پختونوں کے بارے میں الطاف حسین کا مدلل نظریہ

(Qadir Khan, )
متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف بڑی شد ومد سے پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ الطاف حسین پختون قو م کے شدید مخالف اور کراچی سے پختونوں کی بیدخلی چاہتے ہیں۔عام لوگ جو حقیقت سے نا آشنا تھے وہ اس پروپیگنڈے کا بری طرح شکار ہوجاتے اور حقیقت کو تلاش کرنے کے بجائے فرسودہ مفروضات پر اپنے شکوک کی عمارت کو تعمیر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوجاتے تھے ۔ راقم الحروف ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی حالات زندگی کا مطالعہ کر رہا تھا، کتاب "سفرزندگی، ایم کیو ایم کی کہانی الطاف حسین کی زبانی "میں اپنی سیاسی اور تحریکی جدوجہد کا سہل انداز میں تذکرہ کرتے ہوئے الطاف حسین کہتے ہیں کہ "ہماری تحریک کےخلاف استحصالی طبقہ نے اور ان مخصوص سیاسی و مذہبی جماعتوں نے جن کی ساکھ ایم کیو ایم کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے یہ پروپیگنڈا کیا ہے کہ ہم سندھ میں رہنے والے پنجابیوں اورپختونوں کے خلاف ہیں ۔ہماری قرارداد مقاصد میں یہ بات موجود ہے کہ جو شخص سندھ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے(خواہ وہ پنجابی ہو ، خواہ پختون ہو) جو کماتا ہو یہیں خرچ کرتا ہو اس کو بھی ہم مقامی کی تعریف میں شامل کرتے ہیں اور اس کا بھی سندھ پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی سندھی یا مہاجر کا ہے۔

الطاف حسین مزید کہتے ہیں کہ "یہ بات نہیں ہے کہ ہم صرف سندھیوں اور مہاجروں کی بات کر رہے ہیں بلکہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ سندھ میں رہنے والے پنجابی اور پختون جو اپنے خاندان کے ساتھ یہیں رہتے ہیں یہی کماتے ہیں یہیں کھاتے ہیں، جن کا اس دھرتی سے مستقبل وابستہ ہے ، جنہوں نے اپنا مستقبل اسی سر زمین سے وابستہ کیا ہوا ہے ۔ ان کا اس پر وہی حق ہے جو سندھیوں اور مہاجروں کا ہے۔اس ضمن میں اپنے ان پنجابی، پختون بھائیوں سے جنھوں نے سندھ کی سر زمین کو اپنا بنا لیا ہے ، ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ اب چونکہ آپ سندھ میں رہتے ہیں اس لئے اپنا رشتہ سندھ سے جوڑیں اور سندھ کا جو استحصال کیا جارہا ہے ۔ سندھ کے ساتھ جو ناانصافیاں کیں جا رہیں ہیں ان پر آپ سندھ کے نمائندہ کی حیثیت سے آواز بلند کریں، نہ کہ آپ اپنا رشتہ پنجاب یا سرحدسے جوڑیں اور وہاں کے مفادات کو سندھ کے مفادات پر ترجیح دیں۔بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم سرحدمیں جاکر یہ بات بتائیں گے ، ہم پنجاب جاکر وہ بات بتائیں گے۔ آخر کیوں ؟ آپ سندھ میں ہیں ، تو آپ کو کیا ضرورت ہے کہ پنجاب یا سرحدجا کر اپنا مسئلہ پیش کریں۔ اگر آپ کو یہاں کوئی شکایت درپیش ہے تو آپ یہاں کے مقامی لوگوں سے ہی مل کر بات کریں کیونکہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ کو سندھ میں رہنا ہے اور آپ نے سندھ ہی سے اپنا رشتہ استوار کر لیا ہے تو پھر سندھ کے معاملات میں دوسروں کی مداخلت کو دعوت دینا سندھ کی حیثیت کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔الطاف حسین نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ساتھ ہی ساتھ میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ ہم مہاجروں اور سندھیوں کے لئے جن حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں انہی حقوق کا مطالبہ سندھ میں آباد ایسے پنجابی اور پختونوں بھائیوں کےلئے بھی کر رہے ہیں جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے۔جب سندھیوں اور مہاجروں کوتمام حقوق ملیں گے تو ان لوگوں کے لئے بھی کریں گے۔

یہی وہ اصل وجوہات ہیں جیسے نام نہاد قوم پرست اٹھانوے فیصد محروم طبقوں سے پوشیدہ رکھ کر نفرتوں کی فصیل کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔میں جب ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر اینس احمد قائم خانی کی سرگذشت "میرا قائد"کتاب کے ایک ایک ورق کو الٹتا تو میرے چہرے کا رنگ بدل جاتااور جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے کہ استحصالی قوتوں کے ظلم و ستم کو برداشت کے تصور کرنا ہی بڑے حوصلے کاکام ہے، سیف ہاﺅس ، اڈیالہ جیل اور سی آئی اے سینٹر میں انسانیت سوز تشدد،جسم کے نازک حصوں کو جلانااور بغیر مقدمات چلائے سرکاری ٹارچر سیلوں میں سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے خلاف غداری کے لئے مجبور کرنے کے واقعات کو پڑھتے ہوئے دل مسوس سا ہوجاتا ہے کہ آفرین ہے ایسے نظریاتی کارکنان پر جنھیں ان کے مقصد سے ہر طرح کا ظلم ، لالچ نہیں ہٹا سکی۔جب ''میراقائد"کو پڑھ رہا تھا تو ایسا الگ رہا تھا کہ جیسے کسی زمانہ جاہلیت کی روایات کا ذکر یا کسی دیو مالائی داستان کا ذکر ہو رہا ہے۔پوری کتاب میں ظلم و ستم کے تذکرے میں عزم اور حوصلے اور اس روحانی قوت کو محسوس کیا نظریاتی طور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے شب و روز فکری نشستوں سے اپنے رفقاءکو مضبوط کیا تھا۔ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن سلیم شہزاد کی تصنیف کردہ کتاب "لندن میں الطاف حسین کے شب وروز"کو پڑھنے کے بعد بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جس تحریک کا قائد اس قدر متحرک،ملنسار اور سادہ نشین ہو اور اس کے رفقا ءاس قدر نامساعد حالات کے باوجود اس قدر ثابت قدم ہیں تو یہ اس تربیت کا ہی نتیجہ ہے جس کی وجہ سے کروڑوں انسان اپنے قائد سے والہانہ وار عقیدت رکھتے ہیں۔جس نے الطاف حسین کو دیکھنا ہو تو وہ "لندن میں الطاف حسین کے شب وروز" اور جنھیں ان کے تربیت یافتہ ساتھیوں کی عمل زندگی کو سمجھنا ہو نائن زیرو میں سادگی کی اس تصویر کو دیکھ لیں جس کے لبوں پر ہر وقت مسکان رہتی ہے لیکن تحریکی زندگی کی رونگٹے کھڑی کردینے والی روائیداد "میراقائد"کی تحریری صورت میں موجود ہے۔

ان حوالے جات کا بنیادی مقصد سندھ میں رہنے والے تمام قومیتوں بالخصوص پنجابی او پختونوں کو یہ باور کرانا ہے کہ ایم کیو ایم کسی مخصوص قوم کے خلاف وجود میں نہیں آئی تھی کہ مفادپر ست عناصر کیجانب سے پروپیگنڈوں کا شکار ہو کر ہم قومیتوں کے درمیان نفرتوں کو بڑھاتے رہیں اور دو فیصد حکمران طبقہ جو صرف جاگیرداروں، وڈیروں ، سرداروں، صنعتکاروں اور خوانین پر مشتمل ہے اور ملک کی اٹھانوے فیصد محروم عوام کو اپنا غلام بنانے میں مصروف ہیں۔کیا ہم نہیں جانتے کہ ہم جنھیں اپنے ووٹوں سے منتخب کرتے ہیں تو ان سے اپنے مسائل کے حل کےلئے بھکاریوں کے طرح ان کے شاہی محلات کے باہر گھنٹوں گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں اور صرف چند سیکنڈ کی ملاقات کے لئے سفارشیں ، رشوتیں اور منت سماجت کرتے رہتے ہیں۔ ایک چھوٹی سے ملاقات کےلئے پولیس اور سیکورٹی گارڈز کے ڈنڈے اور ان نام نہاد لیڈروں کے چمچوں کی گالیاں سنتے ہیں کیا آپ کے قیمتی ووٹ سے منتخب ہونے والے کا سلوک غریب ووٹر کے ساتھ ایسی سلوک کا متقاضی ہے۔

جبکہ ہم کسی ایسے شخص کی بات کا اعتبار کیونکر کرسکتے ہیں جو سر پر رکھتا تو قرآن ہو لیکن اپنے فقے اور مذہب کو بدبو دار کہتا ہو۔منافقت اور جھوٹ کی تمام تر عمارتیں سچائی کے سامنے ہیچ ہیں اور کوئی ایسا نظریہ جو کسی قوم کو دیوار سے لگانا چاہتا ہو کبھی دیرپا اور مستقل کامیاب نہیں ہوسکتا۔

سندھ میں رہنے والے پختونوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ان کے کندھے پر بندوق رکھ ذاتی مفادات وہ حاصل کر رہے ہیں جن کا کراچی، حیدرآباد اور سندھ سمیت پورے پاکستان میں ذاتی سرمایہ موجود نہیں ہے۔ان کے کاروبار، سعودیہ ، امارات ،دبئی ، ملائیشا ، لندن امریکہ اور دیگر ممالک میں ہیں، جن کے بچے اور اہل خانہ بیرون ملک محفوظ اور پر آسائش زندگی گزار رہے ہیں۔ جو دنیا کے سامنے اپنا پاکستانی پاسپورٹ تو رکھتے ہیں کہ فلاں سال کے بعد کبھی ملائیشا یا امریکہ نہیں گیا لیکن عوام سے اس پاسپورٹ کو مخفی رکھتے ہیں کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت کا پاسپورٹ بھی ہے جس میں ان کے آنے جانے کی تمام تفاصیل موجود ہیں۔پختون عوام کو ٹھنڈے دل سے یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ جب ان کی کئی نسلیں سندھ میں آباد ہیں تو ان کے مفاد بھی ایسی زمیں سے وابستہ ہیں۔کراچی میں روزگار کے لئے آنے والوں کی حیثیت صرف رزق کے متلاشی اور مہمان کی ہے جو اس زمیں پر حق ملکیت کا دعویدار نہیں بن سکتا ۔جب وہ اس زمین پر حق ملکیت کا حق ہی نہیں رکھتا تو پھر اسٹیپلشمنٹ کی جانب سے تنخواہ دار ایسے نام نہاد قوم پرستوں کے آلہ کار کیوں بنتے ہیں جنھیں کسی قوم سے تو کیا اپنی ہم زبان ونسل سے بھی کوئی واسطہ نہیں بلکہ بے گناہ انسانوں کو جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں انسانیت سوز ظلم کا شکار بنا کر اپنے مفادات کو تحفظ دیتے ہیں۔پختون، پنجابی سمیت تمام قومیتوں کو یہ فیصلہ کرنا ناگزیر ہے کہ ہمیں ان دو فیصداستحصالی گروہ سے نجات حاصل کرنی ہے۔

ہمیں ایم کیو ایم کی تمام جدوجہد کو حقیقت پسندی سے دیکھنے کی ضرورت ہے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لاکھوں انسان جس کے گرویدہ ہوں اور اس کے ایک اشارے پر جان نچھاور کرنے کےلئے تیار رہتے ہوں ، جن کے فکری نظریاتی ساتھیوں کو سالوں سال کی استعماری اور ریاستی طاقت دبانے میں ناکام رہی ہو جس کا صبر و تحمل مثالی ہو اور جو خود ایک عام انسان اور کارکن سے بڑھ کر شب وروز غریب عوام کے حقوق کےلئے مصروف ہو ، جس کے نزدیک دن اور رات کا تصور ختم ہوچکا ہو ایسے کیا ضرورت ہے کہ وہ ایک ایسی قوم کے خلاف سرگرم ہو جنھیں صرف اپنے روزگار اور اولاد کے مستقبل کی فکر ہو۔ایم کیو ایم کے کارکنان کو ہزاروں کی تعداد میں ہلاک، زخمی اور لاپتہ کرنے والے سب جانتے ہیں کہ پختون نہیں ہیں تو پھر پختونوں کو اپنے مقاصد کےلئے کیوں یہ نام نہاد لیڈرستعمال کر رہے ہیں ،ضرورت اس بات کی ہے ہم ان لوگوں کا محاسبہ کریں اور ایم کیو ایم کی قوت کو مزید مضبوط کریں کیونکہ ملک کی یہی واحد جماعت ہے جو غریب اور مظلوم اٹھانوے فیصد طبقے کی نمائندگی کرتی ہے جہاں امیر ، غریب کی تفریق نہیں ہے بلکہ اس کی قدر ومنزلت زیادہ ہے جو انسانیت اور بلا امتیاز خدمت پر یقین رکھتا ہو۔ایم کیو ایم پختون ، پنجابی یا کسی بھی قوم کی مخالف کیونکر ہوسکتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ان کی قوت ہی مظلوم عوام ہے ۔ ہمیں اس بات کو سوچنا ہوگااور اپنی صفوں میں ایسے لوگوں کو تلاش کرنا ہوگا جو اپنی قوم کا درد اپنے دل میں رکھتے ہوں۔کراچی و حیدرآباد میں اگر ہم خود کو مقامی سمجھتے ہیں تو پھر اپنا سرمایہ اپنے وسائل سب کچھ ایسی دھرتی پر ہی خرچ کرنا ہونگے۔ اگر ہماری سوچ یہ رہی کہ ہمیں واپس اپنے آبائی علاقوں میں جانا ہے تو پھر ہمیں ان قوم پرستوں کا آلہ کار بننے سے گریز کرنا چاہیے جن کا مفاد کراچی تو کیا پاکستان کے ساتھ نہیں ہے۔ ہم اس دھرتی کے باسی ہیں ۔ ہم یہاں کے مقامی ہیں ۔ زبانیں سمجھ اور اظہار کےلئے ہوتی ہیں لاکھوں کی تعداد میں ایسے پختون بھی ہیں جو اپنے ماحول کی وجہ سے پشتو نہیں بول پاتے تو کیا وہ پختوں نہیں کہلائے جائیں گے اس لئے اگر ہمیں سندھی نہیں آتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سندھ کے رہنے والے سندھی نہیں۔سندھ کے مقامی سندھی تھے اور سندھی ہی رہیں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 379 Articles with 151224 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 May, 2012 Views: 1261

Comments

آپ کی رائے
Pakistan may Agar kahin THORA buhut Election Free & Fair hota hay tu wo karachi he hay or Karachi walay MQM ko he vote detay hen. 1992 k operation k waqt MQM k karkunaan or Leaders ka koi Naam o Nishan tak nahi tha na koi Election Campaign chali thi or na he MQM k UMEEDWARON ko koi janta tha. Her taraF Army Mojod thi lakin dunya ne dekha k in halaat may bhi karachi walon ne Zulm o Barbariat sehtay hoey bhi MQM ko vote daala or Record vote daala. Ye hoti hay Awam k dilon pr raaj karnay wali parties or yehi cheez in 98% Feudals (Jageerdaron or Sarmayadaron) ko pareshan karti hay or wo her tarah se koshish kartay hen k kisi na kisi tarah is party ko khatam kia jaey.
By: Mansor Paleejo, Larkana. on Jun, 11 2012
Reply Reply
0 Like
Dear adil aPP KEY SAWAL KA JAWAB TO BUHAT SADA HAEY KAY APP PEHLEY YE CONCEPT CLEAR KARAY KAY KARACHI MAIN FREE AND FAIR ELECTION HOTEY BI HAIN? JUB TAQ YE NAIN HOTA YE KEHNA KA KIS KO HOQUMAT DE JAY OR NA DI JAY SUB BEKAR SWAL HAIN,KOYE SWAL BEGHAIR AMAN AND FREE AND FAIRNESS KEY QABAL ATTNA NAHI REHTA.
By: ghulam ahmed daud, Islamabad on May, 22 2012
Reply Reply
0 Like
may nay saff likha hay MQM ko nikal kur app augar karachi ki seats ko bantoo too kia hoga, is batt per bhee razi nahee too phir app loog or koi hull bataoo. vaisay marray sawal ka jawab kissi kay pass is wastay nahee hay kay koi bhee apni haysiat kay hesab say seats laynay per tayyar na hooga sub ki khoish ho gi kay sirf may karachi ka muntazim banoon orr oss kay badd jo halat hongay soochoo. haqiqat yay hay kay tamam seyasi parties jis ka koi nazim, counseler bhee nahee atta voo karachi ko hasil kurna chahata hay orr bugal may choori moon per ram ram kur kay ilzam sirf aik hee per, kissi ko kuch nazar nahee atta. marra sawal ka jawab karachi kay halat theek kurnay may madadgar sabit hoga is kar-e-khair may hessa lain.
By: adil, karachi on May, 18 2012
Reply Reply
0 Like
what is the out put of the winning of such brutality.Every day humans are be killed as bad as dogs killing.No one gentle person who was not looted by these snatchers.what credit to be given these politicians who won the election with heavy vote .This is the result .......at least five human being are killed in target killing.If killers are not to be arrested by such heavy winners who have big and great support in Karachi then We should import some Indians for establishing the Peace in Karachi.
By: ghulam ahmed daud, Islamabad on May, 18 2012
Reply Reply
0 Like
Adil sahib mulzim hi mujramm banta hay.is ka kum faslah rah jata hay,Ye behss hay or bahss se waqt zaee hitta hay.AAmm tauussr yehi hay ka MQM waley QATIL Bhatta Khoor ETC waghera hain.Joot Bolney main in ka koee humaser nahee,Battoo our Bahss sey ye tausser door nahi hotta,do ammelli MQM ki wasay hay.Apni safaee kay lia kuch karney ki zarroorat hay,Hum nay court nahi laga rakhi ka app kaheen ka ye to ilzam hay,Jootey hooney kay lia yahi kafi hoota hay kay app meri likhi huee kisi batt ko dallil banatey hain.Main kia kehta hoon is sey app ko kuch frq nahi parrna chaheay.Furq is batt sey parta hay ka app kia kartey hain.I do not like to take part in politics ,I do not like this politics which is totally based on false and deceive and never tell the truth.
By: ghulam ahmed daud, Islamabad on May, 17 2012
Reply Reply
0 Like
augar karachi may bagair elelction fee sabeel llaha seats taqseem honay lagain too app loog batou kay kiss party ko seats dee jaye. mqm kay alava, aik sawal hay.
By: adil, karachi on May, 16 2012
Reply Reply
0 Like
baqool app kay ILZAM HAY, qanoon ki nazar may ILZAM OR MUJRIM may furq hota hay Ilzam sabit honay per mulzim hota hay or saza hoti hay khali ilzam too seyasi julkukray latay hee rahaingay jub tuk MQM karachi say tamam seats lati rahay gi. Karachi may jitni bhee jamatain hain voo too rat din karachi waloo ki khair khoiee kay kam kur rahee hain mugar onkoo acha bhee koi nahee kahta, yay ajeeb bat hay election hota hay har jatay hain har bhee aisi kay galay may har phenanay koo dil kurta hay mugar koi dhonday say nahee milta baychara harr soo jata hay intezar kurtay kurtay.
By: adil, karachi on May, 16 2012
Reply Reply
0 Like
Altaf sahib ki kisi bat ka atbar kerney ko dil nahi manta.kuen ka MQM ki her batt pani ki treh hay jo her haqumat kay bartan maien fit ho jati hay.Koei akhlaqi qadr in kay hain nahi hoti,Jagir daroon ko support kartey hain sath hi jagir dari kay khlaf slogan bi detey hain ,ye achey politician hain,Politician say murad haey jo jootoo ka sardar ho.MQM sey khuda janey Butta lainey ka alzam kab khatum ho ga,
By: ahmed_daud, isl on May, 14 2012
Reply Reply
0 Like
Pakistani Mashara Ko Altaf Hussain Jasa Hi Leder Sahi Kar Sakta Hay, Jo Carption Sa Pak Hay Aur Zalim Aur Jabir Wadaru Ki Ankho Ma Ankha Dal Kar Baat Kar Sakta Hay, Jis Ka Apni Tanzeem Par Control Ho Wo Mulk Ko Bhi Control Kar Sakta Hay Aur Jamatu Ka Jalsa Dhak La Koi Kursi Utha Kar Bhag Raha Hay Koi Apas Ma Lar Raha Hay,Aek Baar Phir Aap Ko Mubarak Bad Es Shandar Aricle Par...
By: Bilal Zaidi, Karachi on May, 09 2012
Reply Reply
0 Like
MQM is a political party of Pakistan consists of educated people from 98% poor and middle class population who wants the rule of common people in Pakistan. So join MQM to resolve the basic problems of common people and make Pakistan a country on which we can proud of.
By: Saad, Islamabad on May, 09 2012
Reply Reply
0 Like
Qadir Khan samaj ki baat hay, agar pakistani awam tasub ki nazar sa dhaka ga tu aqal par parda para raha ga. aur pakistan ka yahi haal raha ga.
By: Fayyaz, Karachi on May, 08 2012
Reply Reply
0 Like
Aek riksha driver arab patti ban gaya / Senetor Ban gaya ya tu es mulk ka hall hay lasani bunyadu par siyasat kar ka apni dukan chamkana ya ha es mulk ki siyasat, gareeb ko marwana pakistani qoom ko taqseem karna magar MQM qomi satha par siyasat karna cha rahi hay tu es ko wapis lasani taraf dhakala ja raha hay. Kun?
By: Raza, Karachi on May, 07 2012
Reply Reply
0 Like
Qadir khan sahab es ma koi shak nahi mqm ka elawa koi jammat awam ka masahil hal nahi kar sakti. es ka mna mpa awam ka darmayan rahata ha multan ka jalsa ma ma na mqm ko observe kia tha es ka mna mpa khud apna hatu sa kam kar raha tha, aur laghi nahi raha tha ya mna, mpa hay. aur digar jamatu ka mna mpa Allah maaf kara (sub nahi) firon aur prodi hota hay. achi chang hay mqm punjab ma ah rahi hay.
By: Rana Iqbal, Multan on May, 07 2012
Reply Reply
0 Like
Sarfraz MQM AUr ALtaf Hussain Hi Hy, Jo Es Carpt Nizam Ka Khilaf Lar raha Hay Es Ka Nazarya Ko Samajna Ki Koshis Karo Es Article Ko Zara Tasub Sa Hat Kar Gor Sa Paro Mujha Yaqeen Ha Aap Ka Zahan Par Jo Manfi Baata Hay Kuch Chat Jaya Gi.
By: Bilal Zaidi, Karachi on May, 07 2012
Reply Reply
0 Like
loogoo ka galat istemal lyari kay logoo ki zabani tv per daikh loo joo khud kah rahay hain kay hamaray MPA/MNA vote lanay attay hain oos kay bad shakal nahee dekatay or defence may rathay hain. MQM jis din say bani hay ajj tuk os ka head quarter 120 yard kay makan may hay is kay MNA/MPA tamam arkan aik he muqam 90 per jama hotay hain or koi apnay ghar airconditions may nahee ratha, road per baith kur dari pur tamam loog awam kay samnay or sath baithtay hain koi kissi gareeb/ameer say nafrat nahee kurta. MQM kay voters ko kissi kay masvaray ki zaroorat nahee, MQM suchay pakistanioon ki jamat hay jinkay bap dada nay qurbani dee thee pakistan banany kay wastay. MQM ka voters kissi kay bakhavay may annay wala nahee na zoor say na jabar say na taqat say na dhumki say. MQM ko qomi dharay may shamil honay say kon rokhta hay sub ko maloom hay. seyasi parties MQM say seyasi madam may muqabla kurnay say baghti hain durti hai lehazi MQM per bohtan laga kur oos ko badnam kurti hain kiss ka kissi ko koi faida nahee, mqm ko loogoo nay banay or loog mqm ka istemal jantay hain karachi pharay likhoo ka shar hay, MQM kay mansoor may roti kapra makan, nokri,bigli pani nahee NA hee mqm kay suporter/voters in cheezoo kay wastay vote daitay hain, mqm ko vote quoon miltay hain kissi ki samaj may nahee ayega or na he koi samjay ga, janab bhutto sahab,baynazeer,zardari, nawaz sharif kitnay baray baray leaders karachi may election may nakam he hotay hain is ki kia vajaha hay, gour karain.
By: adil, karachi on May, 06 2012
Reply Reply
0 Like