پاکستانی ٹی وی گیم شوز٬ قوم بھکاری اور فائدہ کس کا؟

کون مفت کا مال پسند نہیں کرتا؟ ہم ایسی چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو بغیر کسی کوشش کے ہمارے ہاتھ آجائیں- یہ سوچ کسی بھی قوم کے لیے بڑا دھچکا ہوتی ہے- ایک دوسرے سے امیر بننے کی دوڑ کی جڑیں ہماری قوم میں مضبوط ہوتی چلی جارہی ہیں-

پاکستان کے الیکٹرونک میڈیا نے پاکستانی قوم کی اس سوچ کو انتہائی خوبصورت انداز میں کیش کیا ہے جس نے قوم کو ایک بھکاری کا روپ دے دیا ہے- پاکستان کے تقریباً ہر ٹی وی چینلز پر منعقد ہونے والے مختلف گیم شوز نے یہ تصور پیش کیا ہے کہ آپ صرف چند آسان سوالات کے جوابات دے کر ڈھیروں دلچسپ انعامات جیت سکتے ہیں- ابتدا میں یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ گیم شوز پی ٹی وی کے مشہور پروگرام “ نیلام گھر “ سے متاثر ہو کر شروع کیے گئے ہیں- لیکن پی ٹی وی کے اس پروگرام کا ایک مقام تھا اور اس کا آج کے گیمز شوز سے کوئی مقابلہ نہیں- حالیہ دکھائے جانے والے گیم شوز صرف پیسہ بنانے اور اپنے چینلز کی ریٹنگ بڑھانے کے سوا اور کچھ بھی نہیں-
 

image


“ تکا لگاؤ مسلمانوں “ ایک ایسے ہی بے بنیاد تصورات پر مبنی نشر کیے جانے والے گیم شوز میں سے ایک شو کے دوران بار بار بولا جانے والا ایک مقبول جملہ ہے- یہ جملہ گزشتہ سال رمضان جیو ٹرانسمیشن کے دوران مقبول ہوا- عامر لیاقت کو اس اقسام کے گیم شوز کی میزبانی کرنے والوں کا رہنما قرار دیا جاتا ہے- اگرچہ عامر لیاقت کا تجربہ اور مقبولیت طارق عزیز کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں لیکن اس کے باوجود وہ ایک معقول ویورز شپ اور مداح حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں-

ابتدا میں عامر لیاقت حسین کی مقبولیت میں اس وقت اضافہ ہوا جب ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے بطور مذہبی اسکالر ایک مذہبی پروگرام کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیے- سب سے پہلے عامر لیاقت نے جیو پر “ انعام گھر “ کے نام سے ایک گیم شو متعارف کروایا جس سے متاثر ہو کر اے آر وائی ڈیجیٹل نے بھی “ جیتو پاکستان “ کے نام سے ایک گیم شو متعارف کروا دیا اور اس شو کی میزبانی فہد مصطفیٰ کرتے ہیں- ایک دوسرے سے متاثر ہونے کا یہ سلسلہ یہی نہیں تھما بلکہ اس کے بعد ہم ٹی وی نے “ جیت کا دم “ کے نام سے ایک ایسا ہی گیم شو متعارف کروا دیا اور اس شو کی میزبانی کے فرائص مقبول ٹی وی ایکٹر فیصل قریشی سرانجام دے رہے ہیں-
 

image

اگر آپ ایک مخصوص وقت میں زیادہ سے زیادہ گلاب جامن کھا سکتے ہیں٬ اپنی اہلیہ کو پیچھے بیٹھا کر سائیکل چلاسکتے ہیں٬ پاگلوں کی طرح رقص کرسکتے ہیں یا پھر گیند کے ساتھ بےتکے کرتب دکھا سکتے ہیں تو پھر آپ موٹر سائیکل جیتنے کے حقدار ٹھہرتے ہیں- سننے میں یہ عجیب و غریب لگتا ہے٬ لیکن ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے جو امیر بننے کے لیے ایسے مختصر راستے تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں- یہ ایک خطرناک رجحان ہے اور اس امر کی حوصلہ شکنی کی اشد ضرورت ہے-

مختلف ٹی وی چینلز پر نشر کیے جانے والے حالیہ گیم شوز کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان گیم شوز کے پیچھے کیا خیال کارفرما ہے؟ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ٹی وی شوز کی ریٹنگ چینلز کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے- اور یہی چیز اس بات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے کہ آخر کیوں ٹی وی چینلز 800 سی سی کی کاریں٬ متعدد موٹر سائیکل٬ ہیرے کی انگوٹھیاں یا یہاں تک کہ نوزائیدہ بچے بھی پرجوش انداز میں عوام میں بانٹنے دکھائی دیتے ہیں- جی ہاں آپ نے صحیح سنا عامر لیاقت نے اپنے ایک گزشتہ شو “ امان رمضان “ میں ناظرین میں موجود کئی بےاولاد جوڑوں کو ایسے نوزائیدہ بچوں سے نوازا جنہیں ان کے حقیقی والدین نے فلاحی اداروں کے حوالے کردیا تھا- اب اس کا مقصد شو کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے عوام کی توجہ حاصل کرنا تھا یا پھر واقعی عامر لیاقت ایسے بچوں کی مدد کرنا چاہتے تھے٬ اﷲ ہی بہتر جانتا ہے-
 

image

دوسری جانب فہد مصطفیٰ عامر لیاقت کے مقابلے میں کسی حد تک بہتر دکھائی دیتے ہیں اور وہ اپنے دلچسپ انداز سے صرف ناظرین کو تفریح فراہم کرتے ہیں- فہد مصطفیٰ دلچسپ کھیلوں اور مشغلوں کے ذریعے ناظرین کو مصروف رکھتے ہیں اور ساتھ ان میں انعامات بھی تقسیم کرتے رہتے ہیں- اور اس شو کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ فہد مصطفیٰ کی جاذبِ نظر شخصیت بھی ہے- اگرچہ فیصل قریشی نے بھی اس طرح کے گیم شوز کی میزبانی کے میدان میں قدم تو رکھ لیے لیکن وہ عامر لیاقت اور فہد مصطفیٰ کی مانند متاثر کن ثابت نہیں ہوسکے-

اشتہارات اور شو کے اسپانسرز چینل کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں- گیم شوز کی آنے والی اقساط کی چونکا دینے والی جھلکیاں ناظرین کو اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ تمام کام چھوڑ کر مقررہ وقت پر نشر ہونا والا مکمل گیم شو ضرور دیکھا جائے- یقیناً چینلز تو اس طرح کے گیم شوز سے بہت کما رہے ہیں لیکن وہ تحفے میں ناظرین کو کیا دے رہے ہیں؟ ضرور سوچیے-
 

image

مختلف ذرائع کے مطابق٬ تجارتی ادارے اور اسپانسرز اس طرح کے شوز میں سرمایہ کاری کر کے ٹیکس کی مد میں ادا کی جانے والی ایک بہت بڑی رقم محفوظ کرلیتے ہیں- ٹیکس رجسٹرڈ اداروں کی جانب سے اپنی مصنوعات کی فروخت اور ان کے فروغ کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں پر رقم خرچ کرنے کی اجازت ہوتی ہے- انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 20 کے مطابق اس طرح کے اخراجات کو ٹیکس سے مثتسنیٰ قرار دیا جاتا ہے اور اس ٹیکس کو انکم ٹیکس میں کاٹ لیا جاتا ہے- یاد رکھیے کہ آپ کار بالکل مفت نہیں جیت سکتے کیونکہ آپ کو اس پر 20 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا-

کیا ہونا چاہیے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کے گیم شوز ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے ایک اچھوتا خیال ہیں- لیکن متعلقہ حکام کو ایسے گیم شوز کی خوبصورتی کا خاتمہ عمومی علم کے سوالات اور بےتکے کھیلوں کے ذریعے نہیں کرنا چاہیے- کلاسک شوز جیسے کہ کسوٹی اور نیلام گھر وغیرہ آج بھی لوگوں کی یادداشتوں میں زندہ ہیں اور ان کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں- صرف ریٹنگ پر ہی انحصار نہ کیجیے٬ اخلاقی اقدار اور اخلاقیات کو بھی یاد رکھیے-

ٹی وی چینلز کو بیدار ہوجانا چاہیے اس سے قبل کہ دیر ہوجائے!
YOU MAY ALSO LIKE:

Who doesn’t like Mufta? We all love to grab our hands on anything that comes without efforts. This mentality has taken the nation with a blow. The race to become richer than others has taken its root deep in our nation.