حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر کیا جانے والا گراں قدر کام
(Dr Mehboob Syed, Karachi)
ڈاکٹر سید محبوب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، عقیدت، لگاؤ، تعلق اور عشق مسلمانوں کا نہایت اہم اور قیمتی اثاثہ ہے۔ اس کے بغیر ایمان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایمان کا لازمی جز ہے دنیا بھر میں بسنے والے دو ارب مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار اپنی استعداد اور اپنے اپنے طریقے سے کرتے ہیں ۔محبت کے اظہار کے طریقے اور ذرائع مختلف ہو سکتے ہیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کا مشترکہ سرمایہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقان نے مختلف پہلوؤں سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور سیرت مبارکہ پر کام کیا ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ چونکہ قیامت تک انے والے تمام ادوار کے انسانوں کے لیے ایک مکمل نمونہ ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر پہلو، ہر زاویے پر تحقیقی نظر سے کام کیا گیا ہے اور الحمدللہ نہایت معیاری کتب تحریر کی گئی ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر کس قدر متنوع کام ہوا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر 25 کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں ڈاکٹر خالد علوی کی کتاب طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس چھ جلدوں پر مشتمل ہے سعدیہ غزنوی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماہر نفسیات ایک نہایت عمدہ تحقیقی کتاب لکھی ہے۔ ڈاکٹر فضل الہی نے" حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم" نہایت عمدہ کتاب لکھی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک پر 50 کتابیں لکھی گئی ہیں اور نعلین مبارک پر لکھنے والوں میں مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمت اللہ علیہ بھی شامل ہیں .ڈاکٹر حسین بانو نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارت کاری پر نہایت عمدہ کتاب تحریر کی ہے. عبدالباری کی "حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی اسکیم 'بھی عمدہ کوشش ہے علامہ شبلی نعمانی اور ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی کی" سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم" کو حیات طیبہ پر لکھی جانے والی کتابوں میں ممتاز حیثیت حاصل ہے اور یہ اب تک اردو زبان میں لکھی گئی کتابوں میں سب سے بہترین کتاب ہے .قاضی محمد سلیمان منصورپوری کی 'رحمت اللعالمین" عبدالرحمن مبارک صفی پوری کی" الرحیق المخدوم " اور تجلیات نبوت" پیر کرم شاہ الازہری کی" ضیاء النبی "سید ابو الاعلی مودودی کی" سیرت سرور دو عالم' ڈاکٹر محمود احمد غازی کے لیکچروں پر مشتمل "محاضرات سیرت" ڈاکٹر عبدالحئی کی" اسوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم" نعیم صدیقی کی" محسن انسانیت" ڈاکٹر طاہر القادری کی "سیرت رسول' بھی نہایت عمدہ کتابیں ہیں . ڈاکٹر ولی راضی کی اردو معلی میں لکھی گئی کتاب اسوہ ہادی بھی نہایت عمدہ کوشش ہے غیر مسلم دانشوروں میں کچھ تو ایسے ہیں جن کی تحریریں متعصبانہ ہیں لیکن دو انتہائی قابل قدر مغربی دانشوروں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہایت عمدہ کتابیں لکھی ہیں جن میں ڈاکٹر این میری شمل کیAnd Muhammad is the messenger of God اور اکسفورڈ یونیورسٹی کی محقق اور استاد کیرن آرم سٹرانگ کیMuammad the messenger of our age بھی عمدہ کتابیں ہیں۔اس کے علاوہ ایم ایچ ہارٹ کی کتاب دی 100 میں تاریخ انسانی پر سب سے زیادہ اثرات مرتب کرنے والے سو افراد کا ذکر ہے جس میں سب سے پہلا اور نمایاں نام حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہے سیرت پر تحقیق کرنے والوں کا سلسلہ جاری ہے اور یہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے اگاہ کیا جائے اور ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت سیرت طیبہ کی روشنی میں کی جائے اور ایک امت کے احساس کے نظریے کو ہر جگہ فروغ دیا جائے |
|