رحمن ملک کا دوٹوک موقف، رحمن ملک کی ہمیشہ کی طرح اچھی بات

امریکہ دہشت گردوں کیخلاف پاکستانی کارروائیوں سے مطمئین نہیں

یہ ایک خوش آئند خبر ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ایک نجی ٹی وی کو اپنے دیئے گئے انٹرویو میں اِس عزم کا دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ملاعمر پاکستان میں موجود نہیں ہیں (امریکیوں کو اِس پر یقین کر لینا چاہئے ) اور نہ ہی آئی ایس آئی ملاعمر یا طالبان کی قیادت کو تحفظ فراہم کررہی ہے اور اِس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے اِس انٹرویو میں بلند حوصلے کے ساتھ ملک کی ساڑھے سترہ کروڑ عوام کی امنگوں کی بھی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بلوچستان میں ڈرون حملے ہوئے تو پھر جواب دیں گے۔ انہوں نے ہمیشہ کی طرح اپنے اِس انٹرویو میں صاف اور کھری بات کردی ہے کہ جس سے عوام میں اِن کی قدر و منزلت بڑھ گئی ہے اور پاکستانی عوام نے اِنہیں اپنا ایک دلیر اور بہادر لیڈر تسلیم کر لیا ہے۔ اَب یہ اور بات ہے کہ اِن کا یہ بیان محض بیان ہی رہ جائے اور امریکا اپنی پہلے سے تہہ شدہ منصوبہ بندی کے تحت بلوچستان پر ڈرون حملے کسی بھی وقت شروع کردے۔ مگر اِس تمام منظر اور پس منظر میں اتنا تو یہ ضرور ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحٰمن ملک اپنا یہ بیان دے کر تو عوام میں امر ہوگئے ہیں ناں! اَب بعد میں امریکا کو جو کرنا ہے وہ کرتا پھرے۔

جبکہ ایک یہ بھی ہم پاکستانیوں اور ہمارے حکمرانوں کے لئے اتنی ہی حیرت انگیز خبر ہے کہ جتنی اوپر والی خبر سے عوام کے حوصلے بلند ہوگئے تھے مگر اِس دوسری خبر نے تمام بلند حوصلے مِنٹوں اور سیکنڈوں میں پست کردئے ہیں جس میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے ایک عورت ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک امریکی ٹی وی سی بی ایس کو اپنے دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان پر کھلم کھلا الزام تراشی کی اور اپنے ایک ہی جملے سے دو تیر چلاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 9ماہ کے دوران دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف بہت اہم کارروائیاں تو کی ہیں مگر اِس کے باوجود بھی اوباما انتظامیہ پاکستان کی اِن کارروائیوں سے قطعاً مطمئین نہیں ہے۔ اِن کا کہنا تھا کہ مگر پھر بھی یہ اقدامات ہماری توقعات سے بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میرے نزدیک یہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکی ضد اور ہٹ دھرمی پر دہشت گردوں کے خلاف اب تک اتنی شدید ترین کارروائیوں کے جواب میں امریکیوں کا یوں پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار کرنا اِن امریکیوں کے پاگل پن اور ڈو مور کی ہوس میں مبتلا ہونے کے مترادف ہے اور امریکی وزیر خارجہ کا یہ کہنا انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ پاکستان کو ہر صورت میں دہشتگردوں کے خلاف مزید سخت ترین کارروائیاں کرنی ہوں گی اور ہم یہ کارروائیاں ہر حالت میں پاکستان کے ہی ہاتھوں ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں اور اِس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے اِس انٹرویو میں یہ بھی واضح کرنے کے سعی کی کہ القاعدہ اور طالبان پاکستان میں موجود ہیں یہ اِس بات کی تائید ہے جو ملک کے سابق آمر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ورجینیا میں پاکستان امریکن کونسل سے خطاب کے دوران کہی تھی کہ القاعدہ پاکستان میں موجود ہے۔ پرویز مشرف کے اِس بیان کی توسیع کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی اپنے اِس عزم کو دُھرایا ہے کہ پاکستان میں القاعدہ موجودہے۔ اَب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان سابق آمر صدر پرویز مشرف اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو منہ توڑ جواب کس طرح دینے میں کامیاب ہوتی یا ہر بار کی طرح اِس دفعہ بھی مصالحت کا شکار ہوکر خاموش ہوجاتی ہے اور امریکا کے حامی سابق صدر پرویز مشرف اور پاکستان دشمن امریکا کو آئندہ بھی پاکستان سے متعلق غلط مفروضے اور منفی پروپیگنڈا کرنے کا موقع ملتا رہے۔

اُدھر پاکستانی حکمران، سیاستدان اور عوام کیری لوگر بل کے تحت سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالرز ملنے والی امریکی امداد کی اپنی اِس عظیم کامیابی پر خوشیاں مناتے اور لُڈیاں ڈالتے نہیں تھک رہے ہیں۔ تو وہیں یہ ہمارے پاکستانی حکمران، سیاست دان اور عوام یہ بات بھی شاید بھول بیٹھے ہیں کہ اِس امداد کے عوض سخت ترین شرائط کے ساتھ امریکیوں نے بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کا مقدمہ پاکستان کے خلاف جس انداز سے لڑنے کی تیاری کر رکھی تھی یوں وہ اَب اِس مقدمہ کو دنیا کی کسی بھی عدالت میں دائر کئے بغیر ہی بڑی آسانی سے اپنی اُن سخت ترین شرائط کے ساتھ جیت چکے ہیں کہ جو انہوں نے کیری لوگر بل کے بدلے پاکستان سے منوالی ہیں اور ہمارے حکمرانوں نے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالرز ملنے والی امداد کے عوض امریکی شرائط اور حدیں جو امریکیوں نے مقرر کی ہیں انہیں بغیر چون و چرا اور ہچر مچر کئے یوں مان لی ہیں کہ جیسے یہ خود بھی یہی چاہتے تھے کہ بھلے سے کوئی بھی ملک(خواہ امریکاہی کیوں نہ ہو) بیشک سخت ترین شرائط ہی کیوں نہ لئے ہوئے ہو اور بھلے سے وہ ہماری خودمختاری اور سالمیت کا سودا اِس طرح سے بھی کر لے جیسے کیری لوگر بل کے بدلے شرائط کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مگر بس وہ ملک ہمیں ہر صورت میں امداد ضرور دے اور بھلے امریکی بلوچستان میں ڈرون حملے کر کے انسانی لاشوں اور پاکستانیوں کے مقدس خون سے ہی سرزمین پاکستان کو رنگتے ہی رہیں مگر ہمیں ملکی باگ دوڑ چلانے کے لئے قرض اور امداد ضرور ملے۔

مگر ہائے ارے۔ اے سرزمین پاکستان تیری بھی کیا قسمت ہے کہ آج تیری بقا و سالمیت اور خودمختاری کا سودا یہود و ہنود اور نصارا کس طرح سے کررہے ہیں اور کس طرح سے یہ تیرے غیور سپوتوں کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں حالانکہ تیری زمین کے اِن رکھوالے حکمرانوں کی عزت اور خوداری ابھی بھی زندہ ہے۔ وہ تیرے اِن دشمنوں سے کبھی بھی اپنے مراسم قائم کرنا نہیں چاہتے ہیں مگر وہ بھی بیچارے کیا کریں اِن یہود وہنود اور نصرانیوں نے انہیں اِن کی مجبوریوں کے بدلے اپنی سازشوں میں کچھ اِس طرح سے جکڑ رکھا ہے کہ یہ بیچارے اِن کے آگے اَب بے بس اور لاچار ہوکر رہ گئے ہیں۔

اور اَب یہ بیچارے ہمارے پاکستان حکمران محض اپنی سلامتی اور بقا و سالمیت اور خودمختاری کے لئے ہی اِن سی نتھی کھائے بیٹھے ہیں اور اندر ہی اندر اللہ سے یہ خود بھی ہر دم دعا گو ہیں کہ اے! دنیا کے حقیقی خالق ومالک اَب تو ہی ہم پاکستانیوں پر اپنا خاص رحم وکرم فرما کہ ہماری جانیں امریکا جیسے شاطر اور عیار و مکار ملک اور اِس جیسے اُن دوسرے پاکستان اور اسلام دشمن ممالک اور عناصر سے جلد چھوٹ جائے جو ہمیں صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے درپہ ہیں اور ہمیں اپنی پناہ میں لے اور ہمیں اِن یہود و ہنود اور نصرانیوں کی گھناؤنی سازشوں سے چھٹکارہ دلا۔ جو ہمیں اندر ہی اندر کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
Muhammad Azim Azam Azam
About the Author: Muhammad Azim Azam Azam Read More Articles by Muhammad Azim Azam Azam: 1230 Articles with 1048903 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.