NorAI story
(Dr wali khan almuzaffar, Karachi)
|
چودہ سو سال بعد ایک دروازہ کھلا!
ایک گمشدہ چابی، ایک معصوم سوال، چودہ صدیوں کی خاموشی اور نور AI کی انقلابی داستان
قلم: ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر
یہ ایک تخیلاتی داستان ہے، لیکن اس میں اٹھایا گیا سوال حقیقی ہے، تاریخ حقیقی ہے، اور مستقبل کا خواب بھی حقیقی ہے۔
پہلا منظر: وہ سوال جس نے استاد کو خاموش کردیا!
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔
پہاڑوں کے دامن میں آباد ایک چھوٹے سے گاؤں کی مسجد سے قرآن مجید کی تلاوت کی آواز آرہی تھی۔
مسجد میں ممتاز عالم دین شیخ ڈاکٹر ولی خان المظفر اپنی پُرسوز آواز میں سورۂ یوسف کی تلاوت کررہے تھے:
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ۔
مسجد کے ایک کونے میں بارہ سال کا ایک ذہین طالب علم بیٹھا تھا۔
اس کا نام حمزہ درانی تھا۔
وہ قرآن مجید ناظرہ پڑھ چکا تھا، کئی سورتیں یاد کرچکا تھا، نماز بھی پڑھتا تھا، لیکن اس رات نہ جانے اس کے دل میں کیا خیال آیا کہ تلاوت ختم ہوتے ہی استاد کے قریب پہنچ گیا۔
بولا:
’’حضرت شیخ! ایک سوال پوچھوں؟‘‘
شیخ ولی خان المظفر مسکرائے۔
’’پوچھو بیٹا!‘‘
’’حضرت! یہ قرآن کس زبان میں ہے؟‘‘
’’عربی میں۔‘‘
’’اور یہ قرآن کس نے نازل فرمایا؟‘‘
’’اللہ تعالیٰ نے۔‘‘
’’اور کس کے لیے نازل فرمایا؟‘‘
’’تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے۔‘‘
حمزہ درانی نے چند لمحے خاموش رہ کر اگلا سوال کیا:
’’حضرت شیخ! اگر اللہ تعالیٰ نے قرآن ہماری ہدایت کے لیے عربی میں نازل کیا ہے، تو پھر ہمیں عربی کیوں نہیں سکھائی جاتی؟‘‘
شیخ نے جواب دیا:
’’بیٹا! ہمارے ہاں قرآن کا ترجمہ پڑھایا جاتا ہے، تفسیر بھی پڑھائی جاتی ہے۔‘‘
حمزہ نے فوراً کہا:
’’لیکن حضرت شیخ! اگر میں انگریزی سیکھ سکتا ہوں، اردو سیکھ سکتا ہوں، پشتو بول سکتا ہوں، تو پھر میں قرآن کی زبان کیوں نہیں سیکھ سکتا؟‘‘
شیخ ولی خان المظفر چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے۔
حمزہ درانی نے ایک اور سوال کردیا:
’’حضرت! اگر ہمارے دادا، پردادا اور ان سے پہلے آنے والے لوگ بھی عربی سیکھتے رہتے، تو آج ہمارے گھر میں سب کو قرآن کی زبان آتی، ہے نا؟‘‘
شیخ کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک پیدا ہوئی۔
انہوں نے حمزہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے کہا:
’’حمزہ بیٹا! تم نے آج وہ سوال پوچھا ہے جو ہمارے تعلیمی نظام کو بہت پہلے پوچھ لینا چاہیے تھا!‘‘
حمزہ کو شاید معلوم نہیں تھا کہ اس نے صرف اپنے استاد سے سوال نہیں کیا تھا۔
اس نے چودہ صدیوں کی تاریخ کے دروازے پر دستک دی تھی!
---
دوسرا منظر: چودہ سو سال پرانی الماری
اسی رات حمزہ درانی نے ایک عجیب خواب دیکھا۔
اس نے دیکھا کہ وہ ایک بہت بڑی لائبریری میں داخل ہوا ہے۔
جہاں تک نظر جاتی تھی، کتابیں ہی کتابیں تھیں۔
تفسیر کی کتابیں، حدیث کی کتابیں، فقہ کی کتابیں، تاریخ کے دفتر، فلسفے کی تصانیف، ادب کے دیوان اور لغت کی ضخیم جلدیں!
ہر طرف علم کا سمندر موجزن تھا۔
اچانک اسے اپنے استاد شیخ ولی خان المظفر دکھائی دیے۔
سفید لباس، روشن چہرہ، ہاتھ میں ایک کتاب!
انہوں نے پوچھا:
’’حمزہ بیٹے! تم یہاں کیا تلاش کررہے ہو؟‘‘
حمزہ نے کہا:
’’حضرت شیخ! میں قرآن کی زبان تلاش کررہا ہوں۔‘‘
شیخ مسکرائے۔
’’قرآن کی زبان تو یہاں ہر طرف موجود ہے۔‘‘
حمزہ نے حیرت سے پوچھا:
’’پھر ہمارے گاؤں میں کیوں نہیں ہے؟ ہمارے اسکول میں کیوں نہیں ہے؟ ہماری گلیوں میں کیوں نہیں ہے؟‘‘
شیخ ولی خان المظفر نے ایک الماری کھولی۔
اس میں عربی زبان کے عظیم علماء کی کتابیں رکھی تھیں۔
خلیل بن احمد، سیبویہ، کسائی، فراء، ابن جنی، ابن فارس، عبدالقاہر جرجانی اور دوسرے بے شمار اہل علم!
شیخ نے فرمایا:
’’دیکھو حمزہ! ان لوگوں نے عربی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ کسی نے نحو کے اصول مرتب کیے، کسی نے صرف کی بنیادیں مضبوط کیں، کسی نے بلاغت کے راز کھولے، کسی نے لغت کے خزانے جمع کیے۔‘‘
پھر وہ دوسری الماری کی طرف بڑھے۔
وہاں امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام طبری، امام قرطبی، امام رازی، امام ابن کثیر اور دوسرے ائمہ کی کتابیں تھیں۔
شیخ نے کہا:
’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن و حدیث کے علوم کی حفاظت کی، ان کی شرحیں لکھیں، ان کے معانی واضح کیے، ان سے احکام اخذ کیے۔‘‘
حمزہ نے حیرت سے پوچھا:
’’تو پھر مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟‘‘
شیخ نے ایک گہری سانس لی۔
’’بیٹے! مسئلہ یہ نہیں کہ عربی کے لیے کام نہیں ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ عربی کے لیے ہونے والا عظیم علمی کام پوری امت کی عمومی تعلیم کا حصہ نہ بن سکا۔‘‘
’’یعنی؟‘‘
’’یعنی کتابیں لکھی گئیں، مدرسے قائم ہوئے، علمی ادارے بنے، بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے، لیکن عام مسلمان کی زندگی میں عربی کو وہ جگہ نہ مل سکی جو اسے ملنی چاہیے تھی۔‘‘
پھر شیخ نے حمزہ سے پوچھا:
’’تمہارے اسکول میں انگریزی کتنے سال پڑھائی جاتی ہے؟‘‘
’’تقریباً ہر سال!‘‘
’’اور عربی؟‘‘
’’باقاعدہ اور مؤثر انداز میں بہت کم!‘‘
’’تمہارے ملک کے بچے انگریزی کیوں پڑھتے ہیں؟‘‘
’’تاکہ دنیا کا علم حاصل کرسکیں، ملازمتیں پاسکیں، آگے بڑھ سکیں۔‘‘
شیخ ولی خان المظفر نے کہا:
’’تو پھر قرآن و حدیث کے اصل علمی خزانے تک پہنچنے کے لیے عربی کو بھی اسی سنجیدگی سے کیوں نہیں پڑھایا جاتا؟‘‘
حمزہ کے پاس جواب نہیں تھا۔
شیخ نے فرمایا:
’’ہمیں دنیا کی زبانوں سے دشمنی نہیں، لیکن کیا یہ عجیب نہیں کہ ہم دنیا تک پہنچنے کے لیے زبانیں سیکھتے ہیں اور اپنے دینی سرچشموں تک براہِ راست پہنچنے کے لیے عربی سیکھنے کو ضروری اہمیت نہیں دیتے؟‘‘
---
تیسرا منظر: ایک عجیب عدالت
خواب کا منظر بدل گیا۔
اب حمزہ درانی ایک وسیع ہال میں کھڑا تھا۔
ہال کے دروازے پر لکھا تھا:
’’عدالتِ تاریخ — امت مسلمہ کے نام ایک سوال‘‘
سامنے ایک کرسی تھی۔
اس پر کسی شخص کے بجائے ایک بند کتاب رکھی تھی۔
کتاب پر سنہری حروف میں لکھا تھا:
’’عربی زبان‘‘
اچانک ایک آواز گونجی:
’’آج اس عدالت میں کسی قوم، کسی مسلک، کسی مذہبی جماعت اور کسی شخصیت پر مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔
آج صرف ایک سوال کیا جائے گا:
چودہ سو سال میں امت نے اپنی مذہبی اور علمی زبان کو عام انسان کی زندگی میں داخل کرنے کے لیے کس قدر اجتماعی اہتمام کیا؟‘‘
ہال میں خاموشی چھا گئی۔
پھر آواز آئی:
’’علماء نے کتابیں لکھیں، مفسرین نے تفسیریں مرتب کیں، محدثین نے احادیث کی حفاظت کی، فقہاء نے احکام کی تشریح کی، لغویین نے زبان کے اصول محفوظ کیے۔
یہ سب امت کے عظیم محسن ہیں۔
لیکن کیا عربی کو عام مسلمانوں کی مشترکہ علمی زبان بنانے کے لیے بھی ایسی ہی ہمہ گیر تحریک برپا ہوئی؟‘‘
کسی طرف سے جواب آیا:
’’مدرسے قائم ہوئے!‘‘
آواز آئی:
’’بہت خوب! لیکن کیا ہر بچے کو عربی سکھائی گئی؟‘‘
دوسری طرف سے کہا گیا:
’’یونیورسٹیوں میں عربی کے شعبے قائم ہوئے!‘‘
جواب آیا:
’’قابلِ تحسین! لیکن کیا عربی صرف ایک شعبہ بن کر رہ گئی، یا پوری مسلم معاشرت کی ضرورت بھی قرار پائی؟‘‘
ایک اور آواز ابھری:
’’قرآن کے ترجمے لاکھوں لوگوں تک پہنچائے گئے!‘‘
جواب آیا:
’’یہ عظیم خدمت ہے۔ لیکن کیا ترجمے کے ساتھ ساتھ اصل زبان سیکھنے کا راستہ بھی اتنی ہی وسعت سے کھولا گیا؟‘‘
پھر ایک طویل خاموشی۔
اور اس خاموشی میں ایک جملہ گونجا:
’’ہم نے قرآن کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا، گھروں میں رکھا، مساجد میں پڑھا، مگر اس کی زبان کو ہر مسلمان کے علمی شعور کا حصہ بنانے کا خواب ابھی ادھورا ہے!‘‘
حمزہ درانی نے دیکھا کہ عدالت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔
اس پر ایک نیا جملہ روشن ہوگیا:
’’مقدمہ ختم نہیں ہوا، فیصلہ آنے والی نسلیں کریں گی!‘‘
---
چوتھا منظر: جنہوں نے عربی سیکھی، وہ تاریخ بن گئے!
حمزہ کے خواب میں اب برصغیر کا ایک وسیع نقشہ سامنے آگیا۔
دہلی، دیوبند، بریلی، بھوپال، لاہور، کراچی، ڈھاکہ اور دوسرے علمی مراکز جگمگانے لگے۔
اس کے سامنے عظیم علماء کی کتابیں رکھی تھیں۔
امام شاہ ولی اللہ دہلوی اور ان کے علمی خانوادے کے آثار، مولانا محمد قاسم نانوتوی کی تصانیف، امام احمد رضا خان بریلوی کی علمی میراث، نواب صدیق حسن خان قنوجی کی کتابیں!
پھر کراچی کے علمی مراکز کا منظر سامنے آیا۔
امام المحدثین شیخ سلیم اللہ خان، مفتی محمد تقی عثمانی، علامہ احسان الٰہی ظہیر، علامہ شاہ احمد نورانی اور دیگر مکاتبِ فکر کے نامور علماء کی علمی خدمات اس کے سامنے تھیں۔
حمزہ حیران تھا۔
ان علماء کے درمیان فقہی اختلافات تھے۔
ان کے مسالک مختلف تھے۔
ان کے فکری مناہج مختلف تھے۔
لیکن ان کی علمی عظمت کے اسباب میں ایک اہم قدر مشترک تھی:
عربی زبان اور اس کے علوم سے گہری واقفیت!
وہ عربی مصادر سے استفادہ کرتے تھے۔
عربی میں تحقیق کرتے تھے۔
عربی میں لکھتے تھے۔
اور اس زبان کے ذریعے اسلامی علوم کے وسیع علمی ذخیرے تک پہنچتے تھے۔
حمزہ سوچنے لگا:
’’اگر یہ زبان چند بڑے علماء کی علمی تشکیل میں اتنا اہم کردار ادا کرسکتی ہے، تو لاکھوں طلبہ کو اس سے محروم کیوں رکھا جائے؟‘‘
اچانک اسے اپنے استاد شیخ ولی خان المظفر کی بات یاد آئی:
’’حمزہ بیٹا! ترجمہ علم تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے، لیکن اصل زبان کی معرفت اس راستے کو مزید وسیع کردیتی ہے۔‘‘
وہ خود سے کہنے لگا:
’’ترجمہ ایک پل ہے، اور پل کی قدر اپنی جگہ، لیکن کیا منزل تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؟‘‘
---
پانچواں منظر: اگر تاریخ کا پہیہ دوبارہ گھوم جائے!
حمزہ درانی نے خواب میں ایک اور عجیب چیز دیکھی۔
ایک دیوار پر دو تصویریں تھیں۔
پہلی تصویر کا عنوان تھا:
’’وہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں۔‘‘
دوسری تصویر کا عنوان تھا:
’’وہ دنیا جو بن سکتی تھی!‘‘
پہلی تصویر میں پاکستان کا ایک طالب علم قرآن پڑھ رہا تھا، لیکن اس کے بیشتر معانی سمجھنے کے لیے ترجمے کا محتاج تھا۔
ملائشیا میں ایک نوجوان عربی سیکھنے کے لیے مناسب استاد تلاش کررہا تھا۔
افغانستان کے ایک گاؤں میں ایک بچہ عربی بولنے کی خواہش رکھتا تھا، لیکن وسائل محدود تھے۔
بنگلہ دیش میں ایک طالبہ عربی کتاب کو حسرت سے دیکھ رہی تھی۔
دوسری تصویر میں منظر بدل گیا۔
پاکستان کے اسکولوں میں مادری زبان اور قومی زبان کے ساتھ عربی بھی پڑھائی جارہی تھی۔
ملائشیا کی یونیورسٹیوں میں عربی اور اسلامی علوم کے طلبہ باہم براہِ راست علمی گفتگو کررہے تھے۔
افغانستان کے نوجوان عربی میں علمی مضامین لکھ رہے تھے۔
بنگلہ دیش کے طلبہ قرآن و حدیث کے بنیادی عربی متون کو سمجھنے کی صلاحیت حاصل کررہے تھے۔
ترکی، انڈونیشیا اور افریقہ کے تعلیمی ادارے عربی زبان کو علمی تعاون کے ایک مشترک ذریعے کے طور پر استعمال کررہے تھے۔
پھر حمزہ نے ایک اور منظر دیکھا۔
ایک مجلس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء بیٹھے تھے۔
ان کے درمیان اختلاف تھا، لیکن وہ ایک دوسرے کی اصل عربی کتابیں پڑھ سکتے تھے، اصل دلائل سمجھ سکتے تھے اور اختلاف کو اس کے علمی سیاق میں دیکھ سکتے تھے۔
وہ سوچنے لگا:
’’ممکن ہے اختلافات پھر بھی باقی رہیں، لیکن کیا علمی گفتگو زیادہ واضح، زیادہ براہِ راست اور زیادہ مؤثر نہیں ہوجائے گی؟‘‘
اس کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوئی:
کاش! ہر مسلمان اپنی مادری زبان سے محبت کرتے ہوئے، اپنی قومی زبان میں ترقی کرتے ہوئے، عربی بھی سیکھ سکے!
یہ خواب کسی زبان کو مٹانے کا نہیں تھا۔
بلکہ ایک اور زبان کے دروازے کھولنے کا تھا۔
آخر قرآن خود کہتا ہے:
وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ۔
تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔
---
چھٹا منظر: اچانک خواب ٹوٹ گیا!
صبح کی اذان ہورہی تھی۔
حمزہ درانی کی آنکھ کھل گئی۔
وہ دیر تک اپنے خواب کے بارے میں سوچتا رہا۔
پھر اٹھ کر اپنی والدہ کے پاس گیا۔
والدہ قرآن مجید کی تلاوت کررہی تھیں۔
اس نے پوچھا:
’’امی! آپ قرآن پڑھتی ہیں؟‘‘
’’ہاں بیٹا!‘‘
’’روز پڑھتی ہیں؟‘‘
’’الحمدللہ!‘‘
’’امی! اگر آپ کو عربی آجائے تو آپ کو کیسا لگے گا؟‘‘
ماں نے محبت سے کہا:
’’بیٹا! بہت خوشی ہوگی۔ میں چاہتی ہوں کہ اپنے رب کا کلام پڑھتے ہوئے اس کے معنی بھی سمجھوں۔‘‘
حمزہ نے پوچھا:
’’پھر آپ سیکھتی کیوں نہیں؟‘‘
ماں کی آنکھوں میں حسرت اتر آئی۔
’’بیٹا! گھر کے کام ہیں، وقت کم ہے، استاد کہاں سے لاؤں؟‘‘
حمزہ خاموش ہوگیا۔
پھر بولا:
’’امی! اگر استاد ہمارے گھر آجائے تو؟‘‘
ماں ہنس پڑیں۔
’’بیٹا! کون سا استاد ہمارے گھر آئے گا؟‘‘
حمزہ نے جواب نہیں دیا۔
لیکن اس کے ذہن میں ایک سوال گونج رہا تھا:
’’کیا ایسا استاد نہیں ہوسکتا جو ہر گھر میں پہنچ سکے؟‘‘
---
ساتواں منظر: وقت بدل گیا تھا!
کچھ عرصے بعد حمزہ کے بڑے بھائی کراچی سے گھر آئے۔
ان کے ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون تھا۔
حمزہ نے دیکھا کہ اس میں دنیا بھر کی چیزیں موجود تھیں۔
انگریزی سیکھنے کی ایپلی کیشنز۔
تعلیمی ویڈیوز۔
دنیا کے نقشے۔
مصنوعی ذہانت کے جدید نظام۔
ChatGPT جیسے علمی معاون۔
وہ حیران رہ گیا۔
اس نے بھائی سے پوچھا:
’’بھائی جان! یہ موبائل اتنا کچھ کیسے جانتا ہے؟‘‘
بھائی نے کہا:
’’حمزہ! یہ مصنوعی ذہانت، یعنی Artificial Intelligence کا زمانہ ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔‘‘
’’تو کیا یہ عربی بھی سکھا سکتا ہے؟‘‘
’’کیوں نہیں!‘‘
’’اور قرآن بھی؟‘‘
’’قرآن کی تعلیم میں بھی جدید ٹیکنالوجی مددگار ہوسکتی ہے، بشرطیکہ دینی مواد مستند ہو اور اہل علم اس کی نگرانی کریں۔‘‘
حمزہ کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
’’تو پھر امی کو بھی عربی سکھائی جاسکتی ہے؟‘‘
’’جی ہاں!‘‘
’’اور ہمارے گاؤں کے بچوں کو بھی؟‘‘
’’بالکل!‘‘
حمزہ بے اختیار بول اٹھا:
’’پھر ہم سب کا انتظار کس بات کا ہے؟‘‘
بھائی نے موبائل کھولا۔
اسکرین پر ایک نام نمودار ہوا:
NorAI
منصة نور العالمية
قرآن اور عربی ساتھ ساتھ!
حمزہ چند لمحے اسکرین کو دیکھتا رہا۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے خواب میں بند نظر آنے والا ایک دروازہ آہستہ آہستہ کھل رہا ہو۔
---
آٹھواں منظر: نور AI — ایک نئے سفر کی ابتدا!
بھائی نے اسے بتایا:
’’حمزہ! پاکستان میں حافظ سمیع اللہ درانی اور ان کی ٹیم نے ایک تعلیمی منصوبے پر کام کیا ہے جس کا نام نور AI ہے۔
اس کی علمی سرپرستی تمہارے استاد، ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر کررہے ہیں۔
اس منصوبے کا بنیادی تصور بڑا سادہ، لیکن نہایت وسیع ہے:
قرآن اور عربی کو ایک ساتھ سکھانا!‘‘
حمزہ نے پوچھا:
’’ایک ساتھ کیسے؟‘‘
بھائی نے سمجھایا:
’’یعنی طالب علم عربی حروف سیکھے، ان کی صحیح ادائیگی سمجھے، تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنے کی تربیت حاصل کرے، قرآنی الفاظ کے معانی سے واقف ہو اور تدریجاً قرآن کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرے۔‘‘
’’اور صرف قرآن؟‘‘
’’نہیں! اس کے تعلیمی مقاصد میں احادیث نبویہ، مسنون دعائیں، بنیادی اسلامی عقائد اور دینی معلومات بھی شامل ہیں۔‘‘
’’لیکن چھوٹے بچوں کو کیسے سمجھ آئے گا؟‘‘
’’آواز، تصویر، تحریر اور مرحلہ وار تعلیم کے ذریعے۔‘‘
’’اور امی؟‘‘
’’ان کے لیے بھی سیکھنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔‘‘
’’اور دادا جان؟‘‘
’’ان کے لیے بھی!‘‘
حمزہ حیرت سے بولا:
’’یعنی استاد کے پاس جانے کے ساتھ ساتھ اب استاد کی تعلیم بھی ہمارے گھر تک پہنچ سکتی ہے؟‘‘
بھائی مسکرایا۔
’’یہی تو جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ ہے۔‘‘
پھر انہوں نے بتایا:
’’نور AI کا تعلیمی ڈھانچا بیس سطحوں پر مشتمل ہے، اور اس میں مزید بہتری، تعلیمی مواد اور نئی سہولتوں کے اضافے پر کام جاری ہے۔‘‘
حمزہ نے موبائل کو دیکھا۔
اس کی نظروں میں اب یہ محض ایک مشین نہیں رہی تھی۔
یہ ایک امکان تھا۔
ایک نئی راہ تھی۔
ایک ایسے علمی سفر کی ابتدا تھی جس سے اس کے جیسے لاکھوں بچے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔
---
نواں منظر: ماں کی آنکھوں میں ایک نئی روشنی
اس شام گھر میں ایک غیر معمولی منظر تھا۔
حمزہ درانی اپنی والدہ کے پاس بیٹھا تھا۔
ان کے سامنے موبائل رکھا تھا۔
عربی حروف اور ان کی ادائیگی کی تعلیم جاری تھی۔
حمزہ کبھی حروف دہراتا، کبھی اپنی ماں کے ساتھ مل کر پڑھتا۔
ماں کبھی غلطی کرتیں، کبھی دوبارہ کوشش کرتیں۔
اور پھر دونوں ہنس پڑتے۔
چند دن بعد حمزہ نے اپنی ماں سے پوچھا:
’’امی! آپ کو وہ آیت یاد ہے جس کے متعلق میں نے شیخ ولی خان المظفر سے سوال کیا تھا؟‘‘
’’کون سی؟‘‘
حمزہ نے تلاوت کی:
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ۔
ماں نے کہا:
’’ہاں بیٹا!‘‘
حمزہ نے پوچھا:
’’امی! اس میں عَرَبِيًّا کا کیا مطلب ہے؟‘‘
ماں نے مسکرا کر جواب دیا:
’’عربی زبان میں!‘‘
’’اور تَعْقِلُونَ؟‘‘
ماں نے کچھ سوچا۔
پھر کہا:
’’تاکہ تم عقل سے کام لو، سمجھو!‘‘
حمزہ خوشی سے اچھل پڑا۔
’’امی! آپ عربی سمجھنے لگی ہیں!‘‘
ماں ہنس دیں۔
’’ابھی کہاں بیٹا! یہ تو آغاز ہے۔ بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔‘‘
حمزہ نے کہا:
’’لیکن امی! آغاز تو ہوگیا نا!‘‘
ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
وہ بولیں:
’’بیٹا! میں نے زندگی بھر قرآن پڑھا ہے۔ آج پہلی بار مجھے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید میں اس کی زبان کو بھی کچھ نہ کچھ سمجھ سکوں گی۔‘‘
حمزہ نے اپنی ماں کے ہاتھ چوم لیے۔
اس لمحے اسے احساس ہوا کہ علم کی اصل خوشی کیا ہوتی ہے۔
ایک ماں کا اپنی عمر کے آخری حصے میں بھی سیکھنے کا حوصلہ پیدا کرلینا، کتنی بڑی کامیابی ہے!
---
دسواں منظر: کراچی میں ایک غیر معمولی نشست
اُدھر کراچی میں ایک علمی مجلس منعقد تھی۔
اس مجلس کی صدارت شیخ ڈاکٹر ولی خان المظفر کررہے تھے۔
جامعات کے اساتذہ، دینی مدارس کے علماء، عربی زبان کے ماہرین، قرآن کے اساتذہ اور جدید ٹیکنالوجی کے ماہرین اس میں شریک تھے۔
موضوع تھا:
’’کیا مصنوعی ذہانت قرآن اور عربی کی تعلیم میں ایک نئے دور کا آغاز کرسکتی ہے؟‘‘
ایک پروفیسر نے سوال اٹھایا:
’’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایک ایپلی کیشن چودہ صدیوں کی علمی محرومی دور کردے گی؟‘‘
مجلس میں خاموشی چھا گئی۔
شیخ ولی خان المظفر نے جواب دیا:
’’ہرگز نہیں! کوئی ایک ایپلی کیشن، کوئی ایک ادارہ اور کوئی ایک شخص یہ کام تنہا نہیں کرسکتا۔
لیکن اگر ایک تعلیمی پلیٹ فارم لاکھوں لوگوں کو عربی سیکھنے کا موقع دے سکے، تو کیا اسے نظرانداز کرنا دانش مندی ہوگی؟‘‘
ایک دوسرے استاد نے کہا:
’’لیکن قرآن و حدیث کے معاملے میں مصنوعی ذہانت پر اندھا اعتماد خطرناک ہوسکتا ہے۔‘‘
شیخ نے فرمایا:
’’بالکل درست! اسی لیے ٹیکنالوجی کو علماء کا متبادل نہیں، ان کا معاون بننا چاہیے۔
مواد کی علمی جانچ، تجوید کی صحت، قرآنی معانی کی درستگی، احادیث کی تحقیق اور عقائد کی صحیح ترجمانی کے لیے اہل علم کی نگرانی ضروری ہے۔‘‘
ایک عربی پروفیسر نے کہا:
’’اگر یہ کام مضبوط علمی بنیادوں پر آگے بڑھے، تو مدارس اور جامعات دونوں اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘‘
پھر شیخ ولی خان المظفر نے ایک وسیع تر سوال اٹھایا:
’’ہماری یونیورسٹیوں میں عربی کے شعبے موجود ہیں، کلیات اللغة العربية موجود ہیں، اساتذہ موجود ہیں، کتابیں موجود ہیں، لیکن کیا ان سب کی علمی قوت کو جدید ڈیجیٹل تعلیم سے مربوط کرنے کا وقت نہیں آگیا؟‘‘
مجلس میں موجود ایک نوجوان محقق نے کہا:
’’پھر کیوں نہ ہم ایک ایسا تعلیمی اتحاد قائم کریں جس میں پاکستان کے مدارس، جامعہ اسلامیہ عالمی اسلام آباد، عرب دنیا کی یونیورسٹیاں، الأزہر الشریف، جامع الزيتونہ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور دیگر علمی ادارے شریک ہوں؟‘‘
شیخ ولی خان المظفر نے فرمایا:
’’یہی تو وہ خواب ہے جسے ہم حقیقت بنتے دیکھنا چاہتے ہیں!‘‘
یہ سوال محض ایک نشست کا سوال نہیں تھا۔
یہ آنے والے زمانے کی علمی ضرورت کا سوال تھا۔
---
گیارھواں منظر: ایک کروڑ سے پانچ کروڑ تک!
نور AI سے متعلق منصوبہ بندی میں ایک غیر معمولی تصور سامنے آیا۔
ایک کروڑ افراد تک رسائی اور خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت!
پھر اسے بڑھا کر دو کروڑ، یعنی بیس ملین تک لے جانے کی خواہش!
اور اس سے آگے پانچ کروڑ، یعنی پچاس ملین تک پہنچنے کا طویل المدتی ہدف!
یہ موجودہ صارفین کی تعداد کا اعلان نہیں تھا۔
یہ مستقبل کی تکنیکی وسعت اور عالمی تعلیمی رسائی کا خواب تھا۔
مگر اس خواب کا اصل سوال تعداد نہیں تھا۔
اصل سوال یہ تھا:
اگر پانچ کروڑ انسانوں کو قرآن اور عربی کی بنیادی تعلیم تک آسان رسائی مل جائے، تو دنیا میں کتنا بڑا تعلیمی امکان پیدا ہوسکتا ہے؟
اگر ایک کروڑ بچے عربی حروف صحیح ادا کرنا سیکھیں؟
اگر لاکھوں مائیں قرآنی الفاظ کے معانی سمجھنے لگیں؟
اگر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد قرآن و حدیث کے اصل مصادر پڑھنے کی صلاحیت حاصل کرے؟
اگر مدرسے، اسکول اور یونیورسٹیاں ایک دوسرے کی معاون بن جائیں؟
اور اگر ان تمام کوششوں کے پیچھے مستند علم، اچھے اساتذہ اور جدید ٹیکنالوجی جمع ہوجائیں؟
تو کیا یہ ایک نئے علمی دور کی ابتدا نہیں ہوسکتی؟
یہ سوالات ابھی مستقبل سے متعلق تھے۔
لیکن ہر بڑی تعلیمی تحریک پہلے ایک سوال ہی کی صورت پیدا ہوئی تھی۔
---
بارھواں منظر: وہ خط جو پوری دنیا کو لکھا جانا تھا!
اس کہانی کا ایک اور اہم منظر تھا۔
شیخ ڈاکٹر ولی خان المظفر اپنے مطالعہ گاہ میں بیٹھے تھے۔
وہ کئی دہائیوں سے عربی زبان و ادب، علوم حدیث اور دینی تعلیم کی خدمت کررہے تھے۔
انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ دینی مدارس، عربی رسائل، علمی مجالس اور جامعات کی خدمت میں گزارا تھا۔
ان کا ایک خواب تھا۔
وہ چاہتے تھے کہ عربی صرف علماء کی زبان نہ رہے، عام مسلمانوں کی علمی زندگی کا بھی حصہ بنے۔
وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کے بچے انگریزی کے ساتھ عربی بھی سیکھیں۔
وہ چاہتے تھے کہ ہندوستان، بنگلہ دیش، افغانستان، ملائشیا، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں عربی کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا جائے۔
وہ چاہتے تھے کہ اسلام کے مختلف مکاتب فکر عربی زبان کے فروغ کو اپنی مشترکہ علمی ذمہ داری سمجھیں۔
اور وہ چاہتے تھے کہ جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے عربی کی تعلیم میں انقلاب برپا کیا جائے۔
ایک دن انہوں نے قلم اٹھایا۔
سامنے سفید کاغذ رکھا۔
اور لکھنا شروع کیا:
’’إلى علماء الأزهر الشريف، وجامع الزيتونة، والجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة، وسائر الجامعات الإسلامية...‘‘
پھر کچھ دیر سوچتے رہے۔
اور اردو میں اپنے دل کی بات لکھی:
’’معزز علماء و اساتذہ!
میں آپ کو کسی نئی زبان کی دعوت نہیں دے رہا۔
میں آپ کو اس زبان کی طرف متوجہ کررہا ہوں جس میں قرآن نازل ہوا، جس میں احادیث نبویہ کا عظیم ذخیرہ محفوظ ہوا، جس میں ہماری فقہ، تفسیر، عقائد، سیرت اور علمی میراث کے بے شمار خزانے موجود ہیں۔
میں آپ کو کسی مسلک کی دعوت نہیں دے رہا۔
میں آپ کو ایک ایسے مشترکہ علمی مقصد کی دعوت دے رہا ہوں جس سے تمام مکاتب فکر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
میں آپ کو کسی ایک کمپنی یا ایک شخص کی کامیابی کا جشن منانے کی دعوت نہیں دے رہا۔
میں آپ کو ایک تعلیمی امکان کا جائزہ لینے، اسے بہتر بنانے اور اس میں علمی تعاون کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔
نور AI اس سفر کی ایک کوشش ہے۔
اسے آپ کی علمی نگرانی چاہیے۔
آپ کی اصلاح چاہیے۔
آپ کی رہنمائی چاہیے۔
آپ کے تجربات چاہیے۔
آپ کی دعائیں چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر وہ اجتماعی احساس چاہیے جو عربی زبان کو امت کی تعلیم کا زندہ حصہ بنا سکے۔
آئیے!
ہم وہ کام مل کر کریں جسے ہماری آنے والی نسلیں اپنے لیے ایک قیمتی تحفہ سمجھیں۔‘‘
شیخ ولی خان المظفر نے قلم رکھ دیا۔
ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔
انہیں معلوم تھا کہ ایک تحریر سے دنیا نہیں بدلتی۔
لیکن یہ بھی معلوم تھا کہ کبھی کبھی ایک تحریر کسی بڑی تبدیلی کا مقدمہ بن جاتی ہے۔
---
تیرھواں منظر: انسانیت صرف معلومات کی پیاسی نہیں!
اس رات شیخ ولی خان المظفر دیر تک جاگتے رہے۔
وہ سوچ رہے تھے کہ مسئلہ صرف زبان کا نہیں ہے۔
انسان جدید علوم میں ترقی کررہا ہے۔
آسمانوں کی وسعتیں ناپ رہا ہے۔
سمندروں کی گہرائیوں میں اتر رہا ہے۔
مشینوں کو بولنا سکھا رہا ہے۔
انسانی آواز کی نقل تیار کررہا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے کتابیں پڑھوا رہا ہے۔
لیکن بہت سے انسان اب بھی زندگی کے بنیادی سوالات سے نبرد آزما ہیں۔
میں کون ہوں؟
میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟
مجھے دکھ کیوں پہنچتا ہے؟
میں کس کے سامنے اپنا دل کھولوں؟
میں اپنی غلطیوں پر کس سے معافی مانگوں؟
کیا میری دعا کوئی سنتا ہے؟
کیا میرے لیے امید کا کوئی دروازہ ہے؟
شیخ کے دل میں قرآن کی آیت گونجنے لگی:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ۔
اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں۔
وہ سوچنے لگے:
کتنی بڑی بات ہے!
انسان اپنے خالق سے رابطہ قائم کرسکتا ہے۔
اپنے رب کے سامنے رو سکتا ہے۔
اپنی محرومیوں کا ذکر کرسکتا ہے۔
اپنی غلطیوں کی معافی مانگ سکتا ہے۔
اپنی امیدیں اور دعائیں پیش کرسکتا ہے۔
پھر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت یاد آئی۔
رحمت!
تواضع!
عفو و درگزر!
عدل!
محبت!
انسانی ہمدردی!
یتیموں سے شفقت!
کمزوروں کی دستگیری!
پھر حرمین شریفین کا تصور سامنے آیا۔
دنیا بھر سے آنے والے انسان، مختلف زبانیں، مختلف رنگ، مختلف ممالک، لیکن سب ایک رب کے حضور!
یہ کیسا عظیم روحانی رشتہ ہے!
شیخ نے سوچا:
اگر دنیا کے زیادہ سے زیادہ لوگ قرآن اور سنت کے مستند پیغام تک پہنچ سکیں، تو وہ ان اخلاقی اور روحانی تعلیمات سے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اور اگر عربی سیکھنا آسان ہوجائے، تو اس عظیم علمی اور روحانی سرچشمے سے براہِ راست استفادے کا ایک اور دروازہ کھل سکتا ہے۔
انہیں محسوس ہوا کہ نور AI کے تصور کی اصل وسعت صرف زبان کی تعلیم میں نہیں، بلکہ علم، ایمان، اخلاق اور انسانیت کے درمیان رابطے کے امکانات میں پوشیدہ ہے۔
---
چودھواں منظر: دس سال بعد!
اب ذرا تصور کیجیے کہ وقت کی گھڑی تیزی سے گھومنے لگتی ہے۔
دس سال گزر جاتے ہیں۔
یہ مستقبل کا ایک فرضی منظر ہے۔
پاکستان کے ایک گاؤں میں ایک نوجوان اپنے گھر کے صحن میں بچوں کو عربی پڑھا رہا ہے۔
اس کے سامنے ایک جدید ڈیجیٹل تعلیمی نظام موجود ہے۔
بچے عربی حروف سیکھ رہے ہیں۔
قرآنی الفاظ کے معانی سمجھ رہے ہیں۔
تجوید کی مشق کررہے ہیں۔
ایک طرف ان کی مادری زبان کی تعلیم بھی جاری ہے۔
دوسری طرف جدید علوم بھی پڑھائے جارہے ہیں۔
اسی دوران ایک بچی سوال کرتی ہے:
’’استاد جی! کیا پہلے زمانے میں سب مسلمان عربی سمجھتے تھے؟‘‘
نوجوان مسکرا دیتا ہے۔
’’نہیں بیٹی! بہت سے مسلمان قرآن پڑھتے تھے، لیکن عربی زبان میں پوری مہارت نہیں رکھتے تھے۔‘‘
بچی حیران ہوتی ہے۔
’’پھر وہ قرآن کیسے سمجھتے تھے؟‘‘
’’ترجموں، تفسیروں اور علماء کی رہنمائی سے۔‘‘
’’لیکن استاد جی! عربی تو ہم بھی سیکھ رہے ہیں، پھر پہلے سب کو کیوں نہیں سکھائی جاتی تھی؟‘‘
نوجوان خاموش ہوجاتا ہے۔
اس کے ذہن میں اپنے بچپن کی ایک رات تازہ ہوجاتی ہے۔
پہاڑوں کا ایک گاؤں۔
ایک پرانی مسجد۔
ایک عظیم استاد، شیخ ولی خان المظفر۔
اور بارہ سال کا ایک طالب علم!
اچانک اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔
وہ نوجوان کوئی اور نہیں تھا۔
وہ حمزہ درانی تھا!
وہی حمزہ درانی جس نے برسوں پہلے شیخ ولی خان المظفر سے پوچھا تھا:
’’اگر اللہ تعالیٰ نے قرآن عربی میں نازل کیا ہے تو ہمیں عربی کیوں نہیں سکھائی جاتی؟‘‘
آج وہ خود بچوں کو عربی سکھا رہا تھا۔
اسے اپنے استاد کا چہرہ یاد آگیا۔
اور اپنی ماں کی آنکھوں میں اترنے والی وہ پہلی روشنی بھی!
اس نے بچوں کی طرف دیکھا اور کہا:
’’بچو! مجھے خوشی ہے کہ تم وہ سوال نہیں پوچھ رہے جو مجھے بچپن میں پریشان کرتا تھا۔ اب تم عربی سیکھ رہے ہو۔ لیکن تمہیں ایک اور سوال پوچھنا چاہیے۔‘‘
بچوں نے یک زبان ہوکر کہا:
’’کون سا سوال؟‘‘
حمزہ نے جواب دیا:
’’ہم نے جو علم حاصل کیا ہے، اسے دوسروں تک کیسے پہنچائیں؟‘‘
---
پندرھواں منظر: اصل انقلاب کہاں پیدا ہوتا ہے؟
حمزہ درانی نے اس دن بچوں کو ایک غیر معمولی سبق دیا۔
اس نے کہا:
’’بچو! انقلاب ہمیشہ سڑکوں پر نعروں سے پیدا نہیں ہوتے۔
کبھی ایک استاد کی محنت سے پیدا ہوتے ہیں۔
کبھی ایک ماں کے سیکھنے کے عزم سے پیدا ہوتے ہیں۔
کبھی ایک بچے کے سوال سے پیدا ہوتے ہیں۔
کبھی ایک کتاب سے پیدا ہوتے ہیں۔
اور کبھی ایک ایسی ٹیکنالوجی سے بھی پیدا ہوسکتے ہیں جو لاکھوں انسانوں کے لیے علم کے دروازے کھول دے۔‘‘
پھر اس نے کہا:
’’لیکن یاد رکھو!
مشینیں خود بخود انسانوں کو عالم نہیں بناتیں۔
علم کے لیے محنت چاہیے۔
فہم کے لیے استاد چاہیے۔
تحقیق کے لیے دیانت چاہیے۔
قرآن کے لیے ادب چاہیے۔
حدیث کے لیے احتیاط چاہیے۔
اور دین کے لیے اخلاص چاہیے۔
مصنوعی ذہانت سہولت دے سکتی ہے، راستہ دکھا سکتی ہے، مشق میں مدد دے سکتی ہے، لیکن علماء اور اساتذہ کی ضرورت ختم نہیں کرسکتی۔‘‘
ایک بچے نے پوچھا:
’’استاد جی! پھر نور AI کا سب سے بڑا کمال کیا ہے؟‘‘
حمزہ نے جواب دیا:
’’اس کا سب سے بڑا کمال اس کے امکانات میں ہے۔
یہ کہ قرآن اور عربی کو ساتھ ساتھ سیکھنے کا راستہ زیادہ آسان بنایا جاسکتا ہے۔
یہ کہ علم تک رسائی چند شہروں اور چند اداروں تک محدود نہ رہے۔
یہ کہ ایک بچہ، ایک ماں، ایک طالب علم یا ایک بزرگ اپنی سہولت کے مطابق سیکھنے کا آغاز کرسکے۔
اور یہ کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کے لیے بھی نئی تعلیمی راہیں کھل سکیں۔‘‘
بچے نے پھر پوچھا:
’’کیا یہ پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے؟‘‘
حمزہ نے کہا:
’’اگر اس کا علمی معیار بلند رکھا جائے، اس کی غلطیاں درست کی جاتی رہیں، ماہرین اس کی رہنمائی کریں اور ادارے مل کر کام کریں، تو کیوں نہیں؟‘‘
---
آخری منظر: وہ چابی جو کہیں گم نہیں ہوئی تھی!
رات ہوچکی تھی۔
حمزہ درانی اب ایک پختہ عمر کا استاد بن چکا تھا۔
وہ اپنے پرانے گھر کی الماری کھول رہا تھا۔
اچانک اسے ایک چھوٹی سی کاپی ملی۔
یہ اس کے بچپن کی کاپی تھی۔
اس کے پہلے صفحے پر معصوم ہاتھوں سے ایک سوال لکھا ہوا تھا:
’’قرآن عربی میں ہے، تو ہمیں عربی کیوں نہیں آتی؟‘‘
حمزہ بہت دیر تک اس سوال کو دیکھتا رہا۔
پھر اس نے کاپی کے آخری صفحے پر ایک جواب لکھ دیا:
’’بیٹے!
چودہ سو سال سے قرآن ہمارے پاس تھا۔
اس کی زبان بھی ہمارے پاس تھی۔
اس کی لغت بھی موجود تھی۔
اس کی تفسیر بھی موجود تھی۔
اس کے اساتذہ بھی موجود تھے۔
اس کے علماء بھی موجود تھے۔
اس کے مدارس بھی موجود تھے۔
اس کے علمی خزانے بھی محفوظ تھے۔
لیکن ہم پوری امت کے لیے عربی سیکھنے کا آسان، عام اور مسلسل تعلیمی راستہ اس وسعت سے نہیں بنا سکے جس کی ضرورت تھی۔
اب تاریخ نے ہمیں ایک نئی سہولت دی ہے۔
مصنوعی ذہانت۔
ڈیجیٹل تعلیم۔
عالمی رابطے۔
آن لائن جامعات۔
اور ایسے پلیٹ فارم جو دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ ان سہولتوں کو علم اور انسانیت کی خدمت میں استعمال کریں۔
نور AI اسی سفر کی ایک کوشش ہے۔
اسے ایک دن میں مکمل انقلاب نہ سمجھنا۔
اسے ایک چراغ سمجھنا۔
چراغ کو علم کا ایندھن چاہیے۔
اخلاص کی ہوا چاہیے۔
علماء کی نگرانی چاہیے۔
ماہرین کی محنت چاہیے۔
اور امت کی اجتماعی سرپرستی چاہیے۔
اگر یہ سب میسر آجائے تو ایک چراغ سے ہزاروں چراغ جل سکتے ہیں۔
اور ہزاروں چراغ مل کر ایک ایسی روشنی پیدا کرسکتے ہیں جس سے نسلیں فائدہ اٹھائیں۔‘‘
حمزہ درانی نے کاپی بند کردی۔
اس کی نظریں سامنے رکھے قرآن مجید پر پڑیں۔
اسے اپنی ماں یاد آئی۔
اپنے استاد شیخ ولی خان المظفر یاد آئے۔
اور اپنا پہلا سوال یاد آیا۔
اس کے لبوں پر ایک دعا آگئی:
’’یا اللہ! ہمیں اپنے کلام کو پڑھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک صحیح طور پر پہنچانے کی توفیق عطا فرما!‘‘
پھر اس نے الماری کی طرف دیکھا۔
اسے یاد آیا کہ بچپن کے خواب میں ایک بہت بڑا دروازہ بند تھا۔
آج اسے محسوس ہوا کہ وہ دروازہ کھل سکتا ہے۔
بلکہ اس کی کنجی کبھی گم ہی نہیں ہوئی تھی۔
وہ کنجی ہمیشہ سے موجود تھی۔
اس کنجی کا نام عربی زبان تھا!
اور اسے لاکھوں انسانوں تک پہنچانے کے لیے اب ایک نیا ذریعہ سامنے آگیا تھا۔
نور AI — قرآن اور عربی ساتھ ساتھ!
---
اختتام نہیں، ایک نئے عہد کا آغاز!
اے امتِ محمدیہ کے علماء!
اے مدارس کے اساتذہ!
اے جامعات کے سربراہان!
اے عربی زبان کے ماہرین!
اے قرآن و حدیث کے خادموں!
اور اے جدید ٹیکنالوجی کے معمارو!
میں آپ کے سامنے ایک سوال رکھنا چاہتا ہوں:
کیا ہم آنے والی نسلوں کو بھی یہی بتاتے رہیں گے کہ عربی قرآن کی زبان ہے، یا انہیں عربی سیکھنے کے آسان اور مؤثر مواقع بھی فراہم کریں گے؟
ہمیں انگریزی سے دشمنی نہیں۔
اردو، پشتو، فارسی، ترکی، ملاوی، بنگالی، چینی، روسی یا دنیا کی کسی زبان سے دشمنی نہیں۔
ہر زبان اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے۔
لیکن عربی کو وہ علمی اور دینی مقام ملنا چاہیے جس کی وہ بجا طور پر مستحق ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ پاکستان سے لے کر ملائشیا تک، افغانستان سے لے کر انڈونیشیا تک، ہندوستان سے لے کر افریقہ تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک، عربی زبان کو ایک نئی تعلیمی زندگی ملے۔
میں چاہتا ہوں کہ الازہر، جامع الزيتونہ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، جامعہ ام القریٰ، جامعہ اسلامیہ عالمی اسلام آباد اور دنیا کی دیگر جامعات اس عظیم مقصد کے لیے مشترکہ منصوبوں پر غور کریں۔
میں چاہتا ہوں کہ ہر دینی مدرسہ، ہر اسکول اور ہر یونیورسٹی اپنی بساط کے مطابق عربی زبان کے فروغ میں حصہ لے۔
اور میں چاہتا ہوں کہ نور AI جیسے منصوبے وسیع علمی تعاون کے ذریعے زیادہ مستند، زیادہ مؤثر، زیادہ آسان اور زیادہ قابلِ رسائی بنتے چلے جائیں۔
میں حافظ سمیع اللہ درانی اور ان کی پوری ٹیم کو اس تعلیمی کوشش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ان کے علمی، تکنیکی اور انتظامی رفقاء کی محنت لائقِ تحسین ہے۔
مجھے اس منصوبے کی علمی سرپرستی پر خوشی ہے، لیکن میری اصل خواہش کسی ایک پلیٹ فارم کی شہرت نہیں، بلکہ اس مقصد کی کامیابی ہے جس کے لیے یہ پلیٹ فارم وجود میں آیا ہے۔
میری خواہش ہے کہ آنے والے دنوں میں ایک کروڑ، دو کروڑ اور پھر پانچ کروڑ افراد تک تعلیمی خدمات پہنچانے کا خواب مناسب وسائل، مضبوط علمی معیار اور مسلسل ترقی کے ذریعے حقیقت کے قریب آسکے۔
لیکن اس سارے سفر میں ہمارا اصل ہدف اعداد و شمار نہیں ہونا چاہیے۔
ہمارا اصل ہدف انسان ہونا چاہیے۔
وہ بچہ جو پہلی بار عربی حرف صحیح ادا کرے۔
وہ ماں جو پہلی بار قرآنی الفاظ کا مفہوم سمجھے۔
وہ نوجوان جو حدیث نبوی کے اصل الفاظ پڑھنے لگے۔
وہ طالب علم جو عربی مصادر سے تحقیق کرسکے۔
اور وہ انسان جو قرآن کی ہدایت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت اور اسلام کے اخلاقی پیغام سے صحیح طور پر آشنا ہوسکے۔
میں اپنی اس داستان کا اختتام ایک سوال پر کرنا چاہتا ہوں۔
وہ سوال جو حمزہ درانی نے بچپن میں اپنے استاد شیخ ولی خان المظفر سے پوچھا تھا۔
اور جس کا جواب آج ہم سب کو اپنے عمل سے دینا ہے:
’’جب قرآن ہمارے گھروں میں موجود ہے، تو اس کی زبان ہمارے گھروں میں اجنبی کیوں رہے؟‘‘
آئیے!
اس اجنبیت کو ختم کرنے کی جدوجہد کریں۔
عربی کو محبت سے سکھائیں۔
قرآن کو سمجھنے کے راستے آسان بنائیں۔
علماء اور ٹیکنالوجی کو باہم معاون بنائیں۔
مدارس اور جامعات کو قریب لائیں۔
اور جدید ذرائع کو علم، اخلاق اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔
کیونکہ...
قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، ہدایت کے لیے بھی نازل ہوا ہے۔
عربی صرف ایک قوم کی زبان نہیں، قرآن کی زبان بھی ہے۔
اور مصنوعی ذہانت صرف دنیاوی ترقی کا ذریعہ نہیں، دینی تعلیم کی خدمت کا ایک طاقتور وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔
نور AI — قرآن اور عربی ساتھ ساتھ!
یہ کسی داستان کا آخری صفحہ نہیں؛ یہ ایک نئی علمی تحریک کا پہلا صفحہ ہوسکتا ہے!
---
بقلم: ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر
صدر، جامعۃ اللغۃ العربیۃ المفتوحۃ، پاکستان
مشیرِ صدر، جامعۃ الغزالی و جامعۃ الرشید، کراچی
علمی سرپرست و مشیر، نور AI عالمی پلیٹ فارم
6 نومبر 2026ء |