خدا کے وجود پر سب سے بڑی دلیل
(Rahmatullah Shaikh, Khairpur)
خدا کے وجود کی دلیل کہاں تلاش کی جائے؟ آسمان کے ستاروں میں، کائنات کی وسعتوں میں، زمین کے نظام میں یا کسی فلسفیانہ بحث میں؟ شاید ان سب میں خدا کی نشانیاں موجود ہیں، لیکن خدا کے وجود پر سب سے قریب اور قابلِ غور دلیل خود انسان کا وجود ہے۔ ذرا اپنے جسم پر غور کیجیے۔ انسانی دل مسلسل خون پمپ کرتا ہے، پھیپھڑے آکسیجن حاصل کرتے ہیں، گردے خون کو صاف کرتے ہیں، مدافعتی نظام بیماریوں سے مقابلہ کرتا ہے اور دماغ بیک وقت بے شمار معلومات کو وصول، محفوظ اور پروسیس کرتا ہے۔ آنکھ صرف دیکھتی نہیں بلکہ روشنی کو برقی اشاروں میں تبدیل کرکے دماغ تک پہنچاتی ہے، جہاں ان اشاروں کو معنی خیز تصویر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ہم چلتے ہیں، سوچتے ہیں، یاد رکھتے ہیں، محبت کرتے ہیں، فیصلے کرتے ہیں اور اپنے وجود پر سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ ہمارے جسم کا ہر عضو ایک دوسرے سے مربوط انداز میں کام کرتا ہے۔ جسم میں معمولی سی خرابی بھی پورے نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ وجود محض گوشت اور ہڈیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک نہایت پیچیدہ اور مربوط نظام ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہی انسان، جو خود ایک نہایت پیچیدہ نظام رکھتا ہے، چند صدیوں کے اندر علم اور ٹیکنالوجی میں ایسی ترقی کرچکا ہے جس کا تصور بھی ماضی کے انسان کے لیے مشکل تھا۔ چند سو سال پہلے انسان گھوڑوں اور کشتیوں کے ذریعے سفر کرتا تھا اور خطوط کے ذریعے رابطہ کرتا تھا، جبکہ آج وہ چند سیکنڈز میں دنیا کے دوسرے کونے تک پیغام پہنچا سکتا ہے۔ کبھی بیماریوں کو سمجھنا ایک دشوار مرحلہ تھا، آج انسان انسانی جسم کے خلیوں، جینز اور دماغ کے پیچیدہ نظام کا مطالعہ کر رہا ہے۔ کبھی آسمان کو صرف آنکھوں سے دیکھا جاتا تھا، آج انسان دور دراز کہکشاؤں کی تصاویر حاصل کر رہا ہے۔ ہم نے مصنوعی ذہانت بنائی، لیکن اپنی عقل خود نہیں بنائی۔ ہم نے روبوٹ بنائے، لیکن اپنے جسم کا نظام خود نہیں بنایا۔ ہم نے رابطے کے جدید ذرائع ایجاد کیے، لیکن اپنے اعصابی نظام کو خود وجود نہیں دیا۔ ہم نے جینیاتی کوڈ کو سمجھنا شروع کیا، لیکن جس حیاتیاتی نظام کے اندر یہ کوڈ موجود ہے، اسے ہم نے خود نہیں بنایا۔ اب ذرا اس انسانی عقل کے ایک بنیادی اصول پر غور کیجیے۔ جب ہم کسی پیچیدہ نظام کو دیکھتے ہیں تو اس کے پیچھے ذہانت کو تسلیم کرنا ہماری فطری عقلی روش ہے۔ اگر ہمیں کسی سنسان جگہ پر ایک پیچیدہ گھڑی ملے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اس کے تمام پرزے اتفاقاً جمع ہوئے اور گھڑی خود بخود وجود میں آگئی۔ اگر ہمیں کسی کمپیوٹر میں منظم کوڈ ملے تو ہم فوراً سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے کسی ذہن نے کام کیا ہے۔ یعنی جس چیز میں غیر معمولی پیچیدگی، ترتیب اور باہمی ربط دکھائی دے، اس کے پسِ پشت موجود ذہانت کا سوال بھی اتنا ہی اہم ہوجاتا ہے۔ جب ہم انسان کی بنائی ہوئی معمولی سی چیز کے بارے میں بھی یہ تصور قبول نہیں کرتے کہ وہ خود بخود وجود میں آگئی، تو پھر انسان کے اپنے وجود کے بارے میں یہ تصور کیسے قابلِ اطمینان ہوسکتا ہے؟ اگر ایک معمولی کتاب کے لیے مصنف ضروری ہے، ایک عمارت کے لیے معمار ضروری ہے اور ایک پیچیدہ کمپیوٹر کے لیے ذہن ضروری ہے، تو انسان جیسے شعور رکھنے والے اور انتہائی پیچیدہ وجود کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ بغیر کسی بنیادی سبب اور حکمت کے محض خود بخود وجود میں آگیا، کیا واقعی یہ زیادہ معقول موقف ہے؟ تو پھر سوال بالکل سادہ ہےکہ جس انسان کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ اس نے دنیا کو بدل دیا، وہ خود کیسے وجود میں آیا؟ جس انسان نے مصنوعی ذہانت بنائی، کیا وہ خود کسی خالق کے بغیر وجود میں آگیا؟ جس انسان نے پیچیدہ مشینیں، عمارتیں اور مواصلاتی نظام تخلیق کیے، کیا اس کا اپنا وجود کسی عقل و ارادے کے بغیر ہوگیا؟ شاید خدا کے وجود پر غور کرنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے آسمان کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں اپنے وجود پر غور کرنا چاہیے۔ ہم نے دنیا کو بنایا نہیں، ہم نے اسے دریافت کیا ہے۔ ہم نے عقل پیدا نہیں کی، ہمیں عقل عطا ہوئی ہے۔ پھر وہ عقل جس نے کائنات کے رازوں کو کھولنا شروع کیا، خود کہاں سے آئی؟ انسان اگر دیانت داری سے اپنے وجود پر غور کرے تو اسے اپنے خالق کو پہچاننے کے لیے کسی اور جگہ جانے کی ضرورت نہیں؛ اس کا اپنا وجود ہی اسے اپنے خالق کی طرف متوجہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
|
|