یا خدا یہ اذیت

کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں لفظوں میں سمو دینا ممکن نہیں رہتا۔ یہ دکھ جسم پر نہیں، روح پر لگتے ہیں۔ انسان چلتا پھرتا نظر آتا ہے مگر اندر کہیں بہت گہرا ایک گھاؤ درد دیتا رہتا ہے، ایسا گھاؤ جو وقت، صبر یا تسلیوں سے بھی بھر نہیں پاتا۔ اُس درد کی شدت ایسی ہوتی ہے کہ دل سوال کرتا ہے: آخر یہ آزمائش کب ختم ہو گی؟ یہ مسلسل جلتا ہوا اضطراب کب ٹھنڈا پڑے گا؟ مگر کوءی جواب نہیں ملتا۔ یہ اذیت صرف کسی جسمانی تکلیف کا نام نہیں۔ یہ وہ بے نام جذبہ ہے جو تب جنم لیتا ہے جب انسان ٹوٹتے ٹوٹتے اُس مقام پر پہنچ جائے جہاں نہ چیخ نکلتی ہے، نہ آنسو، نہ دل کو قرار آتا ہے، نہ سانس میں روانی رہتی ہے، نہ ذہن کو آرام۔ یہ کیفیت ایسی ہوتی ہے جیسے دل پر کوئی بوجھ رکھا ہو اور وہ بوجھ وقت کے ساتھ ہلکا ہونے کے بجائے مزید سنگین ہوتا جائے۔ کبھی کبھی انسان زندگی کے بیچ میں کھڑا ہوتا ہے مگر خود سے، اپنے ہی وجود سے، بالکل کٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔ لوگ ساتھ ہوں مگر دل تنہا ہو۔ چہروں پر مسکراہٹ ہو مگر اندر اندھیرا۔ قدم چلتے ہوں مگر راستہ کہیں دکھائی نہ دے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان سوچتا ہے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ اس بھاری پن کا، اس بے چینی کا، اس اذیت کا، اس گھٹن کا کیا سبب ہے؟ مگر خاموشی رہتی ہے۔ صرف خاموشی۔ ایک طویل، گہری اور تھکا دینے والی خاموشی۔ زندگی کبھی کبھی اتنی مشکل ہو جاتی ہے کہ سانس لینا بھی امتحان لگتا ہے۔ ہر صبح ایک نئے وزن کے ساتھ طلوع ہوتی ہے، اور ہر رات مزید تھکا دیتی ہے۔ یہ مسلسل تھکن محض جسمانی نہیں ہوتی، یہ وہ تھکن ہے جو دل کو سہارا دینے سے قاصر کر دیتی ہے۔ انسان چاہ کر بھی کسی سے کچھ کہہ نہیں پاتا۔ کیونکہ دنیا دکھ کی زبان نہیں سمجھتی۔ لوگ پوچھتے ہیں: کیا ہوا؟ مگر دل سوچتا ہے: کہاں سے شروع کروں؟ کون سا درد بیان کروں؟ کون سی تکلیف سمجھاؤں؟ اور کیسے سمجھاؤں؟ لوگ سمجھ نہیں سکتے، کیونکہ سمجھنے کے لیے اُس لمحے سے گزرنا ہوتا ہے۔ مگر لوگ نہیں گزرے ہوتے۔ ایسی کیفیت میں انسان کا سب سے بڑا دشمن اُس کی اپنی سوچ بن جاتی ہے۔ ذہن بار بار وہی تلخ تصویریں دہراتا ہے، وہی مایوسیاں، وہی باتیں، وہی پچھتاوے، وہی احساسات، وہی ناکامیاں۔ ایسے میں انسان خواہش کرتا ہے، کاش کوئی لمحہ ایسا آئے جو اس بھاری بوجھ کو ہٹا دے، کاش کوئی سرا مل جائے جسے پکڑ کر دل اس اندھیرے سے نکل سکے۔ مگر جب تک وہ سرا نہیں ملتا، انسان اسی اضطراب میں جلتا رہتا ہے۔ یہ جلنا آہستہ ہے، مگر تباہ کن۔ یہ گھاؤ چھپا ہوا ہے، مگر ناقابلِ برداشت۔ یہ درد خاموش ہے، مگر چیخ سے زیادہ طاقتور۔ کبھی کبھی انسان خود سے بھی جھوٹ بولنے لگتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے، سنبھل چکا ہے، گزر گیا سب کچھ، مگر پھر کوئی لمحہ، کوئی خیال، کوئی یاد، پرانے سارے گھاؤ ایک دم سے کھول دیتی ہے۔ ایسے لمحوں میں دل کی دھڑکن بھی دشمن لگتی ہے، اور سانس لینا بھی ایک بوجھ۔ انسان اس اذیت میں خود کو لایعنی محسوس کرنے لگتا ہے۔ اُسے لگتا ہے کہ اُس کی کوئی بات اہم نہیں، کوئی درد قابلِ توجہ نہیں، اور اُس کا وجود ہجوم میں بھی گم ہے۔ یہ احساس بہت خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ یہ دل کو اندر ہی اندر توڑ دیتا ہے، بلکہ مار دیتا ہے، بغیر آواز، بغیر شور، بغیر کسی کے نوٹس کیے۔ ایسی حالت میں نہ رونا آسان ہوتا ہے، نہ بولنا، نہ خاموش رہنا۔ ہر راستہ الجھا ہوا لگتا ہے، ہر فیصلہ غلط، اور ہر امید کمزور۔ جو لوگ اس کیفیت سے گزر رہے ہوتے ہیں، وہ بظاہر مضبوط دکھائی دیتے ہیں، مگر دنیا کو کیا خبر کہ اُن کی راتیں کتنی بھاری، اُن کی سانسیں کتنی مشکل، اور اُن کے دل کی دھڑکنیں کتنی زخمی ہوتی ہیں۔ کچھ اذیتیں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو اندر سے بدل دیتی ہیں۔ وہ اُسے پہلے جیسا رہنے نہیں دیتیں۔ وہ اُسے وقت سے پہلے بڑا، گہرا اور خاموش کر دیتی ہیں۔ پھر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ تم پہلے جیسے نہیں رہے۔ کیا ان سب کے باوجود بھی کوءی پہلے جیسا رہ سکتا ہے؟ کیا اتنی اذیتوں کے باوجود بھی کوءی دل سے مسکرا سکتا ہے؟ کیا پھر بھی کوءی زندگی کو کھلے دل کے ساتھ جی سکتا ہے؟ ان باتوں کا جواب سب جانتے ہیں پھر بھی انجان بنتے ہیں۔ ایسی اذیت کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ کسی ایک لمحے میں نہیں اُترتی۔ یہ آہستہ آہستہ، بہت خاموشی سے، انسان کی پوری زندگی پر قبضہ جما لیتی ہے۔ پہلے دل بھاری ہوتا ہے، پھر ذہن منتشر، پھر جسم کمزور، اور آخر میں ارادہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ انسان چاہ کر بھی وہ نہیں رہ پاتا جو پہلے تھا۔ زندگی کی رونقیں دیکھتے ہوئے بھی دل میں ایک سناٹا رہتا ہے، ایسا سناٹا جو جتنا دبانے کی کوشش کرو، اتنا ہی گہرا ہوتا جاتا ہے۔ جو لوگ اس کیفیت کو نہیں سمجھتے، وہ کہتے ہیں کہ وقت سب ٹھیک کر دیتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت اُن زخموں کو نہیں بھرتا جو جذبات کی گہرائی میں لگے ہوں۔ وقت صرف اتنا کرتا ہے کہ درد کو اندر دبا دیتا ہے، تاکہ انسان دنیا کے سامنے مسکراہٹ اوڑھ سکے۔ مگر اندر کہیں وہ زخم ہمیشہ ویسا ہی تازہ ہوتا ہے۔ اذیت کبھی یکدم ختم نہیں ہوتی۔ یہ ایک لمبی جنگ ہے، اور اس جنگ میں سب سے بڑی آزمائش تنہائی ہوتی ہے۔ وہ تنہائی جو آپ لوگوں کے درمیان رہ کر بھی محسوس کرتے ہیں۔ کوئی پوچھے بھی تو آپ کے اندر کی کہانی اتنی بھاری ہوتی ہے کہ زبان تک آتے آتے لفظ مر جاتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں اذیت خاموشی کا رُوپ دھار لیتی ہے۔ جب خاموشی بڑھ جائے تو انسان بولنے سے بھی ڈرنے لگتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں الفاظ میں چھپا درد باہر نہ آ جائے، کہیں آنسو بے قابو نہ ہو جائیں، کہیں دنیا اُس کی کمزوری نہ دیکھ لے۔ وہ اپنے دکھ کو چہرے کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتا ہے، اور یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہے، کیونکہ جو انسان ہنس کر درد چھپاتا ہے، وہ اندر سے سب سے زیادہ زخمی ہوتا ہے۔ دن گزرتے ہیں، زندگی اپنے بے رحم رفتار سے آگے بڑھتی رہتی ہے، سب کچھ ختم ہوتا جاتا ہے، مگر دل وہیں کھڑا رہ جاتا ہے، ایک ایسے مقام پر جہاں وقت رک سا گیا ہو۔ انسان کوشش بھی کرتا ہے کہ آگے بڑھ جائے، اپنے آپ کو نئے کاموں میں مصروف کرے، لوگوں میں گھل مل جائے، مگر جب رات گہری ہوتی ہے، دن کی مصنوعی مصروفیات ایک ایک کر کے اتر جاتی ہیں، اور پھر وہی درد، وہی گھٹن، وہی بے نام تکلیف سایے کی طرح قریب آ بیٹھتی ہے۔ رات کا اندھیرا انسان کی سب سے بڑی کمزوری سامنے لے آتا ہے، وہ کمزوری جو دن کے شور میں ڈھکی رہتی تھی۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب دل سب سے زیادہ چیختا ہے، جب اذیت اپنے اصل رُوپ میں اُبھرتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان خود سے بھی خوف کھانے لگتا ہے۔ اُسے لگتا ہے کہ کہیں وہ اس گہرے اندھیرے میں ڈوب نہ جائے، کہیں وہ اس بھاری پن کی وجہ سے سانس نہ کھو بیٹھے، کہیں یہ اذیت اُسے پوری طرح نگل نہ لے۔ بس پھر ایک ہی فریاد رہ جاتی ہے کہ: یا اللاہ اس اذیت سے آزاد کر دے، ہمیشہ کے لیے۔ 
Shayan Alam
About the Author: Shayan Alam Read More Articles by Shayan Alam: 71 Articles with 48950 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.