عالم باعمل شیخ عبدالقادر جیلانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ
(Khurram Shahzad, Fateh Jang)
عالم باعمل شیخ عبدالقادر جیلانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ علمائے ربّانیین میں بلند مقام کے حامل ہیں ۔ انھوں نے زندگی بھر اپنے قول و عمل سے اللہ کے بندوں کو اللہ کی دعوت دی اورکتاب و سنت کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کی، لیکن افسوس آج ان سے محبت کا دم بھرنے والوں نے بھی ان کی تعلیمات سے انحراف کیااور محض چند رسمی سی چیزوں کا کر لینا ان کے نزدیک محبت کی علامت ٹھہرا۔ایسے میں سخت ضرورت ہے کہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کی تعلیمات کو عام کیا جائے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نےبغداد میں درجنوں علماء و مشائخ سے علم و معرفت کے مختلف شعبوں میں علم حاصل کیا۔ حصول علم کے بعد بغداد چھوڑ کر عراق کے صحراوں میں پچیس سال کا عرصہ زہد و ریاضت میں گزرا۔ انہوں نے اپنے استاد المخبوزمی کے قائم کردہ مدرسے کے تعلیمی عملے میں شمولیت اختیار کی اور طلبہ میں مقبول ہو گئے۔ صبح کے وقت وہ حدیث اور تفسیر پڑھاتے، جبکہ دوپہر میں روحانی تربیت (علم القلوب) اور قرآن کی فضیلت پر لیکچر دیتے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک مؤثر واعظ تھے جو مختلف پس منظر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے، جن میں یہودی اور عیسائی بھی شامل تھے، اور صوفیانہ مابعدالطبیعیات کو اسلامی قانون کے ساتھ ضم کرتے تھے۔ آپ نے اندرونی تطہیر، اخلاقی رویے اور عبادت کی اہمیت پر زور دے کر بہت سے لوگوں کو اسلام میں داخل کیا۔ انہوں نے بغداد میں مدرسہ القادریہ قائم کیا، جو اسلامی تعلیم اور روحانیت کا مرکز بن گیا، اور یہاں قرآن، حدیث، فقہ، اور تصوف کی تعلیم دی جاتی تھی، جس میں مختلف علاقوں سے طلبہ شریک ہوتے تھے۔ ان کی تعلیمات نے سیاسی اور فوجی لیڈروں جیسے نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی پربھی اثر ڈالا، جو ان کی رہنمائی کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ شیخ عبد القادر جیلانی کی انٹرنیٹ پر 42 کتابیں موجود ہیں جن میں سے کچھ کے نام ہیں: غنیۃ الطالبین، الفتح الربانی والفیض الرحمانی، ملفوظات، فتوح الغیب، جلاء الخاطر، ورد الشیخ عبد القادر الجیلانی، بہجۃ الاسرار، الحدیقۃ المصطفویہ، الرسالۃ الغوثیہ، آدابِ سلوک و التوصل الی ٰ منازل ِ سلوک اور جغرافیۃ الباز الاشہب۔ حضرت شیخ امام موقف الدین بن قدامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ہم بغداد شریف گئے تو ہم نے دیکھا کہ شیخ سید عبدالقادر جیلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اُن میں سے ہیں کہ جن کو وہاں پر علم، عمل اورحال وفتوی نویسی کی بادشاہت دی گئی ہے، کوئی طالب علم یہاں کے علاوہ کسی اور جگہ کا ارادہ اس لئے نہیں کرتا تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میں تمام علوم جمع ہیں اورجو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے علم حاصل کرتے تھے آپ ان تمام طلبہ کے پڑھانے میں صبر فرماتے تھے، آپ کا سینہ فراخ تھا اور آپ سیر چشم تھے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ میں اوصاف جمیلہ اور احوال عزیزہ جمع فرمادیئے تھے۔ (بہجۃالاسرار) امام ربانی شیخ عبد الوہاب شعرانی اور شیخ الحدیث عبد الحق محدث دہلوی اور علامہ محمد بن یحیی حلبی رحمۃ اللہ علیہم تحریر فرماتے ہیں کہ: "حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تیرہ علوم میں تقریر فرمایا کرتے تھے۔ ایک اور جگہ علامہ شعرانی فرماتے ہیں کہ: "حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مدرسہ عالیہ میں لوگ آپ سے تفسیر، حدیث، فقہ، اور علم کلام پڑھتے تھے، دوپہر سے پہلے اور بعد دونوں وقت لوگوں کو تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول اور نحو پڑھاتے تھے، اور ظہر کے بعد قرأتوں کے ساتھ قرآن پڑھاتے تھے۔ آپ سے علم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد تقریبا ایک لاکھ ہے۔ جن میں فقہا کی بہت بڑی تعداد شامل ہے، اور تقریباً چار سو علمائے کرام آپ کی بارگاہ میں علم و حکمت کی باتیں سیکھنے کے لیے حاضر ہوتے تھے (مرآۃ الجنان)- شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آپ کے علمی کمالات کے متعلق ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ’’ ایک روز کسی قاری نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس شریف میں قرآن مجید کی ایک آیت تلاوت کی تو آپ نے اس آیت کی تفسیر میں پہلے ایک معنی پھر دو اس کے بعد تین یہاں تک کہ حاضرین کے علم کے مطابق آپ نے اس آیت کے گیارہ معانی بیان فرمادیئے اورپھر دیگر وجوہات بیان فرمائیں جن کی تعداد چالیس تھی اور ہر وجہ کی تائید میں علمی دلائل بیان فرمائے اور ہر معنی کے ساتھ سند بیان فرمائی، آپ کے علمی دلائل کی تفصیل سے سب حاضرین متعجب ہوئے۔(اخبارالاخیار) شیخ محی الدین عبدالقادرجیلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’میرے ہاتھ پر پانچ سو سے زائد یہودیوں اورعیسائیوں نے اسلام قبول کیا اور ایک لاکھ سے زیادہ ڈاکو، چور، فساق و فجار، فسادی اور بدعتی لوگوں نے توبہ کی۔ (بہجۃالاسرار) شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ہفتہ میں تین دن خطاب فرمایا کرتے تھے، جمعہ کی صبح، منگل کی شام، اتوار کی صبح۔ حضور غوث اعظم فرماتے ہیں کہ: ابتداً مجھ پر وعظ و تقریر کا ایسا غلبہ ہوتا تھا کہ خاموش رہنا میری طاقت سے باہر ہو جاتا، میری مجلس میں دو یا تین آدمی سننے والے ہوتے، مگر میں نے سلسلہ کلام جاری رکھا پھر اس قدر ہجوم بڑھا کہ جگہ تنگ پڑ گئی، پھر عید گاہ میں خطاب شروع کیا وہ بھی ناکافی ہوئی تو شہر کے باہر کھلے میدان میں اجتماع ہونے لگا اور ایک ایک مجلس میں ستر ہزار کے قریب سامعین جمع ہونے لگے۔ (اخبار الاخیار) شیخ عبدالقادر جیلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشادفرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے اور سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے، اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی ملکیت میں ہے، اس کی کسی چیز پر اپنا حق ظاہر نہیں کرنا چاہیے بلکہ اُس کا ادب کرنا چاہیے کیوں کہ اس کے تمام کام صحیح ودرست ہوتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کاموں کو مقدم سمجھنا چاہیے۔ اللہ تبارک و تَعَالٰی ہرقسم کے امور سے بے نیاز ہے اوروہ ہی نعمتیں اور جنت عطافرمانے والا ہے، اوراس کی جنت کی نعمتوں کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اس نے اپنے بندوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا کچھ چھپا رکھا ہے، اس لئے اپنے تمام کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے سپرد کرنا چاہیے، اللہ تبارک و تَعَالٰی نے اپنا فضل و نعمت تم پر پورا کرنے کا عہد کیا ہے اوروہ اسے ضرور پورافرمائے گا۔ (فتوح الغیب مع قلائدالجواہر) شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کافرمان عالی شان ہے : محبت الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کا تقاضا ہے کہ تو اپنی نگاہوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کی طرف لگا دے اور کسی کی طرف نگاہ نہ ہویوں کہ اندھوں کی مانند ہو جائے، جب تک تو غیر کی طرف دیکھتا رہے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل نہیں دیکھ پائے گا پس تو اپنے نفس کو مٹا کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف متوجہ ہو جا، اس طرح تیرے دل کی آنکھ فضلِ عظیم کی جانب کھل جائے گی اور تو اِس کی روشنی اپنے سر کی آنکھوں سے محسوس کرے گااورپھر تیرے اندر کا نور باہر کو بھی منور کردے گا، عطائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ سے تُو راحت و سکون پائے گااور اگر تُو نے نفس پر ظلم کیا اور مخلوق کی طرف نگاہ کی تو پھراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے تیری نگاہ بند ہو جائے گی اورتجھ سے فضلِ خداوندی رُک جائے گا۔ (فتوح الغیب مع قلائدالجواہر) شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے: صاحبو! (غور کرو) اسلام رو رہا ہے اور ان فاسقوں ، بدعتیوں ، گمراہوں ، مکر کے کپڑے پہننے والوں اور ایسی باتوں کا دعویٰ کرنے والوں کے ظلم سے جو ان میں موجود نہیں ہیں اپنے سر کو تھامے ہوئے فریاد مچا رہا ہے ۔ اپنے متقدمین اور نظر کے سامنے والوں کی طرف غور کر کہ امر ونہی بھی کرتے تھے اور کھاتے پیتے بھی تھے اور دفعتہ انتقال پاکر ایسے ہوگئے گویا ہوئے بھی نہ تھے ۔ تیرا دل کس قدر سخت ہے ؟ کتا بھی شکار کرنے اور کھیتی، مویشی کی نگہبانی ومالک کی حفاظت کرنے میں اپنے مالک کی خیر خواہی کیا کرتا ہے اور اسے دیکھ کر خوشی کے مارے کھلاڑیاں کرتا ہے؛ حالاں کہ وہ اس کو شام کے وقت صرف ایک دو نوالے یا ذرا سی مقدار کھانا دیا کرتا ہے اور تو ہر وقت اللہ کی قسم قسم کی نعمتیں شکم سیر ہوکر کھاتا رہتا ہے؛ مگر ان نعمتوں کے دینے سے جو اس کو مقصود ہے ، نہ تو اسی کو پورا کرتا ہے اور نہ اس کا حق ادا کرتا ہے؛ بلکہ اس کے برعکس اس کا حکم رد کرتا ہے اور اس کی حدودِ شریعت کی حفاظت نہیں کرتا۔[فیوضِ یزدانی]
|
|