حضرت یونس علیہ السلام: صبر، توبہ اور رحمتِ الٰہی کا عظیم واقعہ تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

حضرت یونس علیہ السلام: صبر، توبہ اور رحمتِ الٰہی کا عظیم واقعہ

تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

حضرت یونس علیہ السلام: صبر، توبہ اور رحمتِ الٰہی کا عظیم واقعہ تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

حضرت یونس علیہ السلام: صبر، توبہ اور رحمتِ الٰہی کا عظیم واقعہ

تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
​حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر اور برگزیدہ پیغمبر ہیں، جنہیں قرآن مجید میں "ذوالنون" (مچھلی والے) اور "صاحب الحوت" کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ بارگاہِ الٰہی میں آپ کا مقام و مرتبہ بے حد بلند ہے۔ قرآن کریم میں آپ کی حیاتِ مبارکہ، دعوت اور مچھلی کے پیٹ کے واقعے کو بیان کر کے قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہدایت، صبر اور رجوع الی اللہ کا عظیم درس دیا گیا ہے۔
​نینویٰ کی طرف بعثت اور دعوت
​اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو موجودہ عراق کے شہر موصل کے قریب واقع بستی "نینویٰ" کی طرف مبعوث فرمایا۔ یہ قوم شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھی۔ آپ نے نہایت صبر اور حکمت کے ساتھ انہیں توحید کی طرف بلایا، لیکن انہوں نے اپنی سرکشی اور ہٹ دھرمی نہ چھوڑی۔ جب قوم نے حق کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کیا، تو آپ اللہ کے صریح حکم کا انتظار کیے بغیر، رنجیدہ ہو کر بستی سے نکل گئے اور انہیں عذابِ الٰہی کی وعید سنا دی۔
​سمندری سفر اور مچھلی کا امتحان
​بستی سے روانگی کے بعد آپ ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ دورانِ سفر سمندر میں شدید طوفان آ گیا اور کشتی ڈوبنے کے قریب ہو گئی۔ مسافروں نے بوجھ کم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا، اور تینوں بار حضرت یونس علیہ السلام کا نام ہی نکلا۔ اللہ کی مشیت کے تحت آپ کو سمندر میں ڈال دیا گیا، جہاں اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو اپنے پیٹ میں نگل لیا۔
​مچھلی کے پیٹ کی گہرائی، سمندر کی تاریکی اور رات کے اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے کمالِ عاجزی اور سچے دل کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں استغفار کیا:
​"لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ"
(تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔)
​اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اس سچی توبہ اور تسبیح کو قبول فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ساحل پر صحیح سلامت اگل دے۔
​قومِ یونس کی منفرد توبہ
​دوسری طرف، جب حضرت یونس علیہ السلام کے جانے کے بعد نینویٰ کے افق پر عذاب کے بادل نمودار ہونے لگے، تو ان کی قوم کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا۔ تاریخِ انسانی میں یہ قومِ یونس کی ہی منفرد خصوصیت ہے کہ انہوں نے عذاب کے آثار دیکھتے ہی اجتماعی طور پر سچی توبہ کی، گریہ و زاری کی اور ایمان لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پناہ رحمت سے ان پر سے نازل ہونے والا عذاب ٹال دیا۔
​واقعے کے اہم اسباق
​دعائے کریمہ کی تاثیر: پریشانی اور مصیبت کے وقت حضرت یونس علیہ السلام کی یہ دعا ہر مومن کے لیے نجات اور کشائش کا بہترین ذریعہ ہے۔
​سچی توبہ کی طاقت: اجتماعی یا انفرادی طور پر کی گئی سچی توبہ اور استغفار اللہ کے غضب کو رحمت میں بدل دیتی ہے۔
​مقامِ یونس علیہ السلام: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کے لیے یہ کہنا زیب نہیں دیتا کہ وہ یونس بن متیٰ سے بہتر ہے، جو حضرت یونس علیہ السلام کے بلند مقام اور عظمت کی واضح دلیل ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا یہ حیات افروز واقعہ صبر، عاجزی اور رجوع الی اللہ کی بے مثال حکمتوں سے لبریز ہے۔
​واقعہ یونس علیہ السلام کے مزید فکر انگیز پہلو
​دعائے کریمہ کا فلسفہ: "لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ" میں پہلے اللہ کی توحید اور پاکی کا بیان ہے اور اس کے بعد اپنے عجز اور قصور کا اعتراف۔ یہی عاجزی اور اعترافِ بندگی بلاؤں کو ٹالنے کی سب سے بڑی کنجی ہے۔
​توبہِ نصوح کی طاقت: قومِ یونس کی اجتماعی توبہ تاریخِ انسانی کا وہ منفرد باب ہے جو بتاتا ہے کہ سچائی، ندامت اور اخلاص کے ساتھ کی گئی توبہ نازل ہونے والے عذاب کو بھی رحمت میں بدل دیتی ہے۔
​حکمتِ دعوت اور صبر: یہ واقعہ دعوتِ حق دینے والوں اور اصلاحِ معاشرہ کا کام کرنے والوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ نتائج چاہے کچھ بھی ہوں، صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے اور فیصلے ہمیشہ حکمِ الٰہی کے تابع رہنے چاہئیں۔

 

Dr.Izhar Ahmad Gulzar
About the Author: Dr.Izhar Ahmad Gulzar Read More Articles by Dr.Izhar Ahmad Gulzar: 71 Articles with 49285 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.