لیکن وہ نہیں تھی

(Faraz Tanvir, Lahore)
آج اس کا میٹرک کا نتیجہ آنا تھا وہ بہت پَر اَمید تھی بلکہ اَسے اپنی محنت پہ کامل یقین تھا اَس نے بات دعوے کے ساتھ کہی تھی کہ وہ کم سے کم میٹرک کے امتحانات میں ٩٢١ نمبر تو ضرور حاصل کر لے گی دن رات کی محنت کا ثمر ار دعاؤں کا پھل ملے گا ضرور اَسے صوم و صلوٰتہ کی پابند کم گو باادب اپنے کام سے کام رکھنے والی دَبلی پتلی معصوم سی لڑکی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی میڈیکل میں جانا چاہتی تھی اور اپنے اس مقصد کو پانے کے لئے ہر قسم دیگر مشاغل سے بےنیاز بس ہر وقت پڑھنے لکھنے میں مگن رہتی تھی کبھی کسی کے ساتھ اونچی آواز سے بات نہ کرتی تھی بےضرر خاموش خاموش سی رہنے والی ہمیشہ کے لئے چپ چاپ خاموش ہو گئی اپنی محنت کا ثمر دیکھے جانے بغیر ہی میٹرک کے امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد بھی اس نے آرام نہیں کیا کوئی تفریح نہ کی کسی رشتے دار کے گھر رہنے نہ گئی بلکہ اکیڈمی میں داخلہ لے لیا تاکہ اس کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو اور وہ اپنا مقصد پانے کے لئے زیادہ سے زیادہ تیاری کر سکے-

سَنا ہے کہ شب برات پہ پوری رات جاگ کر خدا کے حضور دعا کرتی گڑگڑاتی رہی تھی شب بھر عبادت کرتی رہی اور صبح روزہ بھی رکھا لیکن پتہ نہیں کہ اس رات اَسے کیا کشف ہوا اس نے کیا محسوس کیا اسے کیا الہام ہوا کے صبح سارا دن وہ بچی روتی رہی گھر والوں کے استفسار پہ کچھ نہ بتایا ٹالتی رہی آخر جب ماں نے پوچھا تو بات ٹالنے کے لئے بس اتنا کہا
کچھ نہیں بس ایسے ہی بہن سے کسی بات پہ ناراضگی ہو گئی اس لئے رو رہی ہوں-

یہ دن بھی گزر گئے اور ماہ رمضان کا آغاز ہو گیا تیسرے روزے کو معمول کے مطابق روزہ رکھ کے اکیڈمی چلی گئی کچھ دیر بعد گھر فون کر کے کہنے لگی امی جی کسی کو بھیج کے مجھے گھر واپس بلوا لیں بہت درد ہو رہی ہے -

معمولی درد سمجھ کے علاقے کے ڈاکٹر کے کلینک پر لے گئے اس نے چیک کیا اور کہا بچی کو ڈبل نمونیا ہے اس کا مکمل چیک اپ کروائیں ہسپتال جا پہنچے تو رپورٹس دیکھ کر معلوم ہوا کہ بچی کے افعال تو بالکل جواب دے چکے-

گردے فیل ہو چکے ہیں شوگر ٦٥٠ پھر ارفع کریم کی طرح ہارٹ اٹیک ، کومہ اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

ستارہ ڈوب گیا پھول مَرجھا گیا اپنے خواب اپنا یقین اپنی امید اپنی زندگی سب ہار بیٹھی قسمت کے آگے قضا کے آگے اپنے مالک اپنے رب اپنے اللہ کی رضا کے آگے

اس کلی کو اس دنیا میں نہیں کھلنا تھا بلکہ باغ جنت کا پھول بن کے کھلنا تھا اس پھول کو جنت کے باغ کی زینت بننا تھا کے جنت کے دروازے اس کے استبال کے لئے رب تعالٰی نے وا کر رکھے تھے

اس عارضی دنیا کے آسمان کا یہ ستارہ ڈوب گیا ابدی جہان کے فلک پر اَبھرنے کے لئے

اللہ بہتر جانتا ہے کس کے لئے کیا مقام اس نے تخلیق کر رکھا ہے ہم انسان نہیں جانتے وہ سب جو جانتا ہے ہمارا رب-

وہ اپنے گھر والوں اپنے ہم جاعتوں اپنے اساتذہ سب کو اپنے رزلٹ کے آنے سے پہلے چھوڑ گئی آناً فاناً زندگی سے ناطہ توڑ گئی اور جب ٢ دن بعد میٹرک کے نتائج سامنے آئے تو اس کی مارک شیٹ پہ ٩٢٥ نمبر سے یہ میدان مارنے والی طالبہ زندگی سے ہار گئی تو دیکھنے سننے والے ہر ایک کی آنکھ اشکبار تھی اور ماں کی حالت تو پوچھیں ہی نہ وہ تو یوں گم صم کے جیسے کوئی ماں کی گود سے چھین کر لے گیا اس کے آنگن کا سب سے خوبصورت پھول-

وہ میرے محلے کی بچی تھی جو تقریباً چار برس قبل اپنے گھر والوں کے گوجرانوالہ کے کسی گاؤں سے آ کر یہاں رہائش پذیر تھے غالباً اپنے بچوں کی اعلٰی تعلیم کے حصول کے لئے ۔۔۔۔

اب وہ بچی اپنے آبائی گاؤں میں ابدی نیند سو رہی ہے اور اسے چاہنے والوں کی آنکھیں آج بھی اس کی یاد میں رو رہی ہیں-

اللہ تعالی اس کے والدین بہنوں بھائیوں دوستوں رشتہ داروں اسانذہ ہم جماعتوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے بچی کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام مرحمت فرمائے اور یقیناً رب تعالٰی نے اس معصوم کو باغ جنت کی زینت بنا کے بہت پیار سے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب سے اس ماہ مقدس میں جا ملی ہے اپنے پیاروں کو اشکبار چھوڑ کے کہ جس ماہ کی رحمتوں برکتوں اور فضیلتوں کا اندازہ لگانا بھی ہماری فہم سے کہیں آ گے ہے-

اللہ تعالی بچی کے گھر والوں بالخصوص والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین-
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1487 Print Article Print
About the Author: uzma ahmad

Read More Articles by uzma ahmad: 265 Articles with 240977 views »
Pakistani Muslim
.. View More

Reviews & Comments

ایک دنیا نے دیکھا لیکن اپنے خوابوں کی تعبیر کی جھلک اپنی محنت کا ثمر دیکھنے کے لئے “وہ نہیں تھی“
By: uzma, Lahore on Aug, 06 2012
Reply Reply
0 Like
ameen.
By: zai., karachi. on Aug, 03 2012
Reply Reply
0 Like
Language: