عرصے تک تابکاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ماہر طبی سہولتوں کا مختلف علاقوں میں غیر مساوی پھیلاؤ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے ہر مریض کو اعلیٰ سطح کے ماہرین تک فوری رسائی حاصل نہیں ہوتی۔

روبوٹک نظام ان مسائل میں سے کئی کو ایک ساتھ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سرجن ایک مرکزی کنسول سے روبوٹک بازو کو کنٹرول کرتا ہے، جبکہ نظام انتہائی باریک حرکات انجام دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ روبوٹک بازو انسانی ہاتھ کی قدرتی لرزش کو بھی کم کر سکتا ہے، جس سے دھڑکتے ہوئے دل پر ملی میٹر سے بھی کم سطح کی درستگی کے ساتھ کام کرنا ممکن ہوتا ہے۔

اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ سرجن کو آپریشن کے دوران براہ راست ایکسرے شعاعوں کے سامنے موجود رہنے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ یوں روبوٹک کنٹرول کے ذریعے ایسی سرجری ممکن ہوتی ہے جس میں طبی عملے کے لیے تابکاری سے متعلق پیشہ ورانہ خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

چین میں اس ٹیکنالوجی پر کئی برس سے کام جاری ہے اور اس دوران روبوٹک مائٹرل والو کی مرمت، دور بیٹھ کر روبوٹک سرجری اور ایورٹک والو کی تبدیلی سمیت متعدد اہم تجربات کیے جا چکے ہیں۔ کم تاخیر والی مواصلاتی ٹیکنالوجی، بصری نگرانی اور روبوٹک کنٹرول کے امتزاج نے دور دراز مقامات سے پیچیدہ طبی مداخلت کے امکانات بھی پیدا کیے ہیں۔

یہاں مصنوعی ذہانت اور فائیو جی جیسی ٹیکنالوجیز بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انتہائی تیز رفتار مواصلاتی رابطہ روبوٹ اور سرجن کے درمیان احکامات کی ترسیل میں تاخیر کو کم کرتا ہے، جبکہ روبوٹک نظام میں موجود سینسر اور بصری ٹیکنالوجی سرجن کو آپریشن کے دوران زیادہ درست معلومات فراہم کرتے ہیں۔

حفاظت کے لیے بھی نظام میں متعدد تہیں شامل کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر روبوٹک آلات مخصوص فاصلے تک حرکت کرنے کے بعد خود بخود رک سکتے ہیں تاکہ سرجن دوبارہ صورتحال کا جائزہ لے کر اگلی حرکت کی اجازت دے۔ اگر آلہ مقررہ حدود سے باہر جانے لگے تو نظام انتباہ جاری کر سکتا ہے یا حرکت روک سکتا ہے۔ اس طرح انسانی تھکن یا غیر ارادی حرکت سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تاہم اس پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ روبوٹ نے ڈاکٹر کی جگہ لے لی ہے۔ موجودہ نظام بنیادی طور پر ایک انتہائی درست طبی آلہ ہے، خود مختار ڈاکٹر نہیں۔ یہ اپنے طور پر پیچیدہ طبی فیصلے نہیں کر سکتا، اچانک پیدا ہونے والی صورتحال کا انسانی فہم کے مطابق جواب نہیں دے سکتا اور آپریشن کے دوران کسی غیر متوقع تبدیلی یا آلے میں خرابی کی صورت میں تجربہ کار سرجن کی موجودگی ضروری رہتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر عام کرنے میں بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ روبوٹک نظام کی لاگت اب بھی زیادہ ہے، طویل مدتی طبی آزمائشوں اور وسیع پیمانے پر کلینیکل ڈیٹا کی ضرورت ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں نیٹ ورک کے معیار، طبی ذمہ داری اور دور دراز سرجری سے متعلق قانونی و انتظامی اصول بھی مزید واضح کرنا ہوں گے۔

اس کے باوجود طبی شعبے میں اس ٹیکنالوجی کی سمت واضح دکھائی دیتی ہے۔ آنے والے چند برسوں میں روبوٹک دل کی مداخلت بڑے قلبی مراکز میں معمول کے استعمال کی جانب بڑھ سکتی ہے، جبکہ ایک ہی صوبے یا شہر کے مختلف طبی مراکز کے درمیان دور بیٹھ کر آپریشن کے تجربات بھی بتدریج بڑھنے کی توقع ہے۔

مستقبل میں مصنوعی ذہانت اس عمل کو مزید آگے لے جا سکتی ہے۔ اگر روبوٹک نظام کو بڑی تعداد میں طبی معلومات، دل کی دھڑکن کے مختلف نمونوں اور پیچیدہ آپریشنز کے ڈیٹا سے تربیت دی جائے تو ممکن ہے کہ وہ کسی والو کی کلپ کو دل کی دھڑکن کے عین مناسب لمحے پر رکھنے کے لیے سرجن کو زیادہ درست رہنمائی فراہم کرے۔ طویل مدت میں روبوٹک نظام کی حرکات انسانی ہاتھ سے بھی زیادہ باریک اور درست ہونے کا امکان موجود ہے۔

اصل اہمیت شاید یہی ہے کہ چین میں طب اور ٹیکنالوجی کا یہ امتزاج صرف ایک کامیاب آپریشن تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسے مستقبل کی طرف اشارہ ہے جہاں ڈاکٹر کا تجربہ، روبوٹ کی باریک حرکات، مصنوعی ذہانت کا تجزیہ اور تیز رفتار مواصلاتی نظام مل کر علاج کو زیادہ درست، محفوظ اور دور دراز مریضوں کے لیے بھی قابل رسائی بنا سکتے ہیں۔ دل کی دھڑکن انسانی ہے، مگر اسے بچانے کے طریقے اب تیزی سے مشینی ذہانت اور روبوٹک ہاتھوں کی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں۔ 

 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 2021 Articles with 1184482 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More