آسٹریلیا میں اسلامی اقدار اور تہذیبی شناخت کا خوب صورت اجتماع

آسٹریلیا میں اسلامی اقدار اور تہذیبی شناخت کا خوب صورت اجتماع
طارق محمود مرزا — سڈنی، آسٹریلیا
[email protected]
آسٹریلیا میں رہتے ہوئے ایک بات کا احساس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہاں بسنے والی مسلم کمیونٹی اب صرف اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھنے کی کوشش نہیں کر رہی بلکہ اپنے دین، تہذیب، زبان، ثقافت اور نئی نسل کے مستقبل کے حوالے سے ایک منظم اور مثبت کردار بھی ادا کر رہی ہے۔ اس کی ایک خوب صورت مثال اسلامک فورم آف آسٹریلیا (IFAM) کا سالانہ کنونشن ہے، جو گزشتہ تین برس سے سڈنی میں منعقد ہو رہا ہے اور اب آسٹریلیا میں مسلمانوں کے بڑے اور نمایاں اجتماعات میں شمار ہونے لگا ہے۔
اس سال اسلامک فورم آف آسٹریلیا کا تیسرا سالانہ کنونشن 3 اور 4 اکتوبر 2026ء کو سڈنی کے Rosehill Gardens میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ علم، فکر، تربیت، ثقافت، خاندانی سرگرمیوں اور کمیونٹی کے باہمی رابطے کا ایک جامع پلیٹ فارم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال آسٹریلیا کے مختلف شہروں اور مختلف پس منظر رکھنے والے مسلمان اس کنونشن میں شرکت کے لیے سڈنی کا رخ کرتے ہیں۔
اسلامک فورم آف آسٹریلیا ایک ایسی تنظیم ہے جو کئی برسوں، بلکہ کئی دہائیوں سے آسٹریلیا میں اسلام کی خدمت، مسلمانوں کی دینی رہنمائی اور کمیونٹی کی فلاح کے لیے سرگرم عمل ہے۔ کئی اسلامی مراکز اور رفاعی ادارے ایفام کے زیر انتظام کامیابی سے چل رہے ہیں ۔
آسٹریلیا ایک کثیر الثقافتی معاشرہ ہے جہاں مختلف مذاہب، قومیتوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی شناخت کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہاں قانون مذہبی آزادی اور شخصی آزادی کا تحفظ کرتا ہے۔ چنانچہ مسلمان بھی ان جمہوری اور قانونی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مذہبی، اخلاقی اور تہذیبی اقدار کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ آسٹریلوی معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اصل چیلنج شاید یہی ہے کہ ہم اپنی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے معاشرے کا فعال اور ذمہ دار حصہ کیسے بنیں۔ میری نظر میں ایفام کا یہ کنونشن اسی سوال کا ایک عملی جواب پیش کرتا ہے۔
اس کنونشن کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف علماء کی تقاریر یا مذہبی موضوعات تک محدود پروگرام نہیں ہوتے۔ معروف علماء، دانش وروں اور مقررین کے ساتھ ساتھ بچوں، خواتین اور فیملیز کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ فیملی سیشنز، بچوں کی سرگرمیاں، علمی و فکری نشستیں، نیٹ ورکنگ، کمیونٹی پروگرام اور ثقافتی سرگرمیاں اس اجتماع کو ایک ہمہ گیر شکل دیتی ہیں۔
یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ آج کی نسل صرف تقریر سننے سے متاثر نہیں ہوتی۔ بچوں اور نوجوانوں کو اپنے دین اور تہذیب سے جوڑنے کے لیے انہیں ایسا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جہاں وہ سیکھ بھی سکیں، سوال بھی کر سکیں، اپنی صلاحیتوں کا اظہار بھی کریں اور اپنے جیسے دوسرے خاندانوں سے مل بھی سکیں۔ ایسے اجتماعات نئی نسل میں یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ اسلام محض چند مذہبی رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی، اخلاقی نظام اور فکری روایت ہے۔
مختلف اندازِ فکر رکھنے والے اہلِ علم کی موجودگی اس پروگرام کو مزید وسعت دیتی ہے۔اس سال کے کنونشن میں آسٹریلیا کے معروف علماء کے ساتھ بیرونِ ملک سے بھی ممتاز اہلِ علم شریک ہو رہے ہیں۔ ان میں پاکستان سے مشہور عالم دین اور مبلغ مولاناطارق جمیل اور امریکہ سے نوجوانوں میں مقبول عام شیخ یاسر قاضی نمایاں ہیں۔
لیکن کسی بھی کمیونٹی کی زندگی صرف مذہبی اجتماعات سے مکمل نہیں ہوتی۔ زبان اور ادب بھی اجتماعی شناخت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اسی لیے اس کنونشن میں ہر سال مشاعرے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ مشاعرے کی ایک خاص کشش ممتاز شاعر منظر بھوپالی کی شرکت ہے۔ پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر میں اردو کے قارئین اور سامعین ان کے کلام سے واقف ہیں۔
گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی مجھے اس مشاعرے کی نظامت کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ میرے لیے یہ محض ایک ادبی پروگرام کی میزبانی نہیں بلکہ آسٹریلیا میں اردو زبان اور ادب کی خدمت کے تسلسل کا ایک حصہ ہے۔ بیرونِ ملک آباد اردو بولنے والوں کے لیے مشاعرہ محض شاعری سننے کی محفل نہیں ہوتا، یہ اپنے ماضی، زبان اور تہذیبی حافظے سے جڑنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ گزشتہ برس بھارت سے نواز دیوبندی جبکہ اس سے پہلے پاکستان سے معروف شاعر خالد مسعود خان اس ادبی سلسلے کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس طرح ایفام کنونشن میں مذہبی اور فکری پروگراموں کے ساتھ اردو ادب کے لیے بھی ایک مستقل جگہ بنتی جا رہی ہے۔
گزشتہ برسوں کی طرح کنونشن کے اردو پروگرام میں مجھے علامہ اقبال کے فکر و فلسفے پر گفتگو کرنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔ اقبال میرے لیے محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری مطالعے کا موضوع ہیں۔ ان کے ہاں خودی، عمل، خود اعتمادی، انسان کی تعمیر اور امت کی بیداری جیسے موضوعات آج بھی اسی طرح اہم ہیں جیسے ایک صدی پہلے تھے۔
ایفام کنونشن کی ایک خوب صورتی یہ بھی ہے کہ یہاں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ خواتین، مرد، بچے، نوجوان، بزرگ، مختلف نسلی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے مسلمان اور کمیونٹی کے دوسرے افراد، سب اس کا حصہ بنتے ہیں۔ اس طرح کے اجتماعات باہمی تعارف اور رابطے کو بڑھاتے ہیں اور یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ اگرچہ ہماری زبانیں، ملک اور ثقافتی روایات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ہماری دینی بنیادیں ایک ہیں ۔
آسٹریلیا میں مسلمانوں کی نئی نسل اب اسی ملک میں پروان چڑھ رہی ہے۔ ان کے لیے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، عرب ممالک یا دیگر مسلم معاشرے ان کے آبائی حوالوں کا حصہ تو ہیں، لیکن ان کا موجودہ وطن آسٹریلیا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی دینی اور تہذیبی اقدار کو آسٹریلوی معاشرے کے مثبت اور ذمہ دار شہری ہونے کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ اپنے بچوں کو یہ اعتماد دیں کہ وہ مسلمان بھی ہو سکتے ہیں، اپنی تہذیب سے وابستہ بھی رہ سکتے ہیں اور آسٹریلیا کے کامیاب، قانون پسند اور فعال شہری بھی بن سکتے ہیں۔میرے نزدیک یہی ایسے کنونشن کی اصل اہمیت ہے۔
اسلامک فورم آف آسٹریلیا کا یہ سفر اگر اسی طرح آگے بڑھتا رہا تو آنے والے برسوں میں یہ کنونشن نہ صرف مسلمانوں کے ایک بڑے سالانہ اجتماع کے طور پر بلکہ آسٹریلیا کی کثیر الثقافتی زندگی میں مسلم کمیونٹی کی مثبت شناخت کے ایک اہم مظہر کے طور پر بھی سامنے آ سکتا ہے۔
آج جب دنیا بھر میں مذہب، شناخت، تہذیب اور نئی نسل کے مستقبل کے حوالے سے بحث جاری ہے، ایسے میں آسٹریلیا کے مسلمان اگر علم، اخلاق، اتحاد، تعلیم، ادب اور خدمت کو اپنا راستہ بنائیں تو وہ نہ صرف اپنی شناخت محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ آسٹریلوی معاشرے کی تعمیر میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔3 اور 4 اکتوبر کو سڈنی کے روز ہل گارڈن میں ہونے والا کنونشن اسی سفر کی ایک اور خوب صورت کڑی ہے،ایک ایسا اجتماع جہاں دین بھی ہے، فکر بھی، ادب بھی، ثقافت بھی، خاندان بھی اور سب سے بڑھ کر ایک بہتر مستقبل کا خواب بھی۔

 

Tariq Mirza
About the Author: Tariq Mirza Read More Articles by Tariq Mirza: 65 Articles with 63058 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.