چین میں خودکار گاڑیوں کے لیے قانون سازی کی نئی راہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں خودکار گاڑیوں کے لیے قانون سازی کی نئی راہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ایک وقت تھا جب سڑک پر چلنے والی گاڑی کے پیچھے لازماً ایک ڈرائیور موجود ہوتا تھا، مگر ٹیکنالوجی نے اس تصور کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ اب گاڑیاں سڑک، ٹریفک اور اردگرد کے حالات کو خود سمجھنے اور بعض صورتوں میں ڈرائیونگ کے کام انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔ چین نے بھی اس بدلتی ہوئی حقیقت کے ساتھ قانونی نظام کو ہم آہنگ کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے۔
چین نے روڈ ٹریفک سیفٹی قانون میں مجوزہ ترامیم کے مسودے میں خودکار گاڑیوں کے لیے ایک الگ باب شامل کیا ہے، جس کا مقصد تیزی سے ترقی کرتے خودکار ڈرائیونگ کے شعبے کے لیے زیادہ واضح قانونی بنیاد فراہم کرنا ہے۔
مجوزہ مسودے میں خودکار گاڑیوں اور ڈرائیور معاون افعال کی تعریف کی گئی ہے، عوامی سڑکوں پر خودکار گاڑیوں کے چلنے کی شرائط واضح کی گئی ہیں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری کے اصول وضع کیے گئے ہیں جبکہ ایسی گاڑیوں کے لیے انشورنس سے متعلق انتظامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
مجوزہ قانون کے مطابق اگر کسی خودکار گاڑی میں خودکار ڈرائیونگ کا نظام فعال ہو اور اس دوران سڑک کے تحفظ سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہو جائے تو اس خلاف ورزی سے نمٹنے کی ذمہ داری گاڑی تیار کرنے والے ادارے یا درآمد کنندہ پر عائد ہوگی۔دوسری جانب وہ خودکار گاڑیاں جو عوامی سڑکوں پر چلتے وقت اپنا خودکار ڈرائیونگ نظام فعال نہ رکھتی ہوں، اسی طرح وہ گاڑیاں جن میں صرف ڈرائیور معاون نظام موجود ہو، عام گاڑیوں کے لیے مقررہ ٹریفک قوانین کے تحت ہی چلائی جائیں گی۔
یہ تفریق اس لیے اہم ہے کہ خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی مختلف سطحوں پر کام کرتی ہے۔ کہیں گاڑی صرف ڈرائیور کی مدد کرتی ہے جبکہ کہیں وہ مخصوص حالات میں ڈرائیونگ کے بیشتر کام خود انجام دے سکتی ہے۔ ایسے مختلف حالات میں ذمہ داری کا تعین سڑک کے تحفظ اور ٹیکنالوجی کے عملی استعمال دونوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مجوزہ قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ریاست عوامی سڑکوں پر خودکار گاڑیوں کی محفوظ، منظم اور ضابطے کے مطابق آزمائش، مظاہرے اور آپریشن کی حمایت کرے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکار ڈرائیونگ کو صرف تجرباتی ٹیکنالوجی کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کے ٹرانسپورٹ نظام کا حصہ بنانے کے لیے قانونی ماحول تیار کیا جا رہا ہے۔
چین میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی تیز رفتار ترقی نے بھی ذہین ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اعلیٰ کارکردگی رکھنے والی چپس، جدید لائی ڈار سینسرز اور دیگر ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کے باعث گاڑیوں میں شامل ذہین نظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور مؤثر ہو چکے ہیں۔چین کی ذہین اور باہم مربوط گاڑیوں کی صنعت پالیسی معاونت، تکنیکی جدت، مختلف شعبوں کے باہمی تعاون اور مضبوط مارکیٹ طلب کی وجہ سے تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اس ماحول نے خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کی آزمائش اور عملی استعمال کے عمل کو بھی تیز کیا ہے۔
چین بھر میں خودکار ڈرائیونگ کی آزمائش اور مظاہرے کے لیے 57 ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں کھولی جا چکی ہیں، جبکہ ان گاڑیوں کی مجموعی آزمائشی مسافت 22 کروڑ کلومیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ خودکار ڈرائیونگ اب محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ حقیقی سڑکوں پر بھی اس کے عملی تجربات وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔
روڈ ٹریفک سیفٹی قانون میں مجوزہ ترامیم موجودہ قانون کے نفاذ کے دو دہائیوں بعد سامنے آئی ہیں۔ موجودہ قانون 2004 میں نافذ ہوا تھا جبکہ اس کی بعض شقوں میں 2007، 2011 اور 2021 میں ترامیم کی گئی تھیں۔ نئی مجوزہ ترامیم پہلے کی نسبت زیادہ جامع ہیں اور ان کا مقصد اقتصادی و سماجی ترقی کے ساتھ قانون کو ہم آہنگ کرنا، عوام کی ضروریات کو پورا کرنا اور سڑکوں کے تحفظ کو مزید بہتر بنانا ہے۔
مجوزہ ترامیم صرف خودکار گاڑیوں تک محدود نہیں رہیں۔ نان موٹر گاڑیوں کے لیے مخصوص لین میں برقی سائیکلوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 15 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھا کر 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اسی طرح دورانِ ڈرائیونگ ہاتھ میں پکڑے موبائل فون سے کال کرنے یا کال سننے اور ویڈیوز دیکھنے پر پابندی سے متعلق نئی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔مسودے میں سڑکوں پر موٹر گاڑیاں لاوارث چھوڑنے اور لازمی قومی معیارات پر پورا نہ اترنے والی گاڑیوں کی تیاری، درآمد یا فروخت پر بھی پابندی کی تجاویز شامل ہیں۔
یوں خودکار ڈرائیونگ کے لیے الگ قانونی باب کا اضافہ صرف ایک قانونی ترمیم نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ کے بدلتے ہوئے مستقبل کے لیے قواعد وضع کرنے کی کوشش ہے۔ جیسے جیسے گاڑیاں زیادہ ذہین اور خودکار ہوتی جائیں گی، سڑکوں پر ان کے استعمال کے ساتھ ذمہ داری، حفاظت اور ضابطہ کاری کے سوالات بھی اہم ہوتے جائیں گے۔ چین کی نئی قانون سازی اسی بدلتی ہوئی دنیا کے لیے ایسا قانونی راستہ بنانے کی کوشش ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی اور سڑکوں کا تحفظ ایک ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ |
|