پاکستان کو آپ نے اپنے ووٹ سے محفوظ بنایا؟

(Qadir Khan, Sawat)
ذرائع و ابلاغ کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی طالبان کو ہدایت ہے کہ 2014ءسے قبل وہ اپنے معاملات نپٹالے ، اور دوسری جانب 2014ءمیں امریکی انخلا ءکے بعد افغان حکومت اور پاکستان حکومت کے درمیان معائدے کے بعد توقع ہے کہ پاکستان اندرونی خطرات کے حوالے سے سخت گیر رویہ اختیار کرے جس کی وجہ سے پاکستانی طالبان کو افغان طالبان کی حماےت نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشانی واقع ہوجائے گی اور ان کے خلاف آپریشن ناگزیر ہوجائے گا اس لئے پاکستانی طالبان بھی چاہتے ہیں کہ انھیں بھی کوئی محفوظ راستہ مل جائے۔ اب ان کے نزدیک کون سا محفوظ راستہ ہے یہ بھی کسی کے سامنے مخفی نہیں رہا ہے ۔ گیارہ مئی انتخاب کا دن ہے دیکھنا یہی ہے کہ کون کیسے ، اور کس طرح محفوظ راستہ لیتا یا دےتا ہے ۔ پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار ہے ۔ کبھی ایسے القاعدہ ، تو کبھی طالبان ، حقانی گروپ ، تو کبھی بلیک واٹر ، را ، تو کبھی سی آئی اے کے ملوث ہونے کے امکانات کا مختلف حلقوں کیجانب سے اظہار کیا جاتا رہا ہے۔پاکستان میں ہونے والی تقریبا ہر دہشت گردی کی ذمے داری تحریک طالبان (پاکستان) قبول کرتی رہی ہے تو دوسری جانب افغانستان کی تحریک طالبان ا س کی تردید کرتی نظر آتی ہے کہ بے گناہ انسانوں کے قتل اور خود کش حملوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔جبکہ القاعدہ امریکی مفادات کے خلاف بڑی سطحوں پر کاروائیوں پر یقین رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ مغربی میڈیا کی جانب سے کوئٹہ اور کراچی کوکالعدم تنظیموں کے شدت پسندوں کی محفوظ ترین پناہ اور آرام گاہ کے طور پر مسلمہ تصور کرکے کوئٹہ میں طالبان کی مجلس شوری اور کراچی کو فنڈز رئزنگ کے حوالے سے تقسیم کیا گیا ہے ۔ کوئٹہ میں طالبان شوری کے موجودگی کی تردید حکومت کی جانب سے متعدد بار کی جا چکی ہے اور ویسے بھی وہاں سب سے اہم مسئلہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ لاپتہ کی بازیابی اور بلوچستان کے چند قبائل کا سیکورٹی اداروں کے حد سے تجاوز کرنے پر شدید تحفظات کا ہے جنھیں بتدریج سپریم کورٹ کی ذاتی دلچسپی سے منطقی انجام تک پہنچا یا جارہا ہے اور بلوچ قوم پرست رہنماﺅں کا اعتماد تاحال عدلیہ سے متزلزل نہیں ہوا اور ہم دعا گو بھی ہیں کہ بلوچستان کی عوام جلد قومی دھارے میں شامل ہوجائے ۔لیکن کراچی کے حوالے سے انٹر نیشنل میڈیاکے متوجہ ہونےکی بنیادی وجوہات میں ایک کالعدم تنظیموں کے کئی اہم رہنماﺅں کی گرفتاریاں اور دوسری وجہ حساس اداروں کیجانب سے کراچی کے 28 حساس علاقوں کی نشان دہی، جہاں پولیس داخل نہیں ہوسکتی تو تیسر ی وجہ کراچی کے مخصوص علاقوں میں وزیرستان ، سوات سے تعلق رکھنے والے اہم شخصیات کی اپنے گھروں کے سامنے ، محلوں میںٹارگٹ کلنگ ہے ۔حال ہی میں اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ میں قائم انسداد ِ بھتہ خوری سیل کے سربراہ واصف قریشی نے تاجر برادری کیجانب سے 220شکایات موصول ہونے پر 50کیسزکو حل کرنے ، 100سے زائد بھتہ خوروں کو گرفتار کرکے پرچیاں ، رقم ، موبائل فونز اور دیگر سامان بر آمد کئے جانے کا دعوی کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کراچی کے کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں پولیس فوری کاروائی نہیں کر سکتی اور حکمت عملی مرتب کرنے کےلئے اعلی حکام کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ" بھتہ خوروں کا نیٹ ورک اس قدر منظم ہے کہ تاجروں کو دبئی ، ملائیشا اور وزیرستان سے فون کئے جاتے ہیں"۔ جبکہ پولیس ذرائع کے مطابق2010سے 2011تک 40سے زیادہ ایسے افراد کو گرفتار کیاگیا جو کالعدم تنظیموں کےلئے بنک ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کرچکے ہیں ۔ کالعدم تنظیموں کو اپنے مقاصد کےلئے وسائل کی کمی کو دور کرنے کے د و طریقے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے پریشانی کا باعث بنے ہوئے جس میں ایک منظم منصوبہ بندی کےساتھ بنک ڈکیتی اور پرچی یا فون کے ذریعے بھتہ طلب کرنا ۔ جس سے صرف تاجر ہی نہیں بلکہ وزیرستان اور سوات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات متاثر ہو رہی ہیں ۔ جیلوں میں قیدیوں کیجانب سے جرائم کی وارداتوں میں نیٹ ورک کے لئے موبائل فون سے رابطوں کا استعمال اب کوئی نہیں بات نہیں ہے ۔جیلوں میں فون جیمر لگانے کی کئی کوششوں کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔وزرات داخلہ کیجانب سے موبائل فون اہم مواقعوں پر بند کرنے کی روش اختیار تو کر لی گئی ہے اگر نیٹ ورک کو سرچ کرنے پر توجہ دی جاتی تو زیادہ بہتر تھا۔ تاہم مبینہ اشتہار میں گروہ کے عزائم سے عوام کو آگاہ کرنا پاکستان کی عوام کےلئے کوئی نئی بات نہیں ہے ۔کیونکہ کئی سالوںسے ایم کیوایم شدت کےساتھ ایسے عناصر کی متواتر نشان دہی کے باوجود حکومت اور مختلف جماعتوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا لیکن جب انہی جماعتوں کے سرکردہ رہنماءٹارگٹ کلنگ اور بھتے کی پرچیوں کی زد میں آئے تو پلوں سے پانی گذر چکاتھا اوراب انھیں بہت جلد ایسے خطرات کا سامنا ہے جن کی نشان دہی مقتدر حلقے بہت پہلے کرچکے تھے ۔ کیاآج پاکستان کی عوام محفوظ ہے ؟ جسکا مشترکہ جواب" نہیں" کی صورت میں ملے گا ۔کیا بھتے کی پرچیاں تاجروں کو انتہا پسند عناصر بھی دے رہے ہیں ؟ ۔ تو اِس کا جواب " ہاں" کی صورت میں ملےگا ، کالعدم تنظیمیں ہیں یا اجرتی قاتل ۔ ڈھکے چھپے نہیں رہے۔سب بخوبی پہچانتے ہیں کہ جو پہلے ہماری صفوں میں مخفی تھے اب باقاعدہ دفاترمیں فیصلے کرتے ہیں۔یقینی طور ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر اسلام بزور طاقت نافذ کیا جا سکتا تو آج پوری دنیا میں صرف مسلمان ہی ہوتے ۔ریاست میں امن صرف سیکورٹی ادارے قائم نہیں کرسکتے، کوئی جنگ عوام کی مدد کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی ۔ عوام کو ازخود بھی کچھ کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے منظر نامے میں ایسے انتہا پسند عناصر اپنی جڑیں مضبوط کرچکے ہیں جن کو کاٹنے کےلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے ، لیکن بدقسمتی سے اب بھی ایسا نہیںہے ، جس طرح فرقہ وارنہ قتل و غارت کے ساتھ جید علما ءو مشائخ کو شہید کیا جارہا ہے وہ ایک بہت بڑے خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے ۔ اسی طرح ہزاروں مفرور اوراشتہاری مجرموں کا قانونی گرفت سے بچے رہنا ، کراچی کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے خطرے کی علامت ہے۔لیکن ایسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے۔پاکستان میں دہشت گردی کے مختلف محاذ کھلے ہوئے ہیں ، انھیں کس طرےقے سے منطقی انجام تک پہنچانا ہے ، اس سے موجودہ حکومت بے بس نظر آتی ہے۔موجودہ حکومت میں اتنی استعداد کار و قابلیت ہی نہیں ہے کہ وہ ملک کو درپیش مسائل سے کماحقہ نبر الزماہوسکے ۔سیاسی جماعتوں کی نا اہلی نے مملکت کو اس بند گلی میں پہنچا دیا ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کےلئے کوئی تیار نہیں ہے۔ملک میں جمہوریت کا تسلسل برقرار رہتا تو یقینی طور پر مشکلات کا کوئی حل نکل سکتا تھا ، تاہم ماضی کے روایات کے برعکس پہلی بار لولی لنگڑی جمہوریت کے ناتواں جسم میں تھوڑی قوت پیدا ہورہی ہے تو دوسری جانب اس کمزورقوت کو بھی توڑنے کے لئے پوشیدہ قوت بتدریج اپنے پھڈے بازوں کو استعمال کر رہی ہے ۔مذاکرات کا عمل جب ہی کامیاب ہوگا جب مستحکم حکومت بنے گی ۔غیر مستحکم حکومت کے بغیر پاکستان غیر محفوظ ہے۔پاکستان کو محفوظ بنانا ہے تو گھر سے باہر نکلیں اور اپنا فرض ووٹ ڈال کر پورا کریں ، کیونکہ آپ جیسے منتخب کیا اسی کے ہاتھ ملک کے بھاگ دوڑ ہوگی۔فیصلہ آپ کے ہاتھ میں رہا کہ پاکستان کو آپ نے اپنے ووٹ سے محفوظ بنایایا نہیں ۔ یا پھر یہ کام آپ نے فرشتوں کےلئے چھوڑ دیا تھا۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 189 Print Article Print
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 569 Articles with 204594 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: