چاروں موسموں پر مشتمل ایک پائیدار سیاحتی معیشت

چاروں موسموں پر مشتمل ایک پائیدار سیاحتی معیشت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

شدید گرمی کے موسم میں جب بیشتر لوگ ٹھنڈی جگہوں کی تلاش میں ہوتے ہیں، چین میں ایک ایسی منفرد دنیا بھی آباد ہے جہاں چند ہی لمحوں میں گرمی سے نکل کر برفانی ماحول میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ باہر درجہ حرارت تقریباً 30 ڈگری سینٹی گریڈ ہو اور اندر منفی 10 ڈگری کی یخ بستہ فضا، یہ منظر آج چین کی جدید سیاحتی منصوبہ بندی اور اختراعی سوچ کی ایک دلچسپ مثال بن چکا ہے۔

چین کے شمالی حصے میں واقع معروف برفانی سیاحتی مقام ہاربن میں قائم ایک جدید انڈور برفانی پارک میں داخل ہوتے ہی سیاح خود کو برف سے تراشے گئے محلات، گرجا گھروں، برفانی مجسموں اور رنگ برنگی روشنیوں سے مزین ایک ایسی دنیا میں پاتے ہیں جہاں مصنوعی برف باری، برفانی سلائیڈز اور مختلف تفریحی سرگرمیاں سال بھر جاری رہتی ہیں۔گرمیوں کے موسم میں برفانی ماحول کا یہ تجربہ نہایت منفرد اور حیرت انگیز محسوس ہوتا ہے۔ برف سے تراشے گئے نفیس فن پارے اور یخ بستہ ماحول اس احساس کو مزید دلکش بنا دیتے ہیں کہ جیسے موسمِ سرما کو گرمیوں میں منتقل کر دیا گیا ہو۔
ہاربن شہر طویل عرصے سے اپنی شدید سردیوں، برف کے مجسموں اور موسمِ سرما کے کھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ تاہم اب یہاں صرف سردیوں تک محدود رہنے کے بجائے سال بھر برفانی سیاحت کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ سیاح ہر موسم میں ان سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔

2024 میں قائم کیے گئے اس جدید انڈور برفانی مرکز کا رقبہ تقریباً 23 ہزار 800 مربع میٹر ہے، جہاں اندرونی درجہ حرارت مسلسل منفی 8 سے منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 20 ہزار مکعب میٹر قدرتی برف استعمال کی جاتی ہے، جسے موسمِ سرما میں محفوظ کر کے مخصوص درجہ حرارت پر ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ مصنوعی رنگین برف، شفاف برف اور برف میں محفوظ کیے گئے پھول بھی مختلف فن پاروں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔

اس برفانی دنیا میں صرف مجسمے ہی نہیں بلکہ آئس شو، اسکیٹنگ، کرتب بازی اور موسیقی پر مبنی شاندار ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں، جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔گرمیوں کے دوران بعض اوقات اس برفانی پارک میں روزانہ آنے والے سیاحوں کی تعداد پانچ ہزار سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔ یہاں نہ صرف چین کے گرم علاقوں سے لوگ گرمی سے بچنے کے لیے آتے ہیں بلکہ متعدد غیر ملکی سیاح بھی اس منفرد تجربے سے لطف اندوز ہونے پہنچ رہے ہیں۔

برفانی مجسموں اور تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں موسمِ سرما کے کھیل بھی اس شہر کی سیاحت کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ جدید انڈور اسکی ریزورٹس میں ہر عمر کے افراد سال کے بارہ مہینے اسکیئنگ کی تربیت اور تفریح سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

تقریباً 80 ہزار مربع میٹر پر مشتمل ایک انڈور اسکی مرکز میں مختلف درجوں کی آٹھ اسکی ڈھلوانیں موجود ہیں، جہاں ابتدائی تربیت حاصل کرنے والوں سے لے کر پیشہ ور اسکیئرز تک سب کے لیے سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ جدید درجہ حرارت کنٹرول اور مصنوعی برف بنانے کے نظام کی بدولت موسم کی کوئی پابندی باقی نہیں رہی۔

ان منصوبوں کا مقصد برفانی کھیلوں کو صرف سردیوں تک محدود رکھنے کے بجائے ہر موسم اور ہر عمر کے افراد کے لیے قابلِ رسائی بنانا ہے۔ اسی مقصد کے تحت سال بھر مختلف کھیلوں کے مقابلے، خاندانی تقریبات اور عوامی تفریحی پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

یہ انڈور برفانی منصوبے اب چین کی موسمِ گرما کی سیاحت کا بھی اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ سفری اداروں کے مطابق جون کے آخر سے موسمِ گرما کی تعطیلات، تعلیمی اداروں کی چھٹیوں اور خاندانی سیاحت کے باعث اس شہر کی جانب پروازوں کی بکنگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ نوجوان سیاحوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

سیاحتی حکام کے مطابق مستقبل میں مزید انڈور برفانی پارکس، آئس آرٹ نمائشیں اور جدید اسکی مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ سال کے چاروں موسموں میں برفانی سیاحت کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے اور سیاحوں کو ہر وقت نئی سرگرمیاں میسر آئیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2025 میں چین کی سرمائی سیاحت پر مبنی معیشت ایک ٹریلین یوان سے تجاوز کر گئی، جبکہ انڈور برفانی منصوبے اس شعبے میں سرمایہ کاری کے تیزی سے ابھرتے ہوئے شعبوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں نے موسم اور آب و ہوا کی روایتی پابندیوں کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔

چین کا یہ ماڈل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر جدید ٹیکنالوجی، تخلیقی منصوبہ بندی اور مقامی خصوصیات کو یکجا کیا جائے تو قدرتی وسائل کو صرف ایک موسم تک محدود رکھنے کے بجائے پورے سال کی معاشی سرگرمی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ برف اور سرد موسم کو گرمیوں کی سیاحت کا حصہ بنا کر چین نے نہ صرف سیاحت کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں بلکہ چاروں موسموں پر مشتمل ایک پائیدار سیاحتی معیشت کی کامیاب مثال بھی قائم کی ہے۔ 

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1931 Articles with 1140757 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More