چین کی قدرتی آفات سے تحفظ کی نئی حکمت عملی
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی قدرتی آفات سے تحفظ کی نئی حکمت عملی تحریر: شاہد افراز
خان ،بیجنگ
قدرتی آفات ہمیشہ سے انسانی آبادی، معیشت اور بنیادی
ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث حالیہ
برسوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے
گرنے اور دیگر زمینی آفات کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے حالات
میں صرف ہنگامی امداد کافی نہیں رہتی بلکہ پیشگی منصوبہ بندی، جدید
ٹیکنالوجی اور مؤثر نگرانی کا نظام ہی جانی و مالی نقصانات کو کم کر سکتا
ہے۔ اسی تناظر میں چین نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے زمینی آفات سے تحفظ اور
ان کے مؤثر انتظام کا ایک جامع منصوبہ جاری کیا ہے۔
ملک بھر میں
2025 کے اختتام تک دو لاکھ ستر ہزار سے زائد ایسے مقامات کی نشاندہی کی جا
چکی تھی جہاں زمینی آفات کا خطرہ موجود ہے اور ان سے ایک کروڑ دس لاکھ سے
زیادہ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے منصوبے میں ان تمام حساس
مقامات پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے
والے نئے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بھی مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
یہ منصوبہ 2026 سے 2030 تک کے قومی ترقیاتی دورانیے کا حصہ ہے، جس کا مقصد
زمینی آفات کی روک تھام، نگرانی، پیشگی انتباہ اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو
مزید مؤثر بنانا ہے۔ اس کے تحت ایک ایسا سائنسی اور مربوط نظام تشکیل دیا
جائے گا جو نہ صرف قدرتی آفات کی بروقت نشاندہی کرے بلکہ مقامی سطح پر ان
سے نمٹنے کی صلاحیت کو بھی مضبوط بنائے۔
منصوبے کے تحت 21 نئے
اہم حفاظتی زونز بھی قائم کیے جائیں گے جہاں زمینی آفات کے امکانات نسبتاً
زیادہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں شدید بارشوں اور موسمیاتی
تبدیلیوں کے باعث بعض علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور دیگر
زمینی خطرات کا دائرہ مزید وسیع ہوا ہے، اس لیے اب صرف خطرناک مقامات ہی
نہیں بلکہ ان سے ملحقہ خطرے والے علاقوں کو بھی حفاظتی منصوبہ بندی میں
شامل کیا جا رہا ہے۔
آئندہ مرحلے میں زمینی آفات سے نمٹنے کے
لیے دوہرا حفاظتی نظام اختیار کیا جائے گا، جس کے تحت خطرناک مقامات اور
خطرے والے علاقوں دونوں کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ ممکنہ حادثات سے
پہلے ہی حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔
اس منصوبے کی ایک اہم
خصوصیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹوئن
ٹیکنالوجی، جدید ڈیٹا تجزیے اور خودکار نگرانی کے نظام کو بروئے کار لا کر
خطرات کی زیادہ درست نشاندہی اور بروقت وارننگ جاری کرنے کی صلاحیت کو بہتر
بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ زمینی سروے، مسلسل مانیٹرنگ، ابتدائی
انتباہی نظام اور جامع حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ
اچانک پیش آنے والی قدرتی آفات کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ دور میں زمینی آفات کی نوعیت
تیزی سے بدل رہی ہے۔ اس لیے صرف روایتی طریقۂ کار پر انحصار کافی نہیں
بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور مؤثر انتظامی نظام کو یکجا کرنا وقت
کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ چین اسی حکمت عملی کے تحت آفات سے نمٹنے کی صلاحیت
کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مجموعی طور پر کہا جا
سکتا ہے کہ یہ منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قدرتی آفات سے مؤثر
تحفظ صرف حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پیشگی
تیاری، سائنسی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، درست معلومات اور مقامی سطح پر
مضبوط انتظامی نظام ہی محفوظ معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔ یہی جامع اور
مستقبل شناس حکمت عملی موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں
پائیدار ترقی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار
ادا کر سکتی ہے۔ |
|