قرآن کا اندازِ بیان

قرآن کا وہ پر اثر پہلو جو دلوں کو فتح کرتا ہے اور انسانی نفسیات میں جاگزیں ہو جاتا ہے۔ ہم جیسے عربی ادب و زبان سے ناواقف لوگ نہیں سمجھ سکتے ۔ قرآن کا ترجمہ ان اثرات کو دلوں میں مرتب نہیں ہونے دیتا
مفسر سید قطب خود عربی اہلِ زبان تھے، ادب اور لسانیات پر عبور رکھتے تھے ۔ ان کی تفسیر " فی ظلال القرآن" اصل قرآن کی تاثیرات اور متاثر کن پہلو کو اجاگر کرتی ہے
قرآن کا اندازِ بیان

تحریر : طارق ظفر خان

قرآن کا وہ پر اثر پہلو جو دلوں کو فتح کرتا ہے اور انسانی نفسیات میں جاگزیں ہو جاتا ہے۔ ہم جیسے عربی ادب و زبان سے ناواقف لوگ نہیں سمجھ سکتے ۔ قرآن کا ترجمہ ان اثرات کو دلوں میں مرتب نہیں ہونے دیتا ۔
مفسر سید قطب خود عربی اہلِ زبان تھے، ادب اور لسانیات پر عبور رکھتے تھے ۔ ان کی تفسیر " فی ظلال القرآن" اصل قرآن کی تاثیرات اور متاثر کن پہلو کو اجاگر کرتی ہے ۔ یہ قرآن کے ادبی، جادو بیان اور سحر انگیز طرزِ تخاطب کو واضح کرنے والی تفسیر ہے جس کے نتیجے میں وہ قرآن کا قاری جو عربی نہیں جانتا، کچھ تھوڑا بہت اس کی سحر البیانی کا اثر قبول کر لیتا ہے۔ ایسا اثر کسی اور تفسیر میں نہیں پایا جاتا۔

مفسر قرآن سید قطب شہید نے قرآن کا لسانی پہلو بہت اچھے پیرائے میں بیان کیا ہے۔
انہوں نے اپنی تفسیر فی ظلال القرآن میں سورہ المعارج کے تعارف میں ایک طویل تحریر میں سورہ الحاقہ اور سورہ المعارج کے مضامین اور طرزِ بیان کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے ۔
اس میں وہ قرآن کی سحر البیانی اور فکر انگیز اور پُر اثر زبان کا بیان کرتے ہیں۔
اور لسانی خوبصورتی اور نفسِ انسانی پر اس کے مرتب ہونے والے اثرات کے تناظر میں،
دونوں سورتوں کے آفاقی اور نفسیاتی پہلوؤں کا گہرا جائزہ لیتے ہیں ۔

سید قطب سورة المعارج کو ایک نظر میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

یہ سورت طویل اور دھیمی رفتار سے نفسیاتی علاج کے سلسلے کی کڑی ہے۔
مشرکین کے ذہنوں میں دورجاہلیت کی جو گہری اور پیچیدہ بیماریاں تھیں اور قرآن کریم ان کا علاج کررہا تھا ، یہ اسی کی ایک کڑی ہے۔ اور اس میں جاہلیت کی باقیات ، تاریکیوں اور بیماریوں کی صفائی کی گئی ہیں۔

جس طرح یہ مہم اس وقت قرآن کو درپیش تھی ، اسی طرح آئندہ بھی تحریک اسلامی کو ایسی ہی مہم درپیش ہوسکتی ہے۔ ہر دور کی جاہلیت کی سطح میں اختلاف تو ہوسکتا ہے لیکن اس کے ظاہری اور پوشیدہ حقائق میں اختلاف نہیں ہوتا۔

غرض یہ ایک نفسیاتی مہم ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانی نفس کے نشیب و فراز میں جہاں جہاں بھی جاہلیت کے اس قسم کے آثار ہوں اور تہہ بہ تہہ تاریکیاں جمی ہوئی ہوں ، ان کی صفائی کردی جائے۔


یہ اس قدر مشکل مہم تھی ، جو ان جنگی مہمات ، سے زیادہ مشکل تھی ، جن میں ، بعد کے ادوار میں ، مسلمانوں نے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے۔
یہ ذہنی اور نفسیاتی تاریکیاں اور بیماریاں ان سیاسی قوتوں سے زیادہ سخت اور زیادہ دفاع کرنے والی تھیں بلکہ حملہ آور ہونے والی تھیں ، جو تحریک اسلامی کی پوری تاریخ میں اس کے خلاف حملہ آور رہیں۔

قدیم زمانے میں بھی اور آج کے جدید تاریخ میں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو نفسیات اور عقائد ونظریات کے میدان میں جنگ کرنی پڑی۔

اس سورت کا بنیادی موضوع اور اس کا محور عقیدہ قیامت ہے۔ قیامت کا ثبوت اسے لوگوں کے دل و دماغ میں بٹھانا کہ وہ دن آئے گا ، جس میں جزاء وسزا کا عمل ہوگا۔ اور کافروں کو وہ سزا دی جائے گی جس سے قرآن ان کو ڈراتا ہے۔

اس سورت کا ہدف صرف یہی ہے کہ اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیا جائے اور نفس انسانی اگر مومن ہو تو وہ بہت مختلف ہوتا ہے، اس سے جب وہ کافر ہو۔ چناچہ یہ سورت نفس مومنہ کی صفات اور علامات بھی بتاتی ہے۔ اور اس کے شعور اور طرز عمل کو بھی بتاتی ہے اور اللہ کے ہاں اس کے استحقاق کو بھی ظاہر کرتی ہے
اور نفس امارہ کفار کے بارے میں بھی بتاتی ہے اور یہ بھی بتاتی ہے کہ اسکے لئے عذاب ہے اور کس قدر ذلت و اہانت ہے۔

اور یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان کی طے کردہ قدریں کیا ہوتی ہیں ؟ اور خالق کائنات کے طے شدہ قدریں کیا ہیں ؟

یوں یہ سورت انسان کی نفسیاتی بیماریوں کا طویل المدت علاج کرتی ہے۔ نفس انسانی کی دنیا کے نشیب و فراز میں اترتی ہے ، اور اس کی کمزوریوں اور بیماریوں کو لیتی ہے اور ان کا علاج کرتی ہے۔

یہ تھا وہ نفسیاتی معرکہ جو اس کتاب نے ایک طویل عرصے تک لڑا اور اس میں یہ کتاب کامیاب رہی ،
بعد کے ادوار میں مسلمانوں کے لئے پھر میدان معرکہ مشکل نہ تھا کیونکہ قرآن نے اس جنگی میدان میں معرکے سے قبل کفار کو نفسیاتی ، دینی اور نظریاتی میدان میں شکست دے دی تھی۔ یہ بہت مشکل کام ہوتا ہے ، خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ کسی نظریاتی قوت کی پشت پر کوئی مادی قوت نہ ہو۔

جو اہلِ زبان قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کے ذہن میں واقعات سیرت بھی حاضر ہوتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مکہ کے اندر قرآن کریم کس قوت کے ساتھ عربوں کی نفسیاتی دنیا پر لشکر کشیاں کررہا تھا اور کس طرح نفوس کو فتح کرکے ان کو برضا و رغبت اسلامی قیادت کی حلقہ بگوشی تسلیم کرنے پر مجبور کررہا تھا۔

قرآن کا اندازِ بیان
قرآن کا وہ پر اثر پہلو جو دلوں کو فتح کرتا ہے اور انسانی نفسیات میں جاگزیں ہو جاتا ہے۔ ہم جیسے عربی ادب و زبان سے ناواقف لوگ نہیں سمجھ سکتے ۔ ترجمہ ان اثرات کو دلوں میں مرتب نہیں ہونے دیتا ۔

سید قطب شہید نے قرآن کا یہ لسانی پہلو بہت اچھے پیرائے میں بیان کیا ہے سورہ المعارج کے تعارف کے عنوان کے تحت وہ فرماتے ہیں:

مکہ مکرمہ میں جب انسان قرآن کی فتوحات پر نظر ڈالتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن انسانی نفسیات پر عجیب عجیب زاویوں سے حملے کرتا تھا اور ان کو فتح کرلیتا تھا۔

کبھی تو قرآن کا انداز یوں ہوتا کہ کسی سورت میں طوفان اور سیلاب کی طرح دلائل اور موثرات آتے ہیں۔ اور جاہلیت کے افکار باطلہ کے خس و خاشاک کو بہا کرلے جاتے ہیں۔

اور بعض اوقات انداز بیان یوں ہوتا ہے جس طرح ایک غضب ناک قوم حملہ آور ہوتی ہے اور جو بھی اس کے سامنے آتا ہے اسے مٹا کر رکھ دیتی ہے۔ یوں قرآن کریم جاہلیت کے آثار اور تصورات کو مٹا دیتا ہے

اور بعض اوقات وہ یوں حملہ آور ہوتا ہے کہ گویا وہ کوڑے برسا رہا ہے ، جس سے انسانی احساس جل اٹھتا ہے۔ اور انسان ان کو مار کو اور درد کو برداشت ہی نہیں کرسکتا۔

او بعض اوقات قرآن کریم کا انداز بہت ہی خوش گوار ، محبت آمیز مکالمات سے بھر پور ہوتا ہے اور یہ مکالمات محبت اور ہمدردی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور انسانی شعور اور دل کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوتے ہیں۔

بعض اوقات قرآن کی پکار نہایت ہی ہولناک ہوتی ہے۔ سننے والوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اسی چیخ اور زور دار پکار کو سن کر انسان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور وہ محسوس کرتا ہے کہ بہت ہی خطرہ درپیش ہے۔

اور بعض اوقات قرآن کا انداز نہایت سادہ اور صاف ہوتا ہے۔ اور کوئی عقلمند انسان اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اور نہ اس میں کوئی جدل وجدال کرسکتا ہے۔

کبھی اس کا انداز نہایت پر امیدی کا ہوتا ہے اور قرآن قاری کو امید کی ایک کرن عطا کرتا ہے ، جس سے انسانی شعور میں روشنی اور صبح نو اور ترو تازہ نہایت پرامیدی کا ہوتا ہے۔ اور قرآن قاری کو امید کی ایک کرن عطا کرتا ہے ، جس سے انسانی شعور میں روشنی اور صبح نو اور تر و تازہ فضا کی امید پیدا ہو جاتی ہے

اور کبھی انداز یہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم انسانی مغیبات کی پیچیدہ وادیوں اور اس کے اندرونی نشیب و فراز میں اتر جاتا ہے اور انسان کی داخلی کیفیات کو ایک منظر کی شکل عطا کر دیتا ہے اس طرح کہ انسان اس منظر کو دیکھ کر شرمندگی محسوس کرتا ہے کہ یہ تو میرا راز افشا ہوگیا۔

یوں انسان خود اپنے تاثرات اور اپنے میلانات اور انفعالات سے واقف ہوتا ہے جب کہ اس سے قبل وہ خود اپنے میلانات سے غافل تھا۔

غرض قرآن کریم میں ، سینکڑوں تنبیہات ، سینکڑوں پکاریں ، سینکڑوں دلائل ہیں ، جو تلاوت قرآن کے دوران سامنے آتے ہیں۔ اور ان کے ذریعہ قرآن اس فکری اور شعوری میدان جنگ کی کشمکش برپا کیے ہوئے ہے۔

غرض یہ طویل مسلسل اور پہیم جد وجہد قرآن نے جاری رکھی اور عربوں جیسے معاند دلوں کو شکست دے دی۔

یہ پوری سورت ان کوششوں کا ایک نمونہ ہے جس میں ثبوت آخرت پر بحث ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے متعلقہ موضوعات بھی اس میں لئے گئے ہیں۔
سورة الحاقہ بھی دراصل ثبوت آخرت ہی کے موضوع پر تھی۔ لیکن سورة الحاقہ اور اس سورت کے انداز میں بہت فرق ہے ۔
اس سورت میں قیام قیامت کے موضوع کو بالکل ایک نئے زاویہ سے لیا گیا ہے۔ اور بالکل جدید رنگ اور جدید انداز میں !
پچھلی سورة الحاقہ میں قیامت کے ہولناک اور خوفناک مناظر لئے گئے تھے جنہیں پڑھ کر انسان ششدر رہ جاتا ہے اور جو مناظر اور حرکات دکھائی گئی تھیں وہ بھی شدید اور خوفناک تھیں۔ مثلاً :

" پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک مار دی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا ، اس روز وہ ہونے والے واقعہ پیش آجائے گا۔ اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی"۔

اور اسی سورت میں اللہ کی شان کبریائی اور جلالت کو یوں خوفناک انداز میں بیان کیا گیا ہے :
” فرشتے ان کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کیے جائو گے تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا “۔

اسی طرح سورة الحاقہ میں جو عذاب کے مناظر تھے ، وہ بھی نہایت ہولناک تھے۔ یہاں تک کے عدالت کبریائی کی طرف سے عذاب کے جو احکامات صادر ہوئے ، ان کے الفاظ میں بھی شدت صاف صاف نظر آتی ہے۔
” پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ، پھر اسے جہنم میں جھونک دو ، پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو “۔

اور جن لوگوں کو عذاب دیا گیا ان کی چیخ و پکار اور آہ وفغاں میں بھی یہ شدت اور سختی عیاں ہے ، زور زور سے آہ وزاری کررہے ہیں وہ:

” کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے ۔ کاش میری وہی موت (جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی “۔

جبکہ سورہ المعارج میں اس کے تمام مناظر اس کائنات کے بجائے نفس انسانی کے اندر ہیں۔ انسانی نفس کے خدوخال ، اس کی علامات ، اس کے خلجان ، اس کے اقدامات وغیرہ۔
اگر اس میں اس کائنات کا کوئی منظر ہے بھی تو اس کا خوف بھی نفسیاتی دنیا میں ہے۔ ظاہری مناظر میں نہیں ہے۔
یعنی نفس انسانی کے اندر جو ڈر ، خلجان ، بھوک اور خوف کی حالت ہوتی ہے ، یہاں یوں اس کے اندر محدود ہے۔
مثلاً
” جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے۔ اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیر اسے نجات دلادے “۔

یہ سب نفسیاتی اتارچڑھائو ہیں۔
اس سورت میں جہنم بھی ایک زندہ نفس کی شکل میں آتی ہے۔ اور وہ تمام زندوں کے احساسات میں شریک ہے۔
مثال کے طور پر:
” وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی ، پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا “۔

اس سورت میں جو عذاب مذکور ہے اس کی نوعیت بھی حسی سے زیادہ نفسیاتی ہے۔

جیسے
” جب یہ اپنی قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑے جارہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کے آستانوں کی طرف دوڑ رہے ہوں ، ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی ، ذلت ان پر چھارہی ہوگی یہ وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے “۔

لہٰذا اس سورت کے مناظر ، تصاویر اور سائے سورة الحاقہ سے اس طرح مختلف ہیں جس طرح دونوں سورتوں کا ماحول اور انداز مختلف ہے۔ لیکن دونوں سورتیں ایک ہی حقیقت کو بیان کررہی ہیں۔ یعنی عقیدہ آخرت اور آخرت کے مناظر۔
یہی وجہ ہے کہ سورة معارج میں انسانی نفس کے وہ حالات بھی بیان کیے گئے ہیں جو خوشی کی حالت میں ہوتے ہیں اور وہ حالات بھی جو مشکلات میں ہوتے ہیں۔
ایمان کی حالت اور کفر کی حالت ۔ اور یہ اس سورت کے نفسیاتی رنگ کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔
چناچہ انسان کے نفسیاتی حالات کے بارے میں ہے :
” انسان تھرڈلا پیدا کیا گیا ہے ، جس اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔ مگر وہ لوگ (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں ، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں “۔

اور اہل ایمان کی نفسیاتی اور عملی حالت یہ ہے :
” جو نماز پڑھنے والے ہیں ، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں ، جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے ، جو روز جزا کو برحق مانتے ہیں ، جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بےخوف ہو ، جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ، بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملوکہ عورتوں کے ، جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں…‘ جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں ، جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے “۔

سورة الحاقہ کا محور اور مضمون یہ تھا کہ اسلامی عقیدہ اور نظریہ کے متعلق فیصلہ کن انداز اختیار کیا جائے اور عقیدہ آخرت چونکہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقیدے کے ایک جز کی حیثیت سے زیر بحث تھا۔ باقی مضامین بھی تھے۔
مثلاً زمین میں مکذبین پر عذاب کا نزول۔ اور سخت گرفت اور یہ کہ اسلامی نظریہ میں اگر کوئی تبدیلی کرتا ہے تو ان کی گرفت۔

لیکن سورة المعارج کا زیادہ تر مضمون صرف قیامت کے بارے میں ہے۔ وہاں کی جزاء سزا ، گویا وہاں آخرت کا مضمون ضمنی اور یہاں اصل محور ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جو دوسرے مضامین یہاں لائے گئے ہیں ، وہ براہ راست آخرت سے متعلق ہیں۔

مثلاً یہ بات کہ اللہ کے ہاں ایام اللہ کا حساب و کتاب کیا ہے اور آخرت کے بارے میں لوگوں کے کیا اندازے ہیں اور اللہ کے ہاں اس کی حقیقت کیا ہے ؟
” ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کرجاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ پس اے نبی ﷺ صبر کرو ، شائستہ صبر ۔ یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ یہ بھی آخرت سے متعلق حقیقت ہے۔

اسی طرح یہ بات کہ انسانی نفس اگر ایمان رکھتا ہو یا ایمان سے خالی ہو ، ان دونوں حالتوں میں فرق کیا ہوتا ہے۔ دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے ؟
پھر یہ بات کہ کافر دھوکہ کھاتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے ، حالانکہ اللہ کے ہاں ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اور وہ اللہ سے آگے ہو کر کوئی کام نہیں کرسکتے اور نہ اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہیں

یوں یہ سورت قریب قریب قیامت کے موضوع تک محدود ہے۔ اور اسی حقیقت کو لوگوں کے ذہن نشین کرنا چاہتی ہے ، باوجود اس کے کہ اس کے مضامین متنوع ہیں اور بعض ایسے موضوعات بھی اس میں ہیں جو اصل موضوع کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔
اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ اس سورت کا ایک خاص انداز تعبیر ہے اور ایک خاص موسیقیت اس میں ملحوظ رکھی گئی ہے۔
سورة الحاقہ میں تنوع یہ تھا کہ قافیہ ایک ایک پیراگراف میں بدل جاتا ہے۔ اور یہ تبدیلی معنوی تبدیلی کے ساتھ ہوتی تھی ،
لیکن اس سورة المعارج میں قافیہ اور موسیقی کا تنوع ذرا مزید گہرا ہے۔ اس میں جملوں میں موسیقی کے لحاظ سے بھی تنوع ہے اور قافیہ کے لحاظ سے بھی۔ اور اس میں جملوں کی ترکیب موسیقی کے زاویہ سے ذرا گہری اور سورت کے پہلے حصے میں خاص طور پر نمایا ہے۔۔

آغاز تین جملے موسیقی اور قافیہ کے اعتبار سے یکساں ہیں۔ جملوں کی طوالت بھی یکساں ہے مثلاً :

آیت نمبر 1-5

سَاَلَ سَآئِلٌ ۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ ۞
لِّلۡكٰفِرِيۡنَ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌ ۞
مِّنَ اللّٰهِ ذِى الۡمَعَارِجِؕ ۞
تَعۡرُجُ الۡمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوۡحُ اِلَيۡهِ فِىۡ يَوۡمٍ كَانَ مِقۡدَارُهٗ خَمۡسِيۡنَ اَلۡفَ سَنَةٍ‌ۚ‏ ۞
فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا ۞

اس میں پانچویں آیت اور قافیہ میں اس پیرا گراف کو جمیلا کی الف پر ختم کیا گیا ہے۔
ان آ یات کا ترجمہ یہ ہے:
مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے (وہ عذاب) جو ضرور واقع ہونے والا ہے ۞ ، کافروں کے لئے ہے ، کوئی اسے دفع کرنے والا نہیں ، ۞ اس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔ ۞ ملائکہ اور روح اس کے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ ۞ پس اے نبی صبر کرو ، شائستہ صبر۔ ۞

آیت 6 تا 7

اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًا ۙ‏ ۞
وَّنَرٰٮهُ قَرِيۡبًا ۞

صرف دو فقرے اور خاتمہ الف پر دونوں مرتبہ اور دوسرے فقرے پر پیرا ختم ہے۔

ترجمہ:
یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں ۞ اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں ۔ ۞

آیت نمبر 8-10

يَوۡمَ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِۙ ۞
وَتَكُوۡنُ الۡجِبَالُ كَالۡعِهۡنِۙ ۞
وَلَا يَسۡئَـلُ حَمِيۡمٌ حَمِيۡمًا ۞
اس میں داخلی قافیے مختلف ہیں ، لیکن تیسرے فقرے پر الف پر پیرا ختم ۔
ترجمہ:
(وہ عذاب اس روز ہوگا) جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا ۞ اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے۔ ۞ اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا ۞


آیت نمبر 11-21

يُّبَصَّرُوۡنَهُمۡ‌ؕ يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِىۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِئِذٍۢ بِبَنِيۡهِۙ‏ ۞
وَ صَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ ۞
وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِىۡ تُـئْوِيۡهِۙ‏ ۞
وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِۙ ۞
كَلَّا ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ ۞
نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى‌ ۞
تَدۡعُوۡا مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ‏ ۞
وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى ۞
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ هَلُوۡعًا ۙ‏ ۞
اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ۞
وَاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا ۞

اس پیرے میں جو چھ مرتہ الف پر وقف ہے ، تین آخری الف کا انداز پہلے تین سے مختلف ہے۔

ترجمہ:
حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، ۞ اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، ۞ اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، ۞ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے۔ ۞ وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی ۞ جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی ، ۞ پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو ، جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری ۞ اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا ۔ ۞ انسان تھرڈلا پیدا کیا گیا ہے ، ۞ جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے ۞ اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔ ۞
سید قطب لکھتے ہیں کہ
"سورت کا آغاز میں موسیقی کی متنوع نغمگی ہے ، یہ لحن نہایت گہرا اور پیچیدہ ہے۔ اور اس کی یہ پیچیدگی ، اور اس کا یہ تنوع ، موسیقی کا ذوق رکھنے والے کانوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔
کیونکہ اس کے اندر موسیقی کا وہ حسن ہے جو عربی معاشرے کے ذوق موسیقی کے لئے انوکھا ہے۔ اور سا کا ٹون عربی موسیقی کے ٹون سے مختلف ہے لیکن قرآن اپنے مخصوص اسلوب کے ساتھ اسے سہل بناکر عربی ذوق کے سامنے رکھتا ہے اور یہ عربی ذوق اسے قبول کرلیتا ہے۔
اگرچہ یہ ٹون اپنی تشکیل کے اعتبار سے بالکل ایک جدید اور گہرا فن ہے اور عربوں کے عادی ذوق موسیقی سے مختلف ہے۔
ان گزارشات کو وہ لوگ تو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں جو کسی قدر اصول موسیقی سے واقف ہیں، وہ ان باتوں کو سمجھنے میں زیادہ دِقّت محسوس نہ کریں گے۔"

عربی ادب و زبان کا اپنا انداز اور سحر البیانی ہے۔ عرب پڑھے لکھے نہ ہونے کے باوجود قادر بیان تھے ۔ فی البدیہہ کہانیاں کہنے میں رطب اللسان تھے ، تقریر ، افسانہ، ادائیگیٔ الفاظ میں ماہر تھے، ہر تیسرا چوتھا عرب شاعر تھا۔ ان کو زبان پر عبور حاصل تھا، وہ اس پر فخر کرتے تھے اور غیر عربوں کو عجمی یعنی گونگا کہا کرتے تھے ۔ جب قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو اس کی زبان و بیان کا سحر ان عرب کے باسیوں کی زبان سے سبقت لے گیا۔ جس کی اثر انگیزی نے انہیں قرآن کو کلام اللَٰہ ماننے پر آمادہ کر دیا ۔
مفسر سید قطب خود عربی اہلِ زبان تھے، ادب اور لسانیات پر عبور رکھتے تھے ۔ وہ قرآن کے ان مضامین و مضمرات کو سمجھتے تھے ۔ اسی لیے ان کی تفسیر اصل قرآن کی تاثیرات اور متاثر کن پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے ۔ یہ وہ قرآن کے ادبی، جادو بیان اور سحر انگیز طرزِ تخاطب کو واضح کرنے والی تفسیر ہے جس کے نتیجے میں وہ قرآن کا قاری جو عربی نہیں جانتا، کچھ تھوڑا بہت اس کی سحر البیانی کا اثر قبول کر لیتا۔ ایسا اثر کسی اور تفسیر میں نہیں پایا جاتا۔

 

Tariq Zafar Khan
About the Author: Tariq Zafar Khan Read More Articles by Tariq Zafar Khan: 31 Articles with 17267 views A enthusiastic reader and writer. Interested in new discoveries, inventions, innovations in science and their place and effect in society and religio.. View More