مدارس، قرآن اور ہمارے معاشرتی رویے | کیا ہم اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے والوں کی قدر کرتے ہیں؟

آج ذرا اپنے معمولات پر غور کریں۔ ہم روزانہ کتنا وقت کتابوں، کمپیوٹر، موبائل اور سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں؟ بچوں سے لے کر بڑوں تک، کارٹون، کھیل، کھانے پینے کی اشیائ کی تیاری اور انٹرنیٹ پر موجود تقریباً ہر چیز دیکھنے اور پڑھنے کے لیے ہمارے پاس وقت ہے، لیکن کیا ہم قرآن پاک کی تلاوت اور اس کی تعلیم کے لیے بھی اتنا ہی وقت نکالتے ہیں؟

کہتے ہیں کہ اگر انسان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی حیثیت کا اندازہ لگانا ہو تو وہ اپنی مصروفیات پر نظر ڈالے کہ اس کی زندگی کن کاموں میں گزر رہی ہے۔

میں خود کسی مدرسے سے تعلیم یافتہ نہیں ہوں، لیکن مجھے مدارس میں پڑھنے والے بچوں سے خصوصی محبت اور عقیدت ہے۔ ان بچوں کو دیکھ کر اکثر دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ان میں سات سے دس سال کی عمر کے ایسے معصوم بچے بھی شامل ہیں جو اپنے گھروں، ماؤں اور والدین سے دور رہ کر قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

جب ہم ان بچوں کو دیکھتے ہیں تو اپنے گھروں میں موجود بچوں کا خیال آتا ہے۔ دل سوال کرتا ہے کہ یہ بھی کسی ماں کی آنکھوں کا تارا ہیں، ان کے والدین بھی انہیں اسی طرح چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے بچوں کو دینی تعلیم اور قرآن کی روشنی حاصل کرنے کے لیے مدارس کے سپرد کیا ہے۔

کچھ بچے روزانہ اپنے گھروں سے مدارس آتے ہیں، جبکہ بعض مدارس میں باقاعدہ رہائش پذیر ہیں۔ ان میں بہت سے یتیم اور ایسے بچے بھی ہیں جن کے سروں پر والدین کا سایہ موجود نہیں۔ کئی مدارس ایسے بچوں کو رہائش، کھانا، لباس اور تعلیم سمیت زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ معاشرے کے مخیر حضرات کے صدقات، زکوٰۃ اور عطیات سے ممکن ہوتا ہے۔مدارس اور ان سے وابستہ اساتذہ بھی ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ غلطیاں ہر شعبے میں ہوتی ہیں۔ مدارس بھی انسانوں کے زیر انتظام ہیں، اس لیے انہیں تنقید اور اصلاح سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ جہاں کہیں بدانتظامی، غفلت یا کسی قسم کی زیادتی ہو، وہاں شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن چند واقعات کی بنیاد پر تمام مدارس، ان کے اساتذہ اور وہاں زیر تعلیم بچوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا بھی انصاف نہیں۔

جب بعض حلقوں میں اختلافات یا تنازعات پیدا ہوتے ہیں تو اس کا اثر اکثر مدارس اور ان کے طلبہ تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کسی بھی معاملے پر رائے قائم کرتے وقت جذبات کے بجائے حقائق، شواہد اور انصاف کو بنیاد بنائیں۔

ذرا اپنے رویوں پر بھی غور کریں۔ ہم اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کے لیے بیرون ملک بھیجنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ انگلینڈ، امریکہ اور یورپ کی تعلیم کو ترقی اور کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں، لیکن کیا ہم اپنے محلے کے کسی مدرسے میں قرآن پڑھنے والے بچوں اور ان کے اساتذہ کو وہی عزت اور اہمیت دیتے ہیں؟

کیا ہم کبھی اپنے محلے کے مدرسے کے بچوں کو اپنے گھر کی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں؟ عید پر اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے، جوتے اور عیدی کا انتظام کرتے ہیں، لیکن کیا کبھی ان بچوں کے لیے بھی عید کے تحائف خریدے ہیں جو اپنے والدین سے دور رہ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟کیا کبھی اپنے محلے کے امام مسجد، مدرسے کے استاد اور طلبہ کو کسی خوشی کی تقریب میں مدعو کیا ہے؟ یا ہم انہیں صرف جنازوں، غموں اور قرآن خوانی کے مواقع پر ہی یاد کرتے ہیں؟

ایک اور اہم پہلو مدارس کے اساتذہ کی معاشی مشکلات ہیں۔ ان کے بھی بچے ہیں، خاندان ہیں اور گھریلو ضروریات ہیں۔ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، مگر اکثر محدود وسائل میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں۔ ان کی محنت، قربانیوں اور ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ہمیں مدارس کی اندھی حمایت نہیں بلکہ ان کے ساتھ منصفانہ رویہ، اصلاح اور تعاون کی ضرورت ہے۔

مدارس میں اگر کہیں اصلاح کی ضرورت ہے تو اصلاح ہونی چاہیے، بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور ہر ادارے میں جواب دہی کا نظام ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کی تعلیم، تربیت، عزت اور مستقبل کا تحفظ بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

آئیے! اس سال اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے مدرسے کے بچوں کو بھی یاد رکھیں۔ ان کے لیے تحائف، کپڑے، جوتے اور کھانے کا اہتمام کریں۔ مدرسے کے اساتذہ کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے ساتھ معاشرتی تعلق مضبوط بنائیں۔کیونکہ قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والے بچے بھی ہمارے ہی معاشرے کا مستقبل ہیں۔ ان کی خوشیاں، ان کی ضروریات اور ان کے خواب بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے ہمارے اپنے بچوں کے۔قرآن پڑھنے والوں کی عزت صرف باتوں سے نہیں، ہمارے عملی رویوں سے ظاہر ہونی چاہیے۔

خدارا! مدارس کے بچوں کو تنازعات اور نفرت کی سیاست کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کے لیے محبت، تحفظ، عزت اور بہتر مستقبل کا ماحول پیدا کریں۔


#RespectMadrassas #QuranEducation #IslamicEducation #MadrassaStudents #RespectTeachers #SupportOrphans #SocialResponsibility #EducationForAll #HumanityFirst #ProtectChildren #CommunitySupport #RespectReligiousScholars
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1083 Articles with 847057 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More