اردو ادب کی ممتاز شاعرہ، ماہرِ تعلیم اور صاحبِ اسلوب ادیبہ بسمل صابریؔ (اصل نام: بسم اللہ بیگم صابری) 17 جولائی 1937ء کو ساہیوال (سابق منٹگمری) میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم لاہور سے مکمل کی۔ تدریسی زندگی کا آغاز گورنمنٹ گرلز کالج ساہیوال سے بطور لیکچرر کیا اور اسی ادارے سے پروفیسر کی حیثیت سے باوقار انداز میں سبکدوش ہوئیں۔ تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ ادب کی خدمت بھی ان کی شخصیت کا نمایاں حوالہ رہی۔
بسمل صابریؔ نے متعدد قومی و بین الاقوامی مشاعروں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور اپنی منفرد طرزِ اظہار سے سامعین و قارئین کو متاثر کیا۔ ان کے پانچ شعری مجموعے اور ایک نثری تصنیف شائع ہوئیں، جن میں "پانی کا گھر"، "یادوں کی بارشیں"، "روشنیوں کے رنگ"، "رس کی پھوار" اور نعتیہ مجموعہ "بیاضِ نظر" خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
ان کی شاعری نسائی احساس، محبت، ہجرت، تنہائی، انسانی رشتوں کی لطافت، سماجی رویّوں اور داخلی کرب کی نہایت مؤثر ترجمان ہے۔ وہ دکھ کو محض ماتم نہیں بناتیں بلکہ امید، حوصلے اور روشنی کی ایک کرن بھی ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ یہی وصف ان کے کلام کو دل آویز اور دیرپا بناتا ہے۔
بسمل صابریؔ کی غزلوں کی سب سے نمایاں خوبی ان کی سادگی، سلاست، روانی اور فکری گہرائی ہے۔ انہوں نے مشکل تراکیب اور مصنوعی صنعت گری سے گریز کرتے ہوئے عام زندگی کے تجربات کو نہایت دلکش شعری قالب عطا کیا۔ ان کے ہاں عورت کی داخلی دنیا، محبت کی نزاکت، جدائی کی کسک اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق بڑی لطافت سے جلوہ گر ہوتے ہیں۔
ان کی شاعری میں پانی، عکس، خواب، روشنی، اندھیرا اور سفر جیسے استعارے بار بار سامنے آتے ہیں جو انسانی نفسیات، احساسات اور باطنی کیفیات کی نہایت خوب صورت عکاسی کرتے ہیں۔ یہی علامتی انداز ان کے کلام کو منفرد شناخت عطا کرتا ہے۔
ان کا یہ شہرۂ آفاق شعر آج بھی اردو غزل کے یادگار اشعار میں شمار کیا جاتا ہے:
وہ عکس بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہے عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
یہ شعر دراصل بسمل صابریؔ کی فنی شناخت اور ان کے تخلیقی شعور کا آئینہ دار ہے۔
بسمل صابریؔ عصرِ حاضر کی اُن ممتاز شاعرات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی منفرد آواز، باوقار فکر اور خوب صورت اسلوب کے ذریعے اردو غزل کو نئی معنویت عطا کی۔ ان کا کلام جذبوں کی صداقت، زبان کی لطافت اور فکر کی وسعت کا حسین امتزاج ہے، جو اردو ادب کا گراں قدر سرمایہ رہے گا۔
29 جولائی 2026ء کو بسمل صابریؔ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ
اللہ تعالیٰ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
بطورِ نمونہ چند منتخب اشعار
وہ اک ستارہ جو چشمِ سحر میں رہتا ہے وہی ستارہ شبِ غم کا اک سہارا ہے
جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اسے وہ شعر بن کے بیاضِ نظر میں رہتا ہے
مرا ہی روپ ہے، تو غور سے اگر دیکھے بگولہ سا جو تری رہ گزر میں رہتا ہے
جب آیا عید کا دن گھر میں بے بسی کی طرح تو میرے پھول سے بچوں نے مجھ کو گھیر لیا
کئی طرح کے سرابوں نے مجھ کو گھیر لیا نکل کے آ تو گیا گہرے پانیوں سے مگر وہ ایک خواب کہ راتوں نے مجھ کو گھیر لیا سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
وہ بات ہی کچھ اور تھی، یہ بات ہے کچھ اور حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
تیری صورت نہ جب دکھائی دے ہر طرف دھند سی دکھائی دے
وفا کو جگمگانا چاہتے ہیں ہم اپنا گھر جلانا چاہتے ہیں
وہ بے وفا ہی سہی، آؤ اس کو یاد کریں تمام عمر پڑی ہے اسے بھلانے کو
لب کہتے ہیں کچھ اور، انہیں ہوتا ہے گماں اور حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے زباں اور
جائیں تو کہاں جائیں محبت کے خریدار اربابِ سیاست نے تو کھولی ہے دکاں اور
معلوم نہیں ہے مرے صیاد کو شاید اب وعدۂ فردا میں کشش کچھ نہیں باقی دہرائی ہوئی بات گزرتی ہے گراں اور |