ایسٹ انڈیا کمپنی کی باقیات

(ڈاکٹر شہباز حسین, اسلام آباد)

انگریزوں کو برصغیر کی سرزمین چھوڑے پون صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر ان کی ’’باقیات‘‘ ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ کبھی یہ سرکاری دفتروں میں براجمان ’’افسرانِ بالا ‘‘ کے طرزِ عمل میں نظر آتی ہیں تو کبھی اس افسر شاہی کے ’’پروٹوکول‘‘ میں۔۔۔۱۴ اگست کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی یومِ آزادی کی تقریب میں جب گریڈ ۲۱ کے دو مقامی افسران کو بگھی میں جلوہ افروز ہوتے اور وردی پوش دستوں سے سلامی وصول کرتے دیکھا تو پھر سے ان ’’باقیات‘‘ کی ایک حقیقی اور جیتی جاگتی تصویر دیکھنے کو ملی۔ آزادی کا دن دراصل ان نوآبادیاتی طاقتوں سے نجات کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے، جنہوں نے برصغیر کے باشندوں کو صدیوں تک سیاسی، معاشی اور انتظامی طور پر محکوم رکھا۔ ایسے میں جب اسی آزادی کی تقریب میں ہمارے سرکاری افسران نوآبادیاتی حکمرانوں کے انداز میں ایک سجی سجائی اور لش پش کرتی بگھی میں سوار ہوکر سلامی وصول کرتے ہیں تو یہ منظر کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ کیا ہم واقعی حقیقی معنوں میں نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کر چکے ہیں یا صرف چہرے بدلے ہیں مگر نظام ، سوچ اور طرزِ حکمرانی وہی ہے۔۔۔
آزادی کے بعد ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ تھی کہ ہم نوآبادیاتی نظام کی ان علامتوں اور ذہنی رویوں کو تبدیل کرتے اور ایک ایسی فلاحی ریاست تشکیل دیتے جس کا خواب ہمارے اکابرین نے دیکھا تھا، جس میں حاکم اور محکوم کے درمیان فاصلہ کم ہوتا اور سرکاری افسران اپنے آپ کو کوئی ’’برتر ہستی‘‘ سمجھے کی بجائے عوام کا خادم سمجھتے۔ افسوس کہ ہم انگریزوں کو یہاں سے بھگانے میں کامیاب تو ہوگئے یا وہی ہم سے ڈر کے بھاگ گئے، مگر ان کے طرزِ حکمرانی، افسر شاہانہ سوچ اور ذہنیت سے ہم مکمل طور پر نجات حاصل نہ کر سکے۔ یہ غیر معمولی پروٹوکول، آگے پیچھے دائیں بائیں گاڑیوں کے قافلے،سرکاری پر تعیش رہائش گاہیں، سر جھکائے اور ہاتھ باندھے سرکاری نوکر، سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال اور ایک عام آدمی سے نفرت۔۔۔یہ سب انہی کی دین ہے۔ بس اتنا ہوا کہ جن کرسیوں پر کبھی انگریز براجمان ہوتے تھے، ان کی جگہ مقامی افسروں نے سنبھال لی، جن سرکاری بنگلوں میں نوآبادیاتی افسر رہتے تھے، ان میں یہ افسر آباد ہو گئے۔
آخر میں شاید یہی کہنا کافی ہو کہ ایسٹ انڈیا کمپنی چلی گئی، برطانوی راج بھی ختم ہو گیا، مگر اگر ان کے چھوڑا ہوا طرزِ حکمرانی، حاکمانہ رویے اور طبقاتی امتیاز بدستور ان ’’باقیات‘‘ کی شکل میں موجود ہے، جس کی جھلک ہمیں یومِ آزادی کی حالیہ تقریب میں نظر آئی۔ جب تک ہمارے یہ ’’افسرانِ بالا‘‘ اپنے آپ کو ایک عام انسان ، اپنی ڈیوٹی کو فرض اور خدمت، ریاستی وسائل کو قومی امانت، پروٹوکول کو قومی دولت کا ضیاع اورعوام کو اپنی رعایا کی بجائے ایک آزاد ریاست کا آزاد شہری نہیں سمجھیں گے، آزادی کا سفر مکمل نہیں ہوگا اور حاکم اورمحکوم کا تصور باقی رہے گا۔ ایک آزاد اور خود مختار قوم بننے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے نوآبادیاتی آقاوں کی ’’باقیات ‘‘کو بھی اپنے رویوں ، اداروں اور اجتماعی شعور سے حقیقی معنوں میں رخصت کردیں۔ ان کی اندھی تقلید کرنے کی بجائے اپنے کلچر، اپنی ثقافت اور اسلامی روایات پر فخر کریں، یہی آزادی کی اصل روح اور یہی یومِ آزادی کا حقیقی تقاضا ہے۔ بقول اقبال:
نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
 
ڈاکٹر شہباز حسین
About the Author: ڈاکٹر شہباز حسین Read More Articles by ڈاکٹر شہباز حسین: 3 Articles with 118 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.