یہ دیکھیے جی آپکے پاس ایک ایسی سلِمنگ ہربل دوا آئی ہے یہ آپکے منہ کے اندر بعد میں جائے گی پہلے آپ کا وزن کم ہو کر آپکو مشین پر مطلوبہ نمبر چھوتا نظر آنے لگے گا۔اس دوا کا نام کسی مشہورومعروف سوشل میڈیا شخصیت سے سُنوایا جائے گا۔ تاکہ آپ جو تذبذب میں مبتلا ہوں بھی تو فورا سے خریدنے پر مان جائیں۔
پہلے کسی دور میں گھر کے بڑے بزرگ معتبر اور مشورے کے قابل سمجھے جاتے تھے پھر اُنکی جگہ گوگل اور وکی پیڈیا نے لے لی۔ اب چیٹ جی پی ٹی اور اے آئی اس عہدے پر فائز ہیں۔ مگر ساتھ میں ستارے جن کی سوشل میڈیا پر بھرمار ہے۔ ان کی آمد سے پہلے آپکے ستارے جیسا کہ زہرہ عطارد مریخ عقرب اسد وغیرہ وغیرہ بتاتے تھے کہ کیا کھائیں کیا نہ کھائیں۔ کہاں جائیں کس سے ملیں نہ ملیں۔ مگر اب یہ کام بھی سوشل میڈیا ستاروں نے لے لیا ہے۔ جیسا کہ وہ جس بھی جگہ جائیں گے جو بھی کھائیں گے۔ ریویوز کے نام پر آپکو ضرور بتائیں گے۔ پھر آپ بھی خود پر لازم سمجھیں گے اور اُدھر جانا اپنا فریضہ سمجھیں گے۔
ٹِک ٹوک انسٹا گرام فیس بک یو ٹیوب سنیپ چیٹ اِنھوں نے اس سوشل میڈیا ستارے شہرت کے آسمان پر جگمگائے اور سوشل میڈیا influencer کی اصطلاح متعارف کروائی۔جسکے ذہن میں جو خیال آیا اُس نے ویڈیو بنا ڈالی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی۔
لفظ inappropriate کا مطلب ہے نامناسب۔ جو چیز ہمارے معاشرے میں دکھانا کُھل کر بتانا غیر موزوں تھی۔ وہ سوشل میڈیا ستاروں نے عام کردی۔ ابھی بھی الیکٹرونک میڈیا کچھ ایک حد تک کنٹرولڈ ہے۔مگر سوشل میڈیا کی روانی کے ساتھ پھیلتے اور اَکڑتے وجود کو آپ قابو نہیں کر سکتے۔ سوشل میڈیا نے دُنیا کو گلوبل ولیج بنایا۔ اِس ولیج میں بڑی آبادی شامل ہے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رابطہ کرنا آسان ،اِسی لئے سوشل میڈیا کے ستارے بھی کسی بھی کونے سے آپ کوئی سے بھی منتخب کر سکتے ہیں۔انکے پیچھے لگ سکتے ہیں۔
ستارے دن کا آغاز کیسے کر رہے ہیں؟ ناشتے میں کس برینڈ کا بریڈ مکھن جیم کارن فلیکس دودھ استعمال کیا جارہا ہے وہ بھی بتایا جائے گا۔کس جگہ جانا ہے آنے والوں کے لئے کیا پکانا ہے۔وہاں گئے تو کیا کھایا؟ آنے والا کیا لایا۔ قریب قریب دن بھر کی اچھی خاصی ایکٹیویٹز وہ آن کیمرہ ہی کرتے ہیں۔
اب دو باتیں جو مزے کی ہیں۔ سوشل میڈیا کے پہلے تک سیلیرٹی ستارے صرف شوبز کے لوگ ہوتے تھے۔ اب جو کوئی بھی کسی بھی طرح اپنی شادی کی ایک چند منٹوں کی ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر ڈال دے وہ ایک ستارہ بن جاتا ہے۔
اور دوسرا جیسے نئی گاڑی لے کر یا ٹرک سجا کر اُس پر کالی ٹاکی باندھی جاتی ہے کہ نظر نہ لگے اِسی طرح سوشل میڈیا پر اپنی بلیسنگز کی فوٹوز لگا کر evil eye off لکھ کر یہ توقع کی جاتی ہے کہ اب نظر نہ لگے گی۔
شاید نظر لگنے کا ٹرینڈ نہیں رہا جو کسی کے اندر بھی فلیکس کرتے ہوئے خوف نہیں رہا۔ ماں کے لعل اپنے گھومنے کی ویڈیوز پاپا کی پریاں اپنی تیاریاں دکھاتے نظر آئیں گے۔ حضرات اور خواتین الگ الگ دلچسپی کے کام دکھاتے نظر آئیں گے۔ content ذیادہ بے کار کا
کم کارآمد
مثبت آگہی دینے والے ہُنر سکھانے والے تمیز سکھانے والے لوگ جو اپنے اکاونٹ کا خیال رکھتے ہیں اُسکو مثبت کاموں سے بھر کر آپکے ذہن کو بھی پروان چڑھاتے ہیں۔
اب اگر تو بات کی جائے بے کارکاموں کی تو بہت سارے لوگ گالم گلوچ الزام تراشی کرتے روسٹنگ کے نام پرملیں گے۔آپ انکو نہ کچھ کہہ سکتے ہیں نہ کرسکتے ہیں۔ صرف خود آنکھیں بند کر لیں یہ بہترین حل ہے۔ کوئی دوسروں کو اپنی چیزیں دکھا کر کوئی مقابلہ بازی میں کوئی دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر یہ سب کچھ رَل مِل کر آپکی زندگی کی کوالٹی بناتی ہیں۔ ستاروں کی اپنی کوالٹی آف لائف کیسی بن رہی ہے یہ تو کچھ یقینی نہیں ہاں مگر
معاشرے کا ایک طبقہ مار کھا رہا ہے۔ کم مراعات یافتہ طبقہ کیوںکہ مہنگائی کا گراف اوپر ۔۔۔پھر بھی اس طبقے کے بچے سیلوں سے چیزیں اکٹھی ۔۔۔کرنے ماں باپ انکو مہنگے سکول میں پڑھانے اور بے شمار لوازمات پورے کرنے میں مصروف ہیں۔ بیوی کو شوہر سے شکایت کہ فلاں برینڈ کا سوٹ کے لئے چند پیسے نہیں دے سکتے۔ شوہر کو الگ شکایت کہ بیوی مرجھائی ہوئی ہے۔
خوشحال طبقے میں چوہے بلی کی دوڑ اور آپ نہیں جانتے کون واقعی افورڈ کر سکتا ہے کون ڈراما کر رہا ہے؟ یہ سب کچھ کس حد تک ستاروں نے سکھایا اور کس حد تک آپ نے خود سیکھا؟؟؟
سوچئے گا ضرور راغب مراد آبادی کے کلام کا ایک مصرعہ نہ منزل ہے نہ منزل کا نشاں ہے
|