" سمیرہ حمید کا ناول "راہِ نور دی شوق" صرف خوابوں کے تعاقب کا نام نہیں، بلکہ یہ دھوکے، بھروسے، صبر اور کبھی ہار نہ ماننے والے سچے جذبے کی ایک لازوال داستان ہے۔ سمیرہ حمید کا یہ ناول ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو اپنے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دینا چاہتی ہے۔ غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی دینہ جب شیف بننے کا خواب دیکھتی ہے تو انگریزی زبان، معاشرتی رویے اور حالات اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس کا جنون اور محنت آخرکار کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ خواب دیکھنے کے لیے کسی امیر گھرانے سے تعلق ہونا ضروری نہیں، بلکہ دل میں سچی لگن، محنت اور ہمت ہونی چاہیے۔ کہانی کا اصل موڑ اس وقت آتا ہے جب دینہ جیسا معصوم اور مخلص کردار مشعل جیسی لڑکی پر اندھا بھروسہ کر لیتا ہے۔ دینہ ایک غریب مگر بے حد قابل لڑکی ہے، جس کا ٹیلنٹ مشعل اور برہان کے دل میں شدید حسد اور پروفیشنل جیلیسی پیدا کر دیتا ہے۔ وہ دونوں اپنے امیر اور بااثر ہونے کے باوجود دینہ کی قابلیت سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور اسی خوف میں اس کی معصومیت کا فائدہ اٹھا کر اسے گرانے کی سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سچی قابلیت کے سامنے خاندانی اثر و رسوخ بھی چھوٹا پڑ جاتا ہے، کیونکہ اصل کامیابی راستے کی آسانیوں سے نہیں بلکہ انسان کے پختہ ارادوں سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ ناول ہمیں سکھاتا ہے کہ بھروسا ٹوٹ جانے کا مطلب زندگی کا ختم ہو جانا نہیں ہوتا۔ دینہ کا کردار معاشرے کی ان تمام لڑکیوں کے لیے ایک روشن مثال ہے جو ہر حال میں اپنے ہنر اور خوابوں کا سودا نہیں کرتیں۔ زندگی جب اسے دھوکوں اور حالات کے تھپیڑوں کے بعد واپس گاؤں کے اسی ماحول میں لا کھڑا کرتی ہے تو ایک لمحے کے لیے محسوس ہوتا ہے کہ شاید سب کچھ ختم ہو گیا، لیکن یہی اس ناول کا سب سے خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا پہلو ہے کہ وہ ٹوٹتی ضرور ہے، مگر بکھرتی نہیں۔ "Never Give Up" کا پیغام اس ناول کی روح ہے۔ دینہ کا واپس گاؤں جانا اس کی ہار نہیں بلکہ اس کی اونچی اڑان کے لیے ایک عارضی ٹھہراؤ ثابت ہوتا ہے۔ اپنے خواب کو نہ چھوڑنا، حالات کے آگے گھٹنے نہ ٹیکنا اور دوبارہ پوری ہمت سے کھڑے ہو جانا ہر قاری کے دل میں نیا جذبہ اور حوصلہ پیدا کر دیتا ہے۔ سمیرہ حمید نے نہایت خوبصورتی سے یہ دکھایا ہے کہ کامیابی صرف قسمت یا دولت کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ مسلسل محنت، صبر، ثابت قدمی اور خود پر یقین رکھنے والوں کا مقدر بنتی ہے۔ اگر آپ ایسا ناول پڑھنا چاہتے ہیں جو آپ کو رُلائے بھی، تڑپائے بھی، سوچنے پر مجبور بھی کرے، اور آخر میں اپنے خوابوں کے لیے لڑنے کا نیا حوصلہ اور جنون بھی عطا کرے، تو "راہِ نور دی شوق" سے بہتر انتخاب شاید ہی کوئی ہو۔ یہ ایک شاہکار تحریر ہے جو سیدھی دل میں اتر جاتی ہے اور پڑھنے والے کے ذہن و دل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔
|