سماجی اورسیاسی کشمکش کے دوراہے پر کھڑا ہندوستانی مسلمان

(NAZRE ALAM, India)
ہندوستان میں مسلمانوں کی اپنی ایک شاندار تاریخ رہی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اس سرزمین پر صدیوں حکومت کی بلکہ انصاف اور رواداری کی بے نظیر مثال بھی قائم کی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سلطنت کے کھو جانے کے بعد اُنہیں آج تک سنبھالا نہ ملا۔ انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی اور مسلمانوں نے اس کی مدافعت کی تو فطری طور پر وہ مسلمانوں کے دشمن بن گئے اور انہیں ہی خاص طور پر نشانہ بنایا۔پھر جب ملک کی تقسیم کے المیہ کے ساتھ آزادی کا سورج طلوع ہوا تو خوش حال اور ذی حیثیت مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ترک وطن پر مجبور ہوگیا۔ اس طرح آبادی کا تناسب گھٹ گیا اور جو مسلمان یہاں رہ گئے وہ ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہوگئے۔ رہی سہی کسر بعدکی حکومتوں نے پوری کردی۔ ملک کے دستور میں انہیں جو حقوق دئیے گئے ہیں انہیں ان سے محروم رکھا گیا اور فسادات کے لامتناہی سلسلہ نے انہیں ابھرنے اور پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ پھر سیاسی طالع آزماؤں اور خود ملت کے نادان دوستوں نے انہیں جذباتی مسائل میں اس طرح الجھائے رکھا کہ انہیں اپنی حقیقی صورت حال کا اندازہ کرنے کا موقع ہی نصیب نہیں ہوا۔ گویا داخلی و خارجی ہر سطح پر حالات ان کے لئے ناسازگار رہے اور اس دوران جن اقوام نے ہوش مندی اور سوجھ بوجھ سے کام لیا وہ اتنی بلندی پر پہنچ گئیں کہ مسلمان ان سے اپنا تقابل کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہ گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ تمام حکومتوں نے ان کی پسماندگی میں اضافہ کرنے میں اپنا کردار نبھایا۔ سیاسی جماعتوں نے انہیں اپنے ووٹ بینک کے طور پر تو استعمال کیا لیکن ان کی فلاح و بہبود کی بجائے تعلیمی، معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر ان کی کمر توڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ مسلمانوں نے جن جماعتوں کو اپنے ووٹوں سے اقتدار تک پہنچایا انہوں نے بھی انہیں طفل تسلی دینے اور سبز باغ دکھانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ ان کے تئیں دستوری ذمہ داریاں ادا کرنا تو کجا ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلسل عدم تحفظ اور نفسیاتی دباؤ میں رکھ کر پسماندہ بنانے کی کوشش کی گئی جس کے سبب وہ زندگی کے ہر میدان میں پیچھے ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ ان کی حیثیت درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے بھی بدتر ہوگئی۔ ان کے اندر احساس محرومی اور شکست خوردگی نے اس طرح گھر کرلیا کہ وہ اپنی اور اپنی نسلوں کے مستقبل سے مایوس نظر آنے لگے۔ غربت، جہالت، گندگی، بیماری، بے روزگاری، احساس کمتری اور مایوسی مسلمانوں کی پہچان بن گئی اور ایسا لگتا ہے کہ ترقی کی ہر راہ مسلمان بستیوں اور آبادیوں کو چھوڑ کر دور سے ہی گذر جاتی ہے۔

عدم تحفظ کامسئلہ :

اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ عدم تحفظ کا ہے۔ اس احساس نے اُنہیں ہمیشہ ترقی کی راہ میں آگے بڑھنے سے روکا اور یہ سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ دہشت گردی کے نام پر جس طرح ایک پوری قوم کو یرغمال بنالیا گیا اور اس کے پڑھے لکھے اور جدید تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو جس طرح یا تو دہشت گرد قرار دے کر جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے یا انکاؤنٹر کے نام پر ان کا قتل کیا جارہا ہے یہ جمہوریت کا سب سے مکروہ چہرہ ہے۔ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر اس کی بدترین مثال ہے مسلمان اور انصاف پسند عناصر شروع سے ہی اس کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کرتے آئے ہیں، لیکن حکومت اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس سے پولیس کی حوصلہ شکنی ہوگی، گویا قانون شکنی ہو تو ہو ظالموں کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہئے۔ حکومتوں کے ساتھ ہی نام نہاد قومی پریس نے بھی ہر داڑھی ٹوپی والے کی شبیہ دہشت گردکی بناکر اس کے کردار کو مشکوک کرنے اور اس کی تذلیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اب توصورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ دورانِ سفر کسی طرح کی گفتگو بھی کسی مسلمان کو دہشت گرد قرار دے کر اسے جیل میں ٹھونسنے کے لئے کافی ہے۔ مولانا نورالہدیٰ کا واقعہ اس کی مثال ہے جنہیں محض اس لئے گرفتار کرلیا گیا کہ انہوں نے جہاز میں بیٹھنے کے بعد اپنے اہل خانہ کوبذریعہ موبائل اطلاع دے رہے تھے کہ جہاز اب اُڑنے والا ہے۔ دہشت گردانہ واقعات میں ہندو شدت پسند تنظیموں کا رول واضح ہوجانے کے باوجود مسلمانوں کو ہراساں کئے جانے کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے جن مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے عموماً پولیس کے ذریعہ ان کے خلاف ثبوت پیش نہ کرپانے کی صورت میں انہیں عدالت سے بَری کردیا جاتا ہے لیکن اس سے قبل ان کی زندگی کے کئی قیمتی سال جیلوں میں ضائع ہوجاتے ہیں جس سے نہ صرف ان کا مستقبل تاریک ہوتا ہے بلکہ اس کا منفی اثر دیگر نوجوانوں پر بھی پڑتا ہے۔ ان کے اندر اضمحلال اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ اس جمہوریت کا اﷲ ہی نگہبان ہے جس کی سب سے بڑی اقلیت اور دوسری سب سے بڑی اکثریت کے ساتھ اس طرح کا رویہ روا رکھا جائے۔

آئینی حقوق سے محرومی اور سچرکمیٹی :
آزادی کے بعد سے آج تک جس طرح جان بوجھ کر مسلمانوں کو ان کے آئینی اور دستوری حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے اس میں ان کی پسماندگی کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے سبھی واقف ہیں۔ سچرکمیٹی کی رپورٹ آنے سے قبل بھی مسلمانوں کی حالت کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور انہوں نے بھی مسلمانوں کو پسماندہ قرار دیا۔ البتہ سچرکمیٹی نے نہایت باریک بینی کے ساتھ مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی صورت حال کا جائزہ لیا اور اعداد و شمار کی روشنی میں ان کی صحیح صورت حال واضح کردی۔ اس سے ایک طرف جہاں مسلمانوں کے ووٹ پر اقتدار حاصل کرنے والی حکومتوں کی قلعی کھل گئی وہیں دوسری طرف خودمسلم سماج، اس کے علماء و دانشوران اور ملی و سماجی تنظیموں کو بھی اپنی اوقات کا پتہ چل گیا۔ سچرکمیٹی رپورٹ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہرشخص اپنی تصویر صاف دیکھ سکتا ہے۔ اس رپورٹ نے ثابت کردیا کہ ملک کی ایک بڑی آبادی خود اپنے ہی ملک میں کس طرح سماجی، تعلیمی اور اقتصادی طور پر حاشیہ پر لاکھڑی کردی گئی۔اس کے ساتھ کیسا ہمہ گیر امتیازی سلوک کیا گیا اور کیسے اسے حق و انصاف اور مساوات سے محروم کیا گیا کہ خود رپورٹ کے الفاظ میں اس نے ’’نابرابری اور امتیازی ناروا سلوک کو اپنی قسمت کا لکھا تسلیم کرلیا‘‘

سچرکمیٹی کی سفارشات کے نفاذ کے لئے مرکزی حکومت نے سابق وزیر جناب محمدعلی اشرف فاطمی کی سربراہی میں Action Taken Report تیار کرائی اور اس کی سفارشات کی روشنی میں کچھ عملی اقدامات بھی کئے گئے۔ کئی فلاحی اسکیوں کا اعلان کیا گیا، لیکن ان اسکیموں کا نفاذ ایمانداری سے نہیں کیا جاتا۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ گذشتہ دنوں حکومت کی جانب سے اقلیتوں کو 12.5 فیصد قرض دیا گیا لیکن اس کی گہرائی میں جاکر دیکھا گیا تو پتہ چلاکہ اس میں سے 9.5 فیصد قرض چینیوں کو 1.5 فیصد سکھوں اور 1.5فیصد میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ملاکردیا گیا۔ کیا ہم اسے محض اتفاق کہہ کر آگے بڑھ سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی فلاح کیلئے مختلف اسکیموں کے تحت جو رقم مختص کی جاتی ہے اس کا استعمال ان کی فلاح کی بجائے انہیں دہشت گرد ثابت کرنے، ان کی زبان کو ختم کرنے اور انہیں مختلف مسائل میں الجھاکر رکھنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے سچرکمیٹی کی ۷۶ سفارشات میں ۷۲ سفارشات نافذ کردی ہیں۔ لیکن زمینی سطح پر سوائے اسکالرشپ دئے جانے کے کسی سفارش کا نفاذ نظر نہیں آرہا ہے۔

رنگناتھ مشرا کمیشن :
سچر کمیٹی رپورٹ کے ذکر کے ساتھ یہاں رنگناتھ مشرا کمیشن کا ذکر بھی بے جانہ ہوگا۔ اس کمیشن نے مسلمانوں کو دس فیصد اور دیگر اقلیتوں کو پانچ پانچ فیصد ریزرویشن دینے کی سفارش کی ہے۔ لیکن اب حکومت مختلف بہانوں سے اس پر عمل کرنے سے کترا رہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ دستور میں مذہبی بنیاد پر ریزرویشن دینے کی گنجائش نہیں ہے۔ حالاں کہ مسلمان مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہیں جس پسماندگی پر خود حکومت نے مہرتصدیق ثبت کردی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ قانونی داؤ پیچ میں الجھائے بغیر حکومت رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات پر عمل کرے۔

ریاست بہار کی صورت حال بھی ملک کی عمومی صورت حال سے مختلف نہیں ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کی سطح پر بہار کے مسلمانوں کے ساتھ بھی دیانت داری کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ حکومتیں بدلیں لیکن مسلمانوں کے حالات نہیں بدلے۔ تمام حکومتیں اور تمام سیاسی جماعتیں ان کے ووٹ اپنی جھولیوں میں ڈال کر اپنا پلڑا بھاری کرتی رہیں لیکن مراعات و مفادات صرف اپنے لوگوں کے لئے محفوظ رکھے۔ آج بھی ایک بڑی آبادی ایسی ہے جو صاف ستھرے پانی، کھانے اور تعلیم سے محروم ہے نیز جانوروں سے بدتر زندگی گذارتی ہے۔ ترقی سے ناآشنا یہ آبادی ساٹھ سال قبل جہاں تھی آج بھی وہیں ہے۔ ریاست کے جن اضلاع میں مسلم شرح آبادی زیادہ ہے وہ اضلاع معاشی اعتبار سے بھی پسماندہ ہیں اور وہاں کوئی صنعتی و تجارتی مرکز نہیں ہے، صحت کے مراکز بھی یا تو نہیں ہیں یا بہت کم ہیں۔

اردو زبان کا مسئلہ :
اردو ریاست کے مسلمانوں کی مادری زبان ہے اور ریاست کی دوسری سرکاری زبان بھی۔ لیکن تعلیم کے لئے سہ لسانی فارمولا پر عمل نہیں ہورہا ہے اور اگر عمل ہورہا ہے تو غلط طور پر۔ تعلیم کی ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ تینوں سطحوں پر اردو کے اساتذہ بہت کم ہیں۔ابتدائی اور ثانوی سطح پر تو اردو اساتذہ کی جگہوں پر دوسرے مضامین کے اساتذہ بحال ہیں۔جہاں کہیں بھی اُردو کے اساتذہ بحال ہیں بھی تووہ اُردو طالب علموں کو پڑھائیں تو کیا پڑھائیں کیوں کہ اُردو کی نصابی کتابیں نہ وقت پر شائع ہوتی ہیں اور نہ دستیاب ۔ متھلایونیورسٹی کے اکثر کالجوں میں اردو اساتذہ کی سیٹیں خالی ہیں یا سرے سے ہیں ہی نہیں۔ سرکاری دفاتر میں کہنے کو تو اردو مترجمین بحال ہیں لیکن ان سے دوسرے کام لئے جاتے ہیں۔ اقلیتوں کو انصاف دلانے اور مین اسٹریم میں لانے کی بات تو بڑے زور و شور سے کی جاتی ہے لیکن اس کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے جاتے۔

مظہرالحق عربی فارسی یونیورسیٹی اور مدرسہ بورڈ :
عظیم مجاہدآزادی مولانا مظہرالحق کے نام پر قائم عربی و فارسی یونیورسٹی کا معاملہ ’’ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے‘ والا ہے۔ بہار :مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے عالم اور فاضل درجات کو الگ کرکے اسے یونیورسٹی کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ انفراسٹرکچر کا یہ حال ہے کہ اسے آج تک اپنی زمین میسر نہ ہوسکی۔اس کا ایڈمنسٹرٹیو اور اکزامنیشن بلاک الگ الگ مقامات پر چل رہا ہے۔ خود مدرسہ بورڈ کی حالت قابل رحم ہے۔ مدرسین اور اساتذہ کی تنخواہیں بے حد قلیل ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتیں۔اساتذہ و ملازمین اُمید اور تسلی کے آکسیجن پر جی رہے ہیں۔سابق چیئرمین ممتاز عالم کی کارکردگی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بورڈ کی تاریخ میں اس سے برا حال کبھی نہیں ہوا ہوگا۔مدرسہ بورڈ کی حالت یہ ہے کہ بورڈ کی لگ بھگ فائلیں خود سابق چیئرمین صاحب ہی اپنے سطح سے دیکھ رہے تھے جس کی وجہ سے کوئی بھی کام وقت پر پورا نہیں ہوسکا۔حالاں کہ ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ مدرسہ بورڈ میں کسی باشعور ماہرتعلیم اور انتظامی امور کے ماہر شخص کو چیئرمین کی کرسی دی جاتی نہ کہ حکومت کی چاپلوسی کرنے والوں کو ۔اقلیتی تعلیمی اداروں کے ساتھ جو ناروا سلوک پہلے سے جاری تھا وہ آج بھی برقرار ہے۔ نئے اداروں کے قیام کے لئے منظوری لینا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک وظائف بہت کم طلباء کو ملتے ہیں جب کہ اس کا اشتہار بہت ہوتا ہے۔ موجودہ وزیراعلیٰ کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ وہ مرکزی فنڈ کا استعمال ایمانداری سے کررہے ہیں جس میں سڑکوں کی تعمیر کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے لیکن اسکالرشپ کی تقسیم میں اس ایمانداری کا مظاہرہ نہیں ہورہا ہے۔

اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا حال:
بہار اسٹیٹ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا حال بھی مختلف نہیں ہے۔ ۱۹۸۴ء میں اس کا قیام اس لئے عمل میں آیا تھا کہ اقلیتوں کے وہ افراد جن کی مالی حالت کمزور ہے اس سے قرض لے کر اپنا کاروبار شروع کرسکیں۔ بظاہر یہ بڑی اچھی اسکیم معلوم ہوتی ہے لیکن اس ادارے سے قرض کا حصول اتنا مشکل ہے کہ بے چارے اقلیتی افراد عموماً دفتروں کے چکر لگانے کے بعد خاموش بیٹھ جانے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ اگر قرض مل بھی جائے تو اس کی حیثیت محض علامتی ہے جس سے سدھار کی کوئی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ ریاستی اقلیتی سیکشن بھی ایک تماشہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایسے شخص کو اس کی نگرانی سونپی جاتی ہے جو اس ادارہ کو بے فیض بناکر چھوڑے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ نوشاد احمد تیسری بار چیئرمین بنائے گئے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو اس عہدہ سے ہونے والے فوائد سے محروم رکھا۔ اقلیتوں کے مفاد کے تئیں اقلیتی کمیشن کا کردار صفر ہے۔حالاں یہ تلخ حقیقت ہے کہ موصوف جس بڑے اور مؤثر منصب پر فائز ہیں اگر ان میں سچی لگن اور مخلصانہ کوشش ہوتی تو اقلیت کو ڈھیرسارے فائدے ہوتے مگر افسوس کہ اقلیت طبقے آج بھی بے شمار مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں بغیر وجہ بتاؤ نوٹس اور بغیر کسی ثبوت و دلیل کے محض شک کی بنیاد پر صوبہ سے اٹھاکر پولیس لے جارہی ہے اور ہماری صوبائی حکومت بالخصوص اقلیت کمیشن کے سربراہ جناب نوشاد احمد عام عوام کی طرح خاموش تماشائی بن کر نوجوانوں کو گرفتار ہوتے اور ان کے مستقبل تباہ وبرباد ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ حالاں کہ دستور ہند کے مطابق صوبائی حکومت کی باہمی اجازت کے بغیر یہ کارروائی انجام نہیں دی جاسکتی۔نوجوانوں کی گرفتاری بالخصوص قتیل صدیقی کا جیل میں قتل بہار کی تاریخ کا وہ منحوس باب ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کو تڑپاتارہے گا۔ آج بھی قتیل کی روح انصاف کے لئے تڑپ رہی ہے ان کی بیوہ اور معصوم بچوں کے آنسو ضرور رنگ لائیں گے۔ لیکن اقلیتی کمیشن نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ حقیقت یہ ہے عربی و فارسی یونیورسٹی ہویا مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، اُردو اکیڈمی ہو یا اقلیتی مالیاتی کارپوریشن یہ سب Cosmetic Exercises ہیں جو مسلمانوں کو بہلانے کے لئے کئے گئے ہیں۔

مسلمانوں میں سیاسی نمائندگی کا بحران :

ریاست میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ نہ تو کوئی سیاسی تنظیم ان کے قبضہ میں ہے نہ حلقہ انتخاب اور نہ کسی ایوان میں پوری نمائندگی ہے۔ مسلمانوں کی کثیرآبادی والے حلقوں کو جان بوجھ کر محفوظ قرار دے دیا جاتا ہے۔ آزادی سے قبل سیاست میں مسلمانوں کی اپنی ایک قیادت ہوتی تھی۔ آزادی کے بعد بھی یہ روایت کچھ زمانے تک جاری رہی۔ لیکن ابھی جو سیاسی منظرنامہ ہے اس کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اب مسلم قیادت برائے نام بھی نہیں رہ گئی ہے۔ جو بھی مسلم لیڈرشپ ہے وہ بے حس ہے اور اپنے ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پارہی ہے۔ مسلمان جنہیں اپنا نمائندہ سمجھ کر ایوان میں بھیجتے ہیں وہ صرف اپنی ذات اور اپنی جماعت کے نمائندہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں مسلم قیادت کے قیام اور عروج کو پسند نہیں کرتیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے تئیں اپنے رویہ میں تبدیلی پیدا کرے۔ مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی کو صحیح معنوں میں یونیورسٹی کی شکل دے۔ مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں میں سدھار کرے اور اقلیتی اسکولوں کے اساتذہ کے مسائل حل کرے اقلیتی اداروں کے ساتھ ناروا سلوک بندکرے اور نئے اداروں کے قیام میں رکاوٹ پیدا نہ کرے ساتھ ہی مسلم طلبہ و طالبات کے لئے مخصوص اسکالرشپ کی مناسب تقسیم کو یقینی بنائے اور دربھنگہ میں مسلم بچیوں کے لئے ایک ٹیکنکل ادارہ قائم کرے۔

ملک و ریاست کا موجودہ منظرنامہ ہم سے تقاضاکررہا ہے کہ ہم اپنے اندر بیداری پیدا کریں۔ اگر حکومتیں اور سیاسی جماعتیں ہمیں بیوقوف بنانے میں کامیاب رہی ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر اب تک بیداری نہیں آئی ہے۔ اگر ہم بیدار ہوگئے تو حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اپنے غصب شدہ حقوق کے لئے منظر اور مسلسل جدوجہد ضروری ہے اب یہ ہمارے اوپر فرض ہوگیا ہے کہ اپنے حالات کی اصلاح کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں۔ جو کام حکومت کے کرنے کے ہیں ان کے لئے حکومت پر مضبوط دباؤ ڈالیں اور جو کام خود ہمارے کرنے کے ہیں اور جن سے آج تک ہم نے مجرمانہ غفلت برتی ہے انہیں کرنے کے لئے کمر کس کر تیار ہوجائیں۔ ’’مسلم بیداری کارواں، بہار‘‘ کا مقصد یہی ہے اور یہی اس کا پیغام ہے۔ آج ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ اس تنظیم کے ذریعہ جس جدوجہد کا آغاز کیا گیا ہے اسے جاری رکھیں گے اور اس تنظیم کے ذریعہ مسلمانوں کی ذہن سازی، تعلیمی و سیاسی سطح پر بیداری پیدا کرنے، اتحاد قائم کرنے اور انہیں ایک مضبوط طاقت بنانے کے لئے کام کرتے رہیں گے۔
٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: NAZRE ALAM

Read More Articles by NAZRE ALAM: 5 Articles with 1950 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Jan, 2015 Views: 448

Comments

آپ کی رائے