ایک سرسبز گاؤں میں کالا نام کا ایک گدھا رہتا تھا۔ وہ عام گدھوں جیسا نہیں تھا، کیونکہ اس کی پیٹھ پر اینٹیں، لکڑیاں یا اناج نہیں بلکہ کتابیں لدی ہوتیں۔ اس کا مالک رحمت چاچا ایک بزرگ استاد تھا، جس نے اپنی پوری زندگی علم کی شمع روشن کرنے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ ہر روز مختلف دیہات کا سفر کرتا، بچوں کو تعلیم دیتا اور اپنے ساتھ علم کا خزانہ لیے پھرتا۔
ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے رحمت چاچا بڑی محبت سے کتابیں کالے کی پیٹھ پر رکھتا۔ کتابوں کا ڈھیر اتنا بڑا ہوتا کہ دور سے دیکھنے والا سمجھتا جیسے کوئی چلتی پھرتی لائبریری راستے پر رواں ہو۔
گاؤں والے اکثر ہنستے ہوئے کہتے،
"لو دیکھو! کتابوں والا گدھا پھر نکل پڑا۔"
یہ الفاظ کالے کے دل میں تیر کی طرح چبھ جاتے۔ وہ سوچتا،
"میں روز علم کا بوجھ اٹھاتا ہوں، پھر بھی لوگ مجھے جاہل کہتے ہیں۔ آخر ان کتابوں میں ایسی کیا طاقت ہے جسے میں برسوں سے اٹھائے جا رہا ہوں، مگر کبھی سمجھ نہ سکا؟"
ایک دن رحمت چاچا شدید بیمار پڑ گیا۔ اس نے کمزور آواز میں کالے کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا،
"میرے دوست! آج بچوں کو مایوس نہ ہونے دینا۔ یہ کتابیں مدرسے تک پہنچا دو، کیونکہ علم کا سفر کسی ایک انسان کا محتاج نہیں ہوتا۔"
کالا پہلی بار اکیلا روانہ ہوا۔ راستہ طویل، دھول بھرا اور سخت گرم تھا۔ کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا دریا بہتا تھا۔ جب وہ کنارے پر پہنچا تو اس نے ایک ننھے بچے کو زار و قطار روتے دیکھا۔
کالے نے رک کر اس کی طرف دیکھا۔
بچے نے سسکتے ہوئے کہا،
"مجھے الف، بے، پے نہیں آتی۔ ابو نے کہا ہے اگر میں نے پڑھنا نہ سیکھا تو مجھے اسکول سے نکال دیں گے۔"
کالا کچھ لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے ہلکی سی جنبش دی تو اس کی پیٹھ سے ایک کتاب زمین پر آ گری۔ یہ ابتدائی حروفِ تہجی کی کتاب تھی۔
بچے نے کانپتے ہاتھوں سے کتاب اٹھائی، اس کے صفحات کھولے اور آہستہ آہستہ پڑھنا شروع کر دیا۔
"الف... بے... پے..."
ہر حرف کے ساتھ اس کے چہرے پر خوشی کی نئی کرن ابھرتی گئی۔
کالا حیرت سے یہ منظر دیکھتا رہا۔ اسی لمحے اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کی پیٹھ پر رکھا ہوا بوجھ دراصل روشنی ہے، جو اندھیروں کو مٹا سکتی ہے۔
اسے رحمت چاچا کی ایک بات یاد آئی، جو وہ اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتے تھے:
"کتابوں کا وزن جسم کو تھکا سکتا ہے، مگر ان کا علم روح کو طاقت دیتا ہے۔ اصل بوجھ کتابیں نہیں، جہالت ہوتی ہے۔"
یہ الفاظ کالے کے دل میں اتر گئے۔
اب اس کے قدم پہلے سے زیادہ مضبوط تھے، اور سفر پہلے سے زیادہ آسان محسوس ہونے لگا۔
جب وہ مدرسے پہنچا تو بچوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ سب نے دوڑ کر کتابیں سنبھال لیں۔ کسی نے انہیں سینے سے لگایا، کسی نے فوراً پڑھنا شروع کر دیا۔
بچوں کی آنکھوں میں علم کی چمک دیکھ کر کالے کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
اس دن کے بعد لوگ اگرچہ اسے پہلے کی طرح "کتابوں والا گدھا" ہی کہتے رہے، مگر اب اسے اس نام پر رنج نہیں ہوتا تھا۔ وہ مسکرا کر سر بلند کر لیتا، کیونکہ اب وہ جان چکا تھا کہ وہ صرف کتابیں نہیں اٹھاتا، بلکہ خواب، امیدیں اور علم کی روشنی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتا ہے۔ سبق کتابوں کا اصل وزن ان کے صفحات میں نہیں، بلکہ اس علم میں ہوتا ہے جو انسان کی زندگی بدل دیتا ہے۔ جو علم بانٹنے کا ذریعہ بن جائے، وہ کبھی معمولی نہیں رہتا۔ |