وہ شخص جس نے مجھے معاف کرنا سکھایا

وہ شخص جس نے مجھے معاف کرنا سکھایا
(تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان)
رات کے تقریباً دس بجے تھے۔ بازار آہستہ آہستہ بند ہو رہا تھا۔ دکانوں کے شٹر گر رہے تھے، سڑک پر ٹریفک کم ہو چکی تھی اور دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد شہر جیسے تھکن اتارنے لگا تھا۔ میں ایک دکان کے باہر کھڑا کسی کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک ایک بوڑھا شخص میری نظر کے سامنے آ کر رک گیا۔
سادہ سے کپڑے، ہاتھ میں کپڑے کا ایک پرانا تھیلا، چہرے پر جھریاں اور آنکھوں میں عجیب سی سنجیدگی۔ وہ سامنے والی دکان سے کچھ سامان لے کر نکلا تو دکاندار نے اسے آواز دی:
"بابا جی! پچھلے مہینے کے پیسے ابھی باقی ہیں۔"
بوڑھے نے چند لمحے خاموش رہ کر جیب سے کچھ نوٹ نکالے اور بولا:
"بیٹا! آج اتنے ہی ہیں، باقی کل دے دوں گا۔"
دکاندار نے قدرے سخت لہجے میں کہا:
"آپ ہر دفعہ کل کہتے ہیں۔"
بوڑھے نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس سر جھکا کر سامان اٹھایا اور چل پڑا۔
نہ غصہ، نہ بحث، نہ شکایت۔
میں جانے کیوں اس کے پیچھے چل پڑا، چند قدم بعد میں نے پوچھ ہی لیا:
"بابا جی! آپ نے اسے جواب کیوں نہیں دیا؟"
وہ رک گیا۔ میری طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا:
"بیٹا! جواب دینے سے پیسے تو نہیں آ جائیں گے، لیکن دل ضرور بوجھل ہو جائے گا۔"
میں خاموش ہوگیا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا:
"زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب انسان کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ اسے اپنے دل میں لوگوں کی غلطیاں رکھنی ہیں یا سکون۔ میں نے سکون چن لیا ہے۔"
یہ جملہ میرے اندر کہیں بہت گہرا اتر گیا۔ میں نے پوچھا:
"کیا لوگوں نے آپ کے ساتھ بہت برا کیا ہے؟"
وہ ہنس پڑا۔ "بہت۔"
پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا:
"ایک بیٹا تھا، ناراض ہو کر الگ ہوگیا۔ بھائی نے زمین کے معاملے میں دھوکا دیا۔ ایک دوست نے کاروبار میں نقصان پہنچایا۔ رشتہ داروں نے بھی بہت کچھ کہا۔ پہلے ہر بات یاد رہتی تھی۔ راتوں کو سوچتا تھا کہ فلاں نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ پھر ایک دن سمجھ آیا کہ جن لوگوں نے مجھے دکھ دیا، وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئے، مگر میں ان کی دی ہوئی تکلیف کو سینے سے لگائے بیٹھا ہوں۔"
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:
"تب میں نے سب کو معاف کر دیا۔"
میں نے پوچھا:
"سب کو؟"
وہ بولا:
"ہاں، سب کو۔ کچھ نے معافی مانگی، کچھ نے نہیں۔ مگر میں نے پھر بھی معاف کر دیا۔ کیونکہ معافی ان کے لیے نہیں، میرے اپنے دل کے لیے ضروری تھی۔"
اس رات میں دیر تک سو نہ سکا۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ہم میں سے کتنے لوگ دوسروں کی غلطیوں کی سزا خود کو دیتے رہتے ہیں۔ کوئی دس سال پہلے کی بات دل میں لیے بیٹھا ہے، کوئی کسی کے ایک جملے کو آج تک نہیں بھولا، کسی نے ایک رشتے میں ملنے والی بے وفائی کو اپنی پوری زندگی کا دکھ بنا لیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دوسرے شخص کو سزا دے رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ہم خود اپنے دل کو روز سزا دیتے ہیں۔ کچھ لوگ معافی کے انتظار میں زندگی گزار دیتے ہیں، ہم اکثر کہتے ہیں:
"اس نے مجھ سے معافی مانگی تو میں معاف کروں گا۔"
مگر زندگی اتنی لمبی نہیں کہ ہم دوسروں کے احساسِ جرم کے انتظار میں اپنے سکون کو روک دیں۔ ہر شخص معافی مانگنے نہیں آتا۔ کچھ لوگ اپنی غلطی کبھی تسلیم نہیں کرتے۔ کچھ کو یاد ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے ہمیں کب اور کتنا دکھ دیا تھا۔
اور ہم؟
ہم وہ واقعہ برسوں یاد رکھتے ہیں۔ وہ شخص شاید سو چکا ہوتا ہے، مگر ہم رات بھر سوچتے رہتے ہیں۔
شاید معاف کرنے کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ انسان دوسرے کے رویے کا قیدی رہنا چھوڑ دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی معافی اور درگزر کا روشن نمونہ ہے۔
طائف میں آپ ﷺ کو شدید اذیت دی گئی۔ پتھر مارے گئے، جسمِ اطہر لہولہان ہوا۔ اس کے باوجود جب فرشتے نے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے ان کی ہلاکت نہیں چاہی، بلکہ امید ظاہر کی کہ شاید ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کی عبادت کریں۔
یہ صرف معافی نہیں تھی؛ یہ انسان کے مستقبل پر یقین تھا، قرآن کہتا ہے:
"وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ"
ترجمہ: "انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟" (سورۃ النور: 22)
کتنی عجیب بات ہے۔۔۔! ہم اللہ سے اپنی بخشش چاہتے ہیں، مگر دوسروں کو معاف کرنے میں دل تنگ کر لیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری غلطیوں کو دیکھ کر درگزر کرے، مگر کسی کی ایک غلطی کو برسوں اپنے دل میں محفوظ رکھتے ہیں۔
معافی کا مطلب ظلم کو درست کہنا نہیں، معاف کرنا یہ نہیں کہ ظلم کو ظلم نہ کہا جائے۔ یہ بھی نہیں کہ ہر شخص پر دوبارہ اعتماد کر لیا جائے اور نہ ہی یہ کہ انسان اپنے حقوق سے دستبردار ہو جائے۔
کبھی معافی کے ساتھ فاصلے بھی ضروری ہوتے ہیں، کبھی قانون کا راستہ بھی اختیار کرنا پڑتا ہے اور کبھی کسی سے دوبارہ تعلق نہ رکھنا ہی بہتر ہوتا ہے۔
مگر دل میں بدلہ، نفرت اور انتقام کی آگ لیے پھرنا انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے۔
معافی کا اصل مطلب شاید یہی ہے کہ جو ہوا اسے غلط سمجھتے ہوئے بھی اپنی آئندہ زندگی کو اس غلطی کا یرغمال نہ بنایا جائے۔
آج ایک شخص کو معاف کر کے دیکھیے، شاید آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا شخص ہو جس کا نام آتے ہی دل بوجھل ہو جاتا ہو۔ کوئی پرانا دوست، کوئی رشتہ دار، کوئی ساتھی، کوئی اپنا۔ آج اسے فون کرنا ضروری نہیں۔ اس کے پاس جانا بھی ضروری نہیں۔ صرف تنہائی میں بیٹھ کر دل سے اتنا کہہ دیجیے:
"اے اللہ! جو ہوا، میں اسے نہیں بدل سکتا۔ مگر میں اس کے بوجھ کے ساتھ مزید زندگی نہیں گزارنا چاہتا۔ میں اسے تیرے حوالے کرتا ہوں۔ مجھے معاف کرنے کا حوصلہ دے اور میرے دل کو سکون عطا فرما۔"
ممکن ہے سامنے والا نہ بدلے۔
ممکن ہے ماضی بھی نہ بدلے۔
مگر شاید آپ بدل جائیں۔
اور کبھی کبھی زندگی بدلنے کے لیے اتنا ہی کافی ہوتا ہے۔
وہ بوڑھا شخص مجھے آج بھی یاد آتا ہے۔ اس کے پاس نہ بڑی دولت تھی، نہ دنیاوی شان، مگر اس نے ایک ایسی دولت حاصل کر لی تھی جو ہر خزانے سے قیمتی ہے۔
اس نے اپنے دل کو لوگوں کی غلطیوں کا قبرستان نہیں بننے دیا تھا۔
شاید سکون کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ ہم کچھ لوگوں کو نہیں، اپنے ماضی کو معاف کرنا سیکھیں۔

 

Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 76 Articles with 118554 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.