کراچی کے تفریحی مقامات پر مؤثر سیکیورٹی اور بنیادی سہولیات وقت کی اہم ضرورت

*از قلم : محمد ارسلان شیخ*

زندگی کی تیز رفتار مصروفیات، مہنگائی، بے روزگاری، کاروباری پریشانیاں اور روزمرہ کے ذہنی دباؤ سے کچھ لمحوں کی راحت حاصل کرنے کے لیے کراچی کے ہزاروں خاندان ہر ہفتے اور سرکاری تعطیلات میں ساحلی علاقوں، جھیلوں اور دیگر تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کی امید لے کر گھروں سے نکلتے ہیں، لیکن افسوس کہ کئی مقامات پر پہنچ کر خوشی کے بجائے عدم تحفظ کا احساس ان کا استقبال کرتا ہے۔
یہ تمام مقامات قدرت کا حسین تحفہ ہیں، جہاں لوگ اپنے بچوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارنے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور تازہ ماحول سے لطف اندوز ہونے جاتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ کئی مقامات پر بنیادی سہولیات اور مؤثر سیکیورٹی کے فقدان کی وجہ سے بعض اوقات شہری خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس نہیں کرتے۔
چند روز قبل کینجھر جھیل میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر اس مسئلے کو نمایاں کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خواتین کے ساتھ مبینہ بدتمیزی کے بعد جھگڑا ہوا اور کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی مکمل تحقیقات اور قانونی کارروائی اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم اس خبر نے ایک ایسے مسئلے کو ضرور اجاگر کیا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ تفریحی مقامات پر پیش آنے والے کسی واقعے نے عوام کی توجہ حاصل کی ہو۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران کراچی کے ساحلی علاقوں سے متعلق مختلف نوعیت کی خبریں قومی میڈیا میں سامنے آتی رہی ہیں۔ سی ویو پر بعض گھوڑا اور اونٹ مالکان کی جانب سے شہریوں یا غیر ملکی سیاحوں سے اضافی رقم طلب کرنے اور بدتمیزی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جن پر سندھ پولیس نے کارروائیاں کیں۔ اسی طرح مختلف اوقات میں ہجوم، غیر قانونی پارکنگ، لائف گارڈز کی کمی، حفاظتی انتظامات کے فقدان اور دیگر انتظامی مسائل بھی میڈیا میں زیر بحث آتے رہے ہیں۔
یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تفریحی مقامات پر صرف خوبصورت ماحول کافی نہیں، بلکہ مؤثر انتظامات بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔
راقم کو بھی چند روز قبل اہلِ خانہ کے ساتھ ٹرٹل بیچ جانے کا موقع ملا۔ سمندر کا دلکش منظر، ٹھنڈی ہوا اور قدرتی حسن اپنی جگہ، لیکن ذہن میں بار بار ایک سوال آتا رہا کہ اگر خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہو جائے تو فوری مدد کہاں سے ملے گی؟ قریب ترین پولیس چوکی کہاں ہے؟ متعلقہ تھانے کا نمبر کیا ہے؟ ایمرجنسی ہیلپ لائن کس طرح دستیاب ہوگی؟ یہ بنیادی معلومات نمایاں طور پر موجود نہیں تھیں، جس کی وجہ سے عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ حکومت، محکمہ سیاحت، ضلعی انتظامیہ اور سندھ پولیس تمام بڑے تفریحی مقامات کے لیے ایک جامع سیکیورٹی پلان مرتب کریں۔ جہاں روزانہ یا ہفتہ وار بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں، وہاں مستقل پولیس چیک پوسٹس قائم کی جائیں، موبائل پولیس گشت کو یقینی بنایا جائے اور تعطیلات کے دنوں میں اضافی نفری تعینات کی جائے۔

ہر تفریحی مقام کے داخلی راستے اور اہم مقامات پر بڑے معلوماتی بورڈ نصب کیے جائیں، جن پر متعلقہ تھانے، پولیس چوکی، ریسکیو 1122، ایدھی، چھیپا، قریبی اسپتال اور دیگر ہنگامی خدمات کے فون نمبرز واضح طور پر درج ہوں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری فوری رابطہ کر سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ جدید سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، سیاحتی پولیس (Tourist Police) کی تعیناتی، فیملیز کے لیے محفوظ زونز، مناسب پارکنگ، معیاری واش رومز، پینے کے صاف پانی، ابتدائی طبی امداد کے مراکز اور شکایات درج کرانے کا آسان نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ گھوڑا، اونٹ، جیٹ اسکی، کشتی اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن، شناختی کارڈ کی نمائش، مقررہ نرخ نامے اور نگرانی کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے تاکہ شہری کسی قسم کی بدانتظامی یا غیر ضروری تنازع سے محفوظ رہ سکیں۔
جب ایک خاندان ذہنی دباؤ کم کرنے، بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنے اور خوشگوار یادیں بنانے کے لیے گھر سے نکلے، تو اسے سب سے پہلے یہی احساس ہونا چاہیے کہ وہ ایک محفوظ اور منظم ماحول میں موجود ہے۔ یہی احساس کسی بھی کامیاب تفریحی مقام کی اصل پہچان ہوتا ہے۔
ہم حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ، محکمہ سیاحت، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو عوامی مفاد کے تناظر میں دیکھتے ہوئے عملی اقدامات کریں۔ مستقل پولیس چیک پوسٹس، واضح ہیلپ لائن نمبرز، مؤثر گشت، جدید نگرانی کے نظام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ایسے اقدامات ہیں جو شہریوں کو تحفظ کا احساس دیں گے۔
 

 

Muhammad Arslan Shaikh
About the Author: Muhammad Arslan Shaikh Read More Articles by Muhammad Arslan Shaikh: 43 Articles with 11718 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.