9 عالمی یومِ اردو:
جب 9 نومبر کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو دنیا بھر کے گوشہ و کنار میں بسنے والے اربوں اردو داں طبقے کے دلوں میں ایک عجیب سی تلاطم خیز لہر دوڑ جاتی ہے۔ یہ دن محض ایک تقویم کا خانہ نہیں ہے بلکہ یہ "عالمی یومِ اردو" ہے، جسے حکیمِ امت علامہ محمد اقبال کے یومِ ولادت کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ جس زبان کو اقبال کی فکرِ بلند نے آفاقی وسعتیں عطا کی ہوں، اس کے دن پر جب ہم اس کی موجودہ حالتِ زار کا جائزہ لیتے ہیں تو دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اردو محض چند الفاظ یا گرامر کے قاعدوں کا نام نہیں ہے بلکہ یہ برصغیر کے کروڑوں انسانوں کی دھڑکنوں اور آہوں کی ترجمان ہے۔ یہ وہ شیریں زبان ہے جس نے تہذیبِ گنگا جمنی کو ایک پائیدار دھاگے میں پرویا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جس زبان نے اس ملک کی آزادی کی جنگ میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا آج اسی کے ساتھ اس ملک میں ایسا سوتیلا اور ناانصافی پر مبنی سلوک کیا جاتا ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک تجزیاتی نگاہ ڈالی جائے تو یہ تلخ زمینی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہندوستان میں اردو کو اس کا جائز اور آئینی مقام دلانے کے معاملے میں ہمیشہ سرکاری و انتظامی سطح پر مجرمانہ سرد مہری اور تعصب کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس زوال اور تعصب کی سب سے بڑی وجہ یہ سیاسی و فکری شاطرانہ چال ہے کہ اردو کو دانستہ طور پر صرف ایک مخصوص مذہب کی زبان بنا کر پیش کر دیا گیا۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ اردو کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی مشترکہ امانت ہے۔ پریم چند، کرشن چندر، اور فراق گورکھپوری، برج نرائن چکبست،راجندر سنگھ بیدی، کنہیا لعل کپور،جیسے درجنوں غیر مسلم دانشور و دانشمندوں نے اس زبان کو اپنے خونِ جگر سے سینچا ہے۔ مگر آج اردو بولنے والوں کو شک و شبہ اور تعصب کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جو کہ صحافتی، تاریخی اور اخلاقی اعتبار سے سراسر ناانصافی ہے۔ اسی تنگ نظری کا نتیجہ ہے کہ عملی میدان میں اسے ایسے حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے جہاں اس کا دم گھٹنے لگا ہے۔ اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں اردو میڈیم اسکولوں کا تسلسل کے ساتھ بند ہونا،اردو اساتذہ کی اسامیاں خالی رکھنا،یونیورسٹی سے اردو کو ختم کرنا،مقابلہ جاتی امتحانات میں اردو آپشن ختم کرنا، وغیرہ جیسے نئی نسل کو اس کی مادری زبان سے دور کرنے کی منظم پالیسیاں اس بات کا غماز ہیں کہ جمہوریت کے اس چمن میں اس زبان کو مٹانے کی خاموش سازشیں جاری ہیں۔ سرکاری دفاتر کی فائلوں سے اس کا اخراج، عدالتوں میں اس کے دائرہ کار پر قدغنیں اور اردو کتبہ سائن بورڈز سے اس کے نقوش مٹانے کی کوششیں دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ تعصب کی یہ آگ کتنی گہرائی تک سرایت کر چکی ہے۔ آج جب کہ اردو زبان دنیا کی تیسری بڑی زبان کا درجہ رکھتی ہے، میڈیا اور تعلیمی حلقوں میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نئی نسل کو اپنی قومی زبان سیکھنے کی ترغیب دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی زبان سے دوری اب ہماری نئی نسل کو براہِ راست دین سے بھی دور کر رہی ہے۔ اور موجودہ دور میں غیر زبانوں اور ثقافت کے غلبے کی لپیٹ میں رہ کر خالص اردو لکھنا اور بولنا نئے بچوں کے لیے کسی کٹھن محاذ سے کم نہیں رہا۔ مغربی تہذیب اور دیگر زبانوں کی یلغار نے نئی نسل کو اپنے ہی درخشاں علمی و ادبی ورثے سے بیگانہ کر دیا ہے، جس کے اثرات ہماری دینی، اخلاقی اور تہذیبی اقدار پر بھی نہایت منفی پڑ رہے ہیں۔ عالمی یومِ اردو کے اس موقع پر ہمیں ایک مؤثر اور عملی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔اردو کی ترویج و ترقی کے لیے ہم سب کو اس فکری مہم میں بھرپور طریقے سے شریک ہونا چاہیے۔ اگر ہم سچے دل سے اردو سے محبت کرتے ہیں اور اس کی بقا، تحفظ اور اس کو اس کا جائز حق دلوانے میں سنجیدہ ہیں، تو ہمیں آگے بڑھ کر اس تحریک کا حصہ بننا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ زبانیں قوموں کی شناخت ہوتی ہیں، اور جس قوم کی زبان دم توڑ دے اس کی تاریخ، اس کا ورثہ اور اس کا مستقبل بھی صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔
از: آصف جلیل احمد (چونابھٹی، مالیگاؤں) |