پاکستان٫ سعودی عرب٫ ترکیہ دفاعی معاہدہ: خطے میں امن و استحکام کا ضامن اول
(Dr Mehboob Syed, Karachi)
پاکستان٫ سعودی عرب٫ ترکیہ دفاعی معاہدہ: خطے میں امن و استحکام کا ضامن اسرائیلی"گریٹر اسرائیل "کا منصوبہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ تمام مسلم ممالک کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ اسرائیل نے جدید انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور بھیانک بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی پر عمل درامد کا سلسلہ جاری رکھا اور 50 ہزار معصوم بچوں اور عورتوں کو شہید کیا اور 20 ہزار سے زائد دیگر معصوم لوگوں جن میں بوڑھے لوگ بھی شامل تھے انہیں شہید کیا۔ تمام اسکول ،کالج، جامعات علاج گاہیں، امدادی کیمپ تباہ کر دیے۔ مساجد اور گرجا گھروں کو بھی تباہ کر دیا۔ دو عالمگیر جنگوں میں اتنے صحافی قتل نہیں ہوئے جتنے تنہا غزہ میں قتل کیے گئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی(،UNGA) سلامتی کونسل(UNSC) اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن (UNHRC) بین الاقوامی عدالت انصاف(ICJ) بین الاقوامی عدالت جرائم (ICC) اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC)سمیت تمام بین الاقوامی اداروں نے اسرائیلی درندہ صفت فوج اور عالمی بھیڑیے نیتن یاہو کو جنگی جرائم اور نسل کشی کا مرتکب قرار دیا. بدقسمتی سے اسرائیل کے خلاف کسی اقدام کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیا گیا جس نے خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ اسرائیل نے نہ صرف ایران پر حملہ کیا بلکہ اس نے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کو بھی دھمکیاں دیں۔ اسرائیل کو اس کے انتہائی قریبی دوست ،ہمنوا ،نظریاتی بھائی ،بھارت اور اس کے وزیراعظم نریندر مودی کی بھرپور تائید حمایت اور عملی مدد حاصل رہی جبکہ اسرائیل نے بھی پاکستان کے خلاف بھارت کی مکمل تائید اور عملی مدد کی ۔لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم اور افواج پاکستان کی پیشاورانہ صلاحیت، قربانی کے جذبے اور فیلڈ مارشل حافظ اصف منیر کی قیادت میں پاکستان نے اپنے سے نو گنا زیادہ بجٹ رکھنے والے ملک کو دھول چٹا دی۔ پاکستان کی اس کامیابی نے منظر نامے کو تبدیل کر دیا اور پاکستان کی عالمی سطح پر عزت و وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔پہلے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا اور اب سات اگست 2026 کو پاکستان ،ترکی اور سعودی عرب نے مشترکہ دفاعی معاہدے جسے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا نام دیا گیا اس پر دستخط کیے۔ اس معاہدے پر دستخط کے موقع پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوان، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر، ترکی کے وزیر خارجہ حقان فدان پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ اصف اور دیگر اہم افراد موجود تھے۔ یہ معاہدہ نہایت اہم تاریخی اور تینوں ممالک کے خلاف کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف ایک موثر حصار ثابت ہوگا( انشاءاللہ )پاکستان نے بھارت کے خلاف جو تاریخی فتح حاصل کی اور اس کے بعد عالمی امن کے سفیر ,سہولت کار اور پیامبرکی جو حیثیت حاصل کی اس کے بعد یہ معاہدہ پاکستان کی امت مسلمہ کے ایک انتہائی اہم رکن ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے کردار کی اہمیت کو بھی وہ جا کر کرتا ہے یہ معاہدہ دفاعی نقطہ نظر سے تمام پہلوؤں کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے جس میں ترکی دفاعی پیداوار کی صلاحیت رکھنے والا نہایت اہم ملک، سعودی عرب عالم اسلام کی اہم اقتصادی قوت، جبکہ پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک جو ایٹمی صلاحیت سے مالامال ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت مضبوط بہادر اور بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل فوج رکھنے والا ملک ہے۔ اس اشتراک سے تینوں ملکوں کی دفاعی صلاحیت میں انتہائی قابل ذکر اضافہ ہوگا۔ اس معاہدے کو دنیا بھر کے دفاعی اور سیاسی مبصرین نے انتہائی اہمت دی ہے اور دنیا کے تمام قابل ذکر میڈیا میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے اسلامی ممالک کے دفاعی مبصرین نے اسے نہایت اہم قرار دیا ہے اور اسلامی ممالک کے عوام نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے ۔اس معاہدے کو ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے معاہدہ نیٹو کے ارٹیکل پانچ کی طرح قرار دیا۔ صدر طیب اردوان اس معاہدے میں توسیح کی خواہش مند ہیں جس میں دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ مصر بھی ایک مضبوط امیدوار ہے ۔ترکی اور پاکستان نے اس تاثر کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی بھی طرح سے ایران کے خلاف یا اس سے ایران کو کوئی نقصان ہوگا ۔ امریکہ اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنے میں مکمل طور پر ناکام اور اس نے اپنا مکمل وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈال دیا ۔اس عمل نے خطے میں مسلم ممالک کے درمیان دفائی معاہدے کی اہمیت و ضرورت میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ اس معاہدے سے جہاں پاکستان کو اقتصادی معاونت حاصل ہوگی وہیں تر کی کی دفاعی صنعت کے لیے بھی یہ نہایت اہم ہے ایران کے وزیر خارجہ عباس رابچی نے کہا کہ ایران اس معاہدے پر مسرت کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے تمام مسلم ممالک کے درمیان اتحاد پر زور دیا تینوں ممالک کے مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی بھی قسم کی جارحیت کے خلاف ایک حصار ہے۔ اس دفاعی معاہدے کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا نام دیا گیا ہے (جاری) |
|