تجاوزات کے خلاف کارروائی یا احتساب کا آغاز؟ پشاور میں مسماری آپریشن کے کئی اہم سوالات
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبرپختونخوا میں تجاوزات کے خلاف جاری کارروائی نے ایک بار پھر کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ پشاور سمیت مختلف علاقوں میں دکانوں، چھتوں، تھڑوں، شیڈز اور دیگر تعمیرات کو ہٹانے کے اقدامات کے بعد متاثرہ دکانداروں اور کاروباری افراد میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ سرکاری زمین واگزار کرانا، سڑکوں کی حدود بحال کرنا اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانا ضروری ہے۔ بلاشبہ سرکاری زمین پر غیرقانونی قبضہ ختم ہونا چاہیے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کارروائی میں صرف تعمیرات گرانے پر توجہ دی جا رہی ہے یا ان ذمہ داران کا احتساب بھی ہوگا جن کی مبینہ غفلت، سرپرستی یا ملی بھگت سے یہ تجاوزات قائم ہوئیں؟
یہ معاملہ صرف دکانیں گرانے یا سڑکیں کھلی کرنے تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ لوگوں کا روزگار، سرمایہ کاری، جائیدادوں کی قانونی حیثیت، سرکاری اداروں کی ذمہ داری اور انتظامی انصاف جیسے بنیادی سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔اگر آج کسی دکاندار کی تعمیر کو غیرقانونی قرار دے کر مسمار کیا جا رہا ہے تو یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ یہ تعمیرات راتوں رات وجود میں نہیں آئیں۔ ان میں سے بعض کو قائم ہوئے کئی سال گزر چکے ہوں گے۔ اس دوران متعلقہ سرکاری ادارے کہاں تھے؟ کیا ان کے اہلکاروں نے موقع پر معائنہ نہیں کیا؟ کیا تعمیرات کے خلاف شکایات موصول نہیں ہوئیں؟ کیا کسی افسر نے نقشوں، زمین کی حدود اور تعمیراتی اجازت ناموں کی جانچ نہیں کی؟
اگر کسی سرکاری اہلکار نے اپنے اختیارات استعمال نہیں کیے، مبینہ طور پر مالی فائدہ لے کر خاموشی اختیار کی یا غیرقانونی تعمیرات کی اجازت دینے میں کردار ادا کیا تو اس کی ذمہ داری بھی متعین ہونی چاہیے۔گزشتہ 13 سال کے دوران قائم ہونے والی تعمیرات کے معاملے میں متعلقہ اداروں کے ریکارڈ، اجازت ناموں، نوٹسز، معائنہ رپورٹس اور شکایات کی جانچ ضروری ہے۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کس تعمیر کو کب قائم کیا گیا، اس وقت کون سا ادارہ ذمہ دار تھا اور اس کے افسران نے کیا اقدامات کیے۔تاہم کسی افسر کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینا بھی درست نہیں۔ احتساب کا تقاضا ہے کہ شواہد جمع کیے جائیں، ذمہ داری متعین ہو اور قانونی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائے۔
عوام کے ذہن میں ایک بنیادی سوال ہے کہ اگر کسی تعمیر کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے تو اس کی اجازت دینے، اسے نظرانداز کرنے یا بروقت کارروائی نہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟پشاور میں پی ڈی اے، ٹاؤن ون، ٹاؤن ٹو، ٹاؤن تھری، ٹاؤن فور اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار کا ریکارڈ کی بنیاد پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ جہاں کسی افسر کی غفلت یا بدعنوانی کے شواہد سامنے آئیں، وہاں محکمانہ انکوائری، قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ایف آئی آر، عہدے سے تنزلی یا ملازمت سے برطرفی جیسی کارروائی کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ متعلقہ قانون اور شواہد اس کی اجازت دیں۔
احتساب کا دائرہ کسی سیاسی جماعت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ چاہے متعلقہ دور میں پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ہو، مسلم لیگ (ن) کی یا پاکستان تحریک انصاف کی، اگر کسی دور میں سرکاری زمین پر غیرقانونی تعمیرات کو تحفظ دیا گیا تو اس معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔اصل معیار سیاسی وابستگی نہیں بلکہ ذمہ داری، اختیارات کا استعمال اور دستیاب شواہد ہونے چاہییں۔اگر صرف کمزور دکانداروں کے خلاف کارروائی ہو اور بااختیار افراد یا ذمہ دار افسران کو جواب دہ نہ بنایا جائے تو یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں نہیں ہوتا۔
اس معاملے میں دوسرا اہم پہلو قانونی حدود کا تعین ہے۔ یہ فرض کر لینا درست نہیں کہ سڑک سے فاصلے پر موجود ہر دکان قانونی ہے۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ انتظامیہ جس تعمیر کو تجاوزات قرار دے، وہ لازماً غیرقانونی ہی ہو۔سڑک کی سرکاری حدود، متعلقہ ریونیو ریکارڈ، منظور شدہ نقشہ، زمین کی ملکیت اور مجاز ادارے کے اختیارات کی جانچ ضروری ہے۔کسی دکان کی زمین نجی ملکیت میں ہو سکتی ہے، لیکن اس پر تعمیر منظور شدہ نقشے کے خلاف ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف، کسی تعمیر کا سڑک کے قریب ہونا بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ سرکاری زمین پر قائم ہے۔
سڑک کے لیے مقررہ قانونی حدود، جنہیں انگریزی میں Right of Way کہا جاتا ہے، بعض صورتوں میں موجودہ سڑک کے نظر آنے والے کنارے سے آگے تک پھیلی ہو سکتی ہیں۔ لیکن ان حدود کا تعین متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور مجاز اتھارٹی کی دستاویزات سے ہونا چاہیے، اندازے یا محض ظاہری فاصلے سے نہیں۔اسی لیے انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے کہ کس دکان یا عمارت کا کون سا حصہ مقررہ حدود میں آتا ہے، کارروائی کس قانونی بنیاد پر کی جا رہی ہے اور پوری عمارت گرانا کیوں ضروری سمجھا گیا ہے۔اگر صرف ایک شیڈ یا چھت کا حصہ غیرقانونی ہے تو متعلقہ قانون اور حالات کے مطابق یہ بھی جانچنا چاہیے کہ کارروائی اسی حصے تک محدود رہ سکتی ہے یا نہیں۔
سرکاری زمین کو قبضے سے آزاد کرانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ تاہم یہ اختیار قانون کے مطابق استعمال ہونا چاہیے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے کسی ادارے کو غیرمحدود اختیارات حاصل نہیں ہو جاتے اور نہ ہی اس بنیاد پر ہر مسماری خودبخود قانونی قرار پاتی ہے۔متعلقہ ادارے کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ کارروائی کس قانون کے تحت کی جا رہی ہے، کس افسر کو اختیار حاصل ہے، زمین کی حد بندی کیسے کی گئی اور متاثرہ فریق کو قانون کے تحت کون سا نوٹس، سماعت، نظرثانی یا دیگر قانونی راستہ دستیاب ہے۔
خیبرپختونخوا میں سرکاری املاک سے تجاوزات ہٹانے کے لیے متعلقہ قوانین اور قواعد موجود ہیں، لیکن ہر معاملے میں ایک ہی طریقہ کار لاگو ہونے کا دعویٰ درست نہیں ہوگا۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ زمین کس ادارے کی ہے اور کارروائی کس قانونی اختیار کے تحت کی جا رہی ہے۔متاثرہ دکانداروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی رجسٹری، فرد، نقشہ، منظوری اور دیگر متعلقہ دستاویزات حاصل کریں۔ مسماری کے حکم کی نقل مانگیں اور اگر انہیں حد بندی یا کارروائی میں قانونی خامی نظر آئے تو وکیل کے ذریعے متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔
یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بہت سے خاندانوں کا روزگار دکانوں اور چھوٹے کاروباروں سے وابستہ ہوتا ہے۔ کسی تعمیر کے گرنے سے صرف مالک ہی متاثر نہیں ہوتا، بلکہ کرایہ دار، ملازمین، مزدور، سپلائرز اور ان کاروباروں پر انحصار کرنے والے دیگر افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔اگر کوئی دکان واقعی سرکاری زمین پر غیرقانونی طور پر قائم ہے تو محض روزگار کا حوالہ دے کر اسے مستقل قانونی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ لیکن اس کے برعکس، اگر کسی کی ملکیتی زمین یا منظور شدہ تعمیر کو غلط طور پر تجاوزات قرار دے کر مسمار کیا گیا ہے تو اسے بھی معمول کی کارروائی کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت کو چاہیے کہ کارروائی میں قانونی حیثیت کے تعین، مناسب اطلاع جہاں قانون تقاضا کرے، ریکارڈ کی جانچ اور دستیاب قانونی چارہ جوئی کے مواقع کو یقینی بنائے۔جلد بازی میں کی جانے والی کارروائی اگر غلط حد بندی یا نامکمل ریکارڈ پر مبنی ہو تو اس سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ایسے تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں جن کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہیں۔
اس کارروائی کا ایک ممکنہ سماجی اثر جائیدادوں کے لین دین سے متعلق تنازعات ہیں۔ بعض خریدار یہ شکایت کر سکتے ہیں کہ انہوں نے دکان یا زمین خریدتے وقت اسے قانونی سمجھا، لیکن بعد میں اسے تجاوزات قرار دے دیا گیا۔ دوسری طرف، فروخت کنندگان کا مؤقف مختلف ہو سکتا ہے۔اس طرح کے معاملات میں ہر فریق کی ذمہ داری کا تعین دستاویزات اور شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی معاملے میں فروخت کنندہ نے اہم معلومات چھپائی ہوں، کسی خریدار نے مناسب جانچ نہ کی ہو یا متعلقہ سرکاری ریکارڈ میں ایسی خامیاں موجود ہوں جن کی وجہ سے تنازع پیدا ہوا۔ تاہم ہر معاملے کا فیصلہ اس کے اپنے حقائق کے مطابق ہونا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ جہاں ضروری ہو، متاثرہ افراد کو قانونی رہنمائی اور متعلقہ ریکارڈ تک رسائی فراہم کرے، تاکہ تنازعات کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔
اس وقت متعلقہ حکام کو درج ذیل سوالات کے واضح جواب دینے چاہییں’ گزشتہ 13 سال میں قائم ہونے والی مبینہ غیرقانونی تعمیرات کا ریکارڈ کہاں ہے؟ ان تعمیرات کی منظوری دینے یا ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے ذمہ دار افسران کون تھے؟ کتنی تعمیرات کے خلاف قانونی نوٹس جاری کیے گئے اور کتنے معاملات میں مسماری کے احکامات دیے گئے؟ کیا متاثرہ مالکان کو اپنی ملکیت اور منظور شدہ نقشے کے ثبوت پیش کرنے کا موقع دیا گیا؟ کیا غلط حد بندی یا غیرقانونی کارروائی کی شکایات کے ازالے کے لیے کوئی مؤثر طریقہ کار موجود ہے؟ کیا بدعنوانی یا غفلت کے شواہد سامنے آنے پر متعلقہ افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے؟ ان سوالات کے جواب محض بیانات سے نہیں بلکہ دستاویزی ریکارڈ، انکوائری رپورٹس اور قابلِ تصدیق اعداد و شمار سے دیے جانے چاہییں۔
تجاوزات کے خلاف کارروائی کا مقصد صرف عمارتیں گرانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسا نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے جس میں غیرقانونی تعمیرات کو ابتدا ہی میں روکا جا سکے۔اس کے لیے متعلقہ اداروں کو سرکاری زمین کی واضح حد بندی، تعمیراتی اجازت ناموں کے شفاف نظام، باقاعدہ معائنوں، شکایات کے اندراج اور ذمہ دار افسران کے احتساب کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہر کارروائی کا ریکارڈ مرتب ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں یہی مسئلہ دوبارہ پیدا نہ ہو۔اگر آج تعمیرات گرائی جائیں لیکن کل دوبارہ اسی جگہ غیرقانونی تعمیرات شروع ہو جائیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ مسئلے کی بنیادی وجہ دور نہیں کی گئی۔حکومت کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ اس کارروائی کے بعد متعلقہ زمین کا استعمال کیا ہوگا، سڑکوں کی حدود کیسے برقرار رکھی جائیں گی اور دوبارہ تجاوزات قائم ہونے کی صورت میں کس ادارے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
پشاور اور خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کی قانونی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ ریکارڈ، شواہد اور نافذ قوانین کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ نہ ہر متاثرہ دکاندار کو خودبخود بے قصور قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہر مسماری کو بلا تحقیق درست سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر سرکاری زمین پر قبضہ ہوا ہے تو اسے قانون کے مطابق ختم کیا جائے۔ اگر کسی افسر نے مبینہ طور پر بدعنوانی کی، غیرقانونی تعمیرات کو تحفظ دیا یا اپنے فرائض میں غفلت برتی تو اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہییں۔ اور اگر کسی شہری کی قانونی ملکیت کو غلط طور پر تجاوزات قرار دے کر نقصان پہنچایا گیا ہے تو اسے بھی مؤثر قانونی چارہ جوئی کا حق ملنا چاہیے۔
حکومت کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ کتنی دکانیں گرائی گئیں، بلکہ اس سے بھی کہ کتنے غیرقانونی قبضے شواہد کے ساتھ ثابت ہوئے، کتنے ذمہ دار اہلکاروں کا احتساب ہوا اور آئندہ ایسی تعمیرات کو روکنے کے لیے کیا نظام قائم کیا گیا۔قانون کی عمل داری اسی وقت قابلِ قبول ہوتی ہے جب قانون کا اطلاق دکاندار سے لے کر سرکاری افسر تک، اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر، یکساں اصولوں کے مطابق کیا جائے۔
|