عوام کا تیل نکل نہ جائے!

(Shahid Raza, )
آج ہر ایک کی زبان پر صرف ہی جملہ سننے کو ملتا ہے اب کیا ہو گا،کہیں پیٹرول ختم ہو گیا سب نے کہا ا ب کیا ہو گا،کہیں پانی کی قلت سب نے کہا اب کیا ہو گا،کہیں دہشت گردی سب نے کہا اب کیا ہو گا،کہیں خانہ جنگی سب نے کہا اب کیا ہو گالیکن کسی نہ کسی طرح زندگی کی گاڑی گذر ہی رہی تھی لیکن ایک بار عوام کو جھٹکا لگا جب یمن میں حکومت کو گرا کر دوسرے لوگ قابض ہونے لگے ابھی اس خبر پر تبصروں کا آغاز ہی ہوا تھا کہ ایک اور خبر آ گئی کہ سعودی عرب نے کوئت،بحرین،قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر یمن پر حملہ کرنے کا پروگرام بنایا اور پھر سعودی حکومت نے اس جنگ میں پاکستان سے بھی مد دمانگی یہ تو ہو گئی ایک بات، اب دوسری طرف دیکھیں جو شخص خود IMF کی بیساکھیوں پر کھڑا ہو بھلا وہ کیا کسی کی مدد کرے گا جس کے اپنے ملک میں حالات صحیح نہ ہوں بھلا وہ کسی ملک کے حالات کیسے صحیح کرے گا لیکن کیوں کے مدد اور حمایت سعودی عرب نے مانگی تھی اور ہمارا بچہ بچہ اپنی جان حرمین شریفین کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہے لیکن اُس وقت جب یمن کے افراد سعودی عرب کی حدود کی خلاف ورزی کریں یمن کے قبضہ گروپ نے یمن کی حکومت کو بھگا دیا اور خود قابض ہونے لگا سعودی عرب نے کہا کہیں یہ ہم پر بھی حملہ نہ کر دے اس شک اور گمان کی بنا پر اُس نے دوسرے عرب ممالک کے ساتھ مل کر یمن پر ہوائی حملہ کر دیا جس میں کئی بے گناہ افراد مارے جا چکے ہیں اور اب پتا نہیں اور کتنے بے گناہ شہید کئے جائیں گے ،اگر شک اور گمان کی بنا پر حملے کئے جاتے ہیں تو پاکستان کو بھی ایران،انڈیا،افغانستان اور چین جیسے ممالک پر حملہ کرنا چاہئے شاید کل یہ بھی پاکستان پر حملہ کر کے اُس پر اپنا قبضہ جما لیں ،شک ،شاید کی بنا پر جنگیں نہیں کی جاتیں ،سیرت رسول ؐ کی کیا تھی؟ جب کوئی کافر بھی مسلمانوں پر حملہ کر دیتا تو رسول ؐ اپنے قاصدوں کے زریعے اُن کو امن و صلح کا پیغام دیتے جب اتمام حجت کر دیتے تب جا کر حملہ کرتے تھے یہاں تو حساب ہی دوسرا تھا یمن کا ایک ذاتی میٹر تھا یمن میں خانہ جنگی کا ایک سلسلہ تھا سب عرب مما لک مل کر اُن کے مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرتے مسئلہ ختم ہوجاتا لیکن شک اور شاید کی بنا پر اُن پر حملہ کر دیا گیا جب کہ نہ تو یمن والوں نے سعودی عرب کی حدود کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی اُن پر جنگ کو مسلط کیا پتا نہیں ایسا کیا ہوا کہ سعودی عرب نے عرب ممالک کے ساتھ مل کر بہت ہی جلدی میں اُس پر حملہ کر دیا ادھر ایران نے مخالفت کر دی وہی عرب اور عجم کی لڑائی جس کو رسول ؐ ختم کر کے گئے تھے اُس کو دوبارہ ہوا دیا جانے لگا اب یہاں دو اہم باتیں ہیں جو ہو مسلمان کے دل میں طے ہیں ایک اگر سعودی عرب کی حدود کی خلاف ورزی کی گئی تو پھر کوئی مسلمان گھر میں نہیں بیٹھے گا یہ بات بالکل واضح ہے لیکن اگر خلاف ورزی ہو تو ،اگر نہیں ہوتی تو پھر مذاکرات کے ساتھ مسئلے کا حل نکالنا چاہئے اور دوسری بات پاکستان کو بھی اپنا یہی موقف رکھنا چاہئے کہ اگر خلاف ورزی ہوئی تو ہم آپ کا بھرپور ساتھ دیں گے کیوں کہ پاکستان اس وقت خود ملکی حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے دہشت گردی کی روک تھام کی کوشش کر رہا ہے جس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے اب اگر پاکستان نے اپنی توجہ یہاں سے اُٹھائی تو پھر دہشت گردی عام ہو جائے گی اگر سعودی عرب ہمارا دوست ہے تو ایران بھی ہمارا دوست ملک ہے سعودی عرب نے اگر پاکستان کا مشکل میں ساتھ دیا ہے تو ایران نے بھی کبھی پاکستان کا ساتھ مشکل میں نہیں چھوڑا ہے اگر سعودی عرب نے پاکستان کو مفت تیل دیا ہے تو اس کا مطلب ہو گز یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے بے گناہ افراد کی جانیں دے کر اُس کی قیمت کو چکایا جائے عرب ممالک کی اس جنگ سے عالمی جنگ کا بھی آ غاز ہو سکتا ہے اور اگر عالمی جنگ کا آغاز نہ بھی ہو پر معیشیت پر ایک برا اثر پڑنے والا ہے جن اثرات کو امیر نہیں غریب سمجھ سکتا ہے کہیں ایسا نہ ہو دوستی ہی دوستی میں عوام کا تیل نکل جائے ،جناب یہی عوام ہے تو آپ ہیں اگر یہ عوام نہ رہی تو کیا زمین اور پہاڑوں پر حکومت کریں گے ذرا سوچیں اگر ایران نے روس کے ساتھ مل کر سعودی عرب پر حملہ کر دیا تو ایک طرف سعودیہ ایران کے حملے کو روکے گا اور دوسری طرف یمن پر حملہ بھی کرے گا اور کہیں توجہ ہٹی تو جنگ بدر والی تاریخ نہ دوہرا دی جائے یمن کے باغیوں نے بھی کہیں پلٹ کر واقعی غصے میں بدلہ لینے کی نیت سے کہیں سعوددیہ پر حملہ تو عالمی جنگ یقینن ہو جائے گی واقعی یہ وقت جذبات و انا کا نہیں ہے یہ مفاہمت کا دور ہے شک اور شبے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مسلمان مسلمان آپس میں بھائی ہیں مل جل کر رہیں خود بھی جئیں اور دوسروں کو بھی جینے دیں میں تو یہ کہوں گا لڑائی لڑائی معاف کرو اﷲ کا گھر صاف کرو بے شک جس سے اﷲ راضی ہو وہ کسی سے نہیں ڈرتا اور اگر دشمن حملہ کر دے اتو اُسے منہ توڑ جواب بھی دے سکتا ہے۔
 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 333 Print Article Print
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 120416 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: