سرکاری اسکولوں میں سیاسی مصلحتیں، کراچی کے مستقبل کے معمار کس کے سہارے؟

تحریر: محمد ارسلان شیخ

کراچی کا اصل مستقبل اس کی بلند عمارتوں، صنعتی علاقوں یا وسیع شاہراہوں میں نہیں بلکہ ان سرکاری اسکولوں میں بیٹھا ہے جہاں لاکھوں بچے اپنے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ان بچوں کے مستقبل کو وہ اہمیت دے رہے ہیں جس کے وہ حق دار ہیں؟

سندھ کے سرکاری اسکولوں کی صورتحال تشویشناک ہے۔ نیشنل کمیشن فار رائٹس آف چائلڈ کی State of Children in Pakistan 2025 رپورٹ میں پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹس 2023-24 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سندھ میں صرف تقریباً 7.6 فیصد سرکاری اسکولوں میں بجلی، پینے کا پانی، بیت الخلا، چار دیواری اور تسلی بخش عمارت سمیت پانچ بنیادی سہولیات بیک وقت موجود تھیں۔

ہ صرف اعداد نہیں بلکہ ان لاکھوں بچوں کی تعلیمی زندگی کا سوال ہے جو بنیادی سہولیات سے محروم ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اس صورتحال میں سب سے اہم مسئلہ اساتذہ کی دستیابی کا ہے۔ اگر اسکول میں طلبہ موجود ہوں مگر مطلوبہ تعداد میں اساتذہ نہ ہوں تو عمارت اور دیگر سہولیات بھی اپنا مقصد مکمل طور پر پورا نہیں کرسکتیں۔

اپریل 2026 میں سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں بھی اساتذہ کی بھرتی اور خالی آسامیوں کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ بڑے بھرتی عمل میں تقریباً 93 ہزار اساتذہ بھرتی کیے گئے، تاہم اس کے باوجود مزید آسامیوں اور ویٹنگ امیدواروں کا معاملہ موجود ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب اسکولوں کو مزید اساتذہ کی ضرورت ہے اور اہل امیدوار بھرتی کے منتظر ہیں تو تعلیمی نظام میں ترجیحات کس بنیاد پر طے کی جا رہی ہیں؟

نائب قاصد، چوکیدار، کلرک اور دیگر غیر تدریسی عملہ بھی اسکول کے لیے ضروری ہے، لیکن جس اسکول میں استاد کی کمی ہو وہاں تدریسی ضرورت کو اولین ترجیح ملنی چاہیے۔ استاد کی جگہ سیاسی سفارش یا غیر ضروری تعیناتی تعلیمی انصاف نہیں ہوسکتی۔
خصوصاً گرلز اسکولوں میں یہ معاملہ مزید حساس ہے۔ اگر کسی گرلز اسکول میں ضرورت کے برخلاف عملہ تعینات کیے جانے یا سیاسی سفارش کی شکایت سامنے آئے تو اس کا جواب الزام نہیں بلکہ شفاف انکوائری، تقرری کے ریکارڈ اور میرٹ کی جانچ ہونا چاہیے۔
تعلیم کے شعبے میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کتنے افراد کو نوکری دی گئی؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کس اسکول میں، کس ضرورت کے تحت اور کس میرٹ پر تعیناتی کی گئی۔
سندھ کے تعلیمی نظام میں تجربہ کار اساتذہ کی ریٹائرمنٹ اور ان کی جگہ بروقت نئی بھرتیاں بھی ایک اہم چیلنج ہیں۔ اس کا حل صرف اعلانات نہیں بلکہ باقاعدہ Teacher Mapping ہے، تاکہ ہر اسکول میں طلبہ، اساتذہ، خالی آسامیوں اور مضامین کی ضرورت کا درست ریکارڈ موجود ہو۔
سندھ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں اسکول ایجوکیشن کے لیے 446.958 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ یہ ایک بڑی رقم ہے، اس لیے عوام کو اس کے استعمال کے ساتھ نتائج بھی نظر آنے چاہئیں۔
یہ سوال کسی جماعت یا فرد کے خلاف نہیں بلکہ عوامی نمائندگی کے معیار کو جانچنے کے لیے ہے۔ اگر فیصلہ ساز خود سرکاری تعلیمی نظام پر اعتماد نہیں کرتے تو عام والدین سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا مستقبل اسی نظام کے حوالے کریں؟

کراچی کے بچے کسی سیاسی جماعت کے ووٹر بن کر اسکول نہیں جاتے۔ انہیں صرف ایک اچھا استاد، محفوظ اسکول، مناسب تعلیمی ماحول اور روشن مستقبل چاہیے۔

اس لیے کراچی اور سندھ کے تعلیمی نظام کو سیاسی مفادات کی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے میرٹ، ضرورت اور جواب دہی کا ماڈل بنانا ہوگا۔
آج اگر ہم نے استاد کی جگہ سفارش، میرٹ کی جگہ مصلحت اور تعلیم کی جگہ سیاست کو ترجیح دی تو کل ہمارے پاس اسکولوں کی عمارتیں تو ہوں گی، مگر ان عمارتوں سے نکلنے والی نسل شاید وہ مقام حاصل نہ کرسکے جس کی یہ شہر اور ملک اس سے توقع رکھتا ہے۔

یاد رکھیں کراچی کا مستقبل کسی سیاسی کوٹے یا سفارش کا محتاج نہیں؛ کراچی کا مستقبل ایک معیاری تعلیمی نظام کا محتاج ہے۔

 

Muhammad Arslan Shaikh
About the Author: Muhammad Arslan Shaikh Read More Articles by Muhammad Arslan Shaikh: 42 Articles with 11594 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.