نظریاتی ضرب عضب

(Sardar Attique Ahmed Khan, Azad Kashmir)

ٹیپو سلطان اور جارج پنجم سے منسوب ہے کہ بحرانی کیفیت کے دوران کسی ملک کے محب وطن افراد کی پہچان کا آسان طریقہ اپنی فوج کی حمایت یا مخالفت کے حوالے سے کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں جہاں کئی سیاسی فیشن متعارف ہوئے وہاں فوج کی مخالفت بھی اسی فیشن کے حصے کے طور پر مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی۔ فیلڈ مارشل کی کابینہ میں سیاسی تربیت کے حصول کے بعد ذوالفقار علی بھٹو بہت بڑے جمہوریت پسند اور فوج مخالف(Anti establishment) لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔

میاں محمد نواز شریف جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء الحق کی سرپرستی میں سیاسی ترقی کر کے فوج مخالف(Anti establishment) لیڈر بننے میں مصروف ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان کو نظریاتی اعتبار سے نقصان پہنچانے کا کوئی موقع مختلف ادوار کے سیاستدانوں نے ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

مدینہ منورہ کے بعد دنیا میں صرف دو ریاستیں پاکستان اور اسرائیل ایسی ہیں جو خالصتاً نظریے اور عقیدے کی بنیاد پر وجو میں آئی ہیں۔لیکن ماضی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ جس کسی سیاستدان کو ملک میں چند بڑے عوامی جلسے کرنے کا موقع ملا اس نے اپنی طرز کے پاکستان کا ذکر کرنا شروع کر دیا۔ بھٹو صاحب عظیم تر پاکستان، مذہبی/انتخابی جماعتیں اسلامی پاکستان، عمران خان نیا پاکستان، میاں نواز شریف فلاحی پاکستان ۔گویا کہ دو سو سالہ تحریک کے نتیجے میں قائداعظم کی قیادت میں بننے والا پاکستان ان سب کو قبول نہیں اوریوں تو جو اپنی زندگی میں بنے ہوئے پاکستان کے کسی ایک ضلع کو ترقی اور کامیابی کے راستے پر نہیں ڈال سکے وہ ایک نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ کسی کی حب الوطنی پر شبہ کرنے کا مجھے یا کسی کو کوئی حق یا اختیار حاصل نہیں تاہم پورے اطمینان سے کہا جا سکتا ہے کہ 14 اگست 1947 ء کو بننے والے پاکستان کی دنیا بھر میں مخالفت قوتیں ہر چند سال بعد اصل پاکستان سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک نیا نعرہ دیکرعام آدمی کی پاکستان سے وابستگی کو کمزور کرنے کی سازش پر کامیابی سے عمل پیرا ہیں۔ پاکستانی سیاست دان اگر ساری قوم پر رحم کریں تو وہ اس بنے ہوئے پاکستان کو چلانے کا فریضہ سر انجام دیں نہ کہ ہر پانچ سال بعد ایک نئے قسم کا پاکستان بنانے کا اعلان کریں ۔

امریکہ اور سوویت یونین کی کشمکش کے آخری مرحلے میں پاکستان اور یہ خطہ ساری دنیا کے عسکریت پسندوں کی آماہ چگاہ بن گیا یا بنا دیا گیا ۔طاقت اور قوت عسکر ی ہو یا کسی بھی قسم کی اس کاحصول ایک بات ہے لیکن اس کو سنھبال کر رکھنا اور اس کا درست مقدار میں صحیح وقت پربہترحکمت عملی اور ضرورت کے تناسب سے استعمال کرنا بالکل الگ اور مختلف سائنس ہے۔

عسکری قوت کو یکجا کرتے وقت سوویت یونین کو گرم پانیوں تک سے روکنا اور دنیا کو کمیونسٹ معیشت کے حملے سے بچانے کا خوف دنیا بھر کی قدر مشترک تھی جس کے باعث بعد کے حالات کی درست منصوبہ بندی نہیں کی جا سکی۔ دنیا کے کچھ ممالک کو اس مہم کے خاتمے کا اندازہ ضرور ہو گا لیکن بعد کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ اس منصوبہ بندی میں مزید دوربینی کا مظاہرہ کیا جا سکتا تھا۔

محمد خان جونیجو کی حکومت کے آخری روز جس دن وہ غیر ملکی دورے سے واپس آر ہے تھے ہم لوگ آرمی ہاؤس راولپنڈی میں جنرل ضیاء الحق شہید ؒ کی دعوت پر ایک بریفنگ میں شریک تھے۔ صاحبزادہ یعقوب خان، مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان ، خوشنود علی خان اور چند دوسرے احباب اور راقم کو اگلی صبح جنرل ضیا ء الحق کے ہمراہ چین کے دورے پر روانہ ہونا تھا جو اسی رات جونیجو صاحب کی حکومت کے تحلیل ہونے اور ملکی صورت حال بدل جانے کے باعث ممکن نہ ہو سکا۔ اس بریفنگ کے دورن جنرل ضیا ء الحق نے بتایا کہ کابل پر سوویت یونین حملے کے فوری بعد جب وہ چینی قیادت سے ملے تو انھوں نے پھر پوچھا کہ جنرل صاحب آپ لوگ کتنے عرصے تک اس صورت حال کے مقابلے کے لئے تیار ہیں۔ جنرل ضیا ء الحق نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہو گی کہ آخری باغیرت پاکستانی کی موجودگی تک ہم اپنا کردار ادا کریں گے اور مقابلہ کریں گے۔ جس کے جواب میں چینی لیڈر نے کہا کہ یہ جنگ سات آٹھ سال تک اپنے انجام کو پہنچ سکتی ہے۔ اس سے زیادہ طوالت اختیار نہیں کرے گی۔ اب چینی قیادت کا رو ز اول سے اندازہ کتنا درست ثابت ہوا، بعد کے حالات سے واضح ہے۔

آرمی ہاؤس کی اس بریفنگ میں جنرل رفاقت حسین ، بریگیڈیئر نجیب شہید ، وزارت خارجہ اور کچھ دوسرے سول ملٹری افسران بھی موجود تھے۔ ان باتوں کے ذکر سے میری مراد یہ بھی ہے کہ بنیادی منصوبہ بندی مغربی اداروں نے کی تھی جبکہ اوقات کے حوالے سے چین کے اداروں کا اندازہ سو فیصد کے قریب درست ثابت ہوا۔

سرد جنگ کہنے کو تو اختتام پذیر ہو گئی اور دنیا جو کبھی یونی پولر Unipolar تھی پھر بائی پولر (Bipolar) ہو گئی تھی اب سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ملٹی پولر (Multi Polar) ہو گئی لیکن اس کے اثرات اور سزا پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔

ضرب عضب کتنا کامیاب ہے اس کا اندازہ شکست خوردہ سیاستدان اور بعض (sudo intellectuals )کے گمراہ کن تبصروں سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ بعض محب وطن اور صاحب عقیدہ دانشوروں (جن کی خدا کے فضل سے ملک میں کمی نہیں) کی تحریر و گفتگو سے کافی حد تک نمایا ں ہو رہا ہے اور ساتھ ہی ضرب عضب کے چیف آرکیٹیکٹ (Chief Architect ) جنرل راحیل شریف اور ان کی ٹیم کی دنیا بھر میں پذیرائی سے ہوتا ہے۔

قیام پاکستان کے بعدپہلی بار دنیا بھر کے تمام اہم مراکز میں پاکستان آرمی چیف کا بھرپور سواگت پاکستان کی اہمیت کا بین الاقوامی سطح پر شاندار اعتراف ہے۔ برطانیہ ، امریکہ، چین اور پھر ماسکو میں افواج پاکستان کے سالار اعلی کا استقبال درحقیقت پاکستان کی جغرافیائی ، دفاعی اور سٹریٹیجک اہمیت کا اعتراف ہے اور ساری قوم کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ افواج پاکستان کے جوانوں نے اب پہاڑوں میں کامیابی کے بعد جب شہری آبادیوں کا رخ کیا تو سیاستدانوں کی چیخ و پکار سے اس کا بات کا اندازہ ہو ا کہ سیاسی جماعتوں کے عسکری بلکہ دہشت گردی، تخریب کاری، قتل و غارت گری اور لوٹ مار کے پورے پورے شعبے قائم ہیں بلکہ بعض جماعتوں میں مجرمانہ ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ جرائم پیشہ افراد قیادت تک کے منصب تک پہنچ چکے ہیں۔ساتھ ہی سیاسی اور جمہوری فیشن کے مارے ہوئے اقتصادی اور معاشی ترقی کے نعروں کی آڑ میں ملک کی نظریاتی بنیادوں کو کمزور در کمزور کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ترقیاتی کام کاج کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن دنیا کی کوئی باغیرت قوم تعمیر و ترقی کو نظریات کے متبادل کے طور پر قبول نہیں کر سکتی۔ عراق ، لیبیا، روس اور شام کی مثالیں دنیا کے سامنے ہیں ۔ ان ممالک کی شاندار تعمیر و ترقی مشکل وقت میں ان کے کس کام آسکی اور ان کی کہا ں کہاں مدد کر سکی لیکن فیڈل کا سترو کا چھوٹا سا ملک جسے کمزور کرنے کی خواہش لیکر دس سے زائد امریکی صدور رخصت ہو گئے لیکن وہ اپنی جگہ قائم رہا اور اب پہلی بار امریکہ کے ساتھ باوقار صلح صفائی ہو گئی۔ اسرائیل کے سیاسی اور مذہبی عزائم کیا ہیں وہ ایک الگ پہلو ہے لیکن اپنے نظریات اور عقائد سے وابستگی نے دنیا بھر کے دباؤ کے باوجود انہیں متزلزل نہیں ہونے دیا۔

پاکستان دو قومی نظریے کی بنیا دپر قائم ہوا جس کی اصل بنیا د قرآن کا یہ فرمان ہے ’’لکم دینکم ولی الدین‘‘ ۔وقت کے ساتھ ساتھ دو قومی نظریے کی اہمیت اور افادیت بڑھتی جا رہی ہے ۔ جس سے اجتماعی طور پر استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

فوجی آپریشن ڈاکٹری آپریشن سے ملتا جلتا ہے ۔ سرجن کے کامیاب آپریشن کے بعد پیرا میڈیکل سٹاف نے مکمل صحت یابی تک مریض پر پوری توجہ دینا ہوتی ہے۔فوجی آپریشن کے بعد سیاسی حکومتوں کو اس کی ذمہ داری قبول کرنا ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کے لئے اسباب و ذرائع کا دستیاب نہ کیا جانا کن عزائم کی نشاندہی کرتا ہے۔

مجرمانہ سیاست کی حامل سیاسی جماعتوں اور فوج مخالف قائدین سے قربت کن منصوبوں کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ میرے سمیت کوئی بھی سیاسی کارکن مارشل لا یا فوجی حکومت کی حمائت نہیں کر سکتا لیکن یہ بھی تو بتایا جائے کہ مادر پدر آزاد جمہوریت کے نام پر موجود ہ کھیل کتنی دیر تک قوم برداشت کر سکتی ہے۔ جمہوریت کے نام پر جرائم ، بدامنی، قتل و غارت گری، نفرتیں ، تعصبات ، بد انتظامی اور لوٹ مار کو قوم اب مزید کیسے برداشت کر سکتی ہے۔ قوم سیاست دانوں سے مایوس ہے بلکہ اس سارے نظام سے متنفر ہے ۔ کراچی کے لوگ میتیں گھروں میں بجلی پانی نہ ہونے کے باعث ہوٹلوں میں رکھنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

نظریہ اور عقیدہ قوموں کی بدن میں روح کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جس کے بغیر جسم کا تصور ہی ممکن نہیں ۔ یہ ایسا پودا جسے ہر موسم کے تقاضوں اور بھیڑ بکریوں اور جنگلی جانوروں سے بچا کر رکھنا قیادت کی ذمہ داری ہے۔ سڑکوں ، سکولوں اور بھرتیوں کے نام پر ووٹ کا لین دین باوقار قوموں کی زندگی میں وہ حیثیت نہیں رکھتا جو آج کے سیاست دانوں نے اسے دے رکھی ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے مفادات نے بعض اچھے اچھے سیاسی کارکنوں کو اتنا بے وقار اور بے توقیر کر دیا ہے کہ کسی بھی سوچ و فکر کا کوئی بھی سیاسی سوداگر کسی بھی وقت ان کا سودا کر سکتا ہے۔

ایک آزاد وطن کی اہمیت کشمیریوں ، فلسطینیوں اور برما کے مسلمانوں سے پوچھیں ۔ تمام تر تعمیر و ترقی کے باوجود کشمیریوں کی تیسری نسل چھ لاکھ جانیں دینے کے باوجود پاکستان کا پرچم بلند کئے ہوئے ہے۔ موجودہ آزاد کشمیر میں اﷲ نے مجاہد اول اور مسلم کانفرنس کو نظریاتی اقدامات کی توفیق دی ۔ جہاں الحا ق پاکستان کو آئینی تحفظ دیا گیا جب الحاق پاکستان کے مخالفین اور بعض مغربی اداروں نے اس کی شدید مخالفت کی تو مجا ہد اول نے کہا کہ ’’قوموں کی عزت و آبرو ، وقار اور سا لمیت دوسرے تمام تقاضوں سے بالا تر ہے‘‘۔ نواز لیگی قیادت سے تمام تر سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن انہیں چاہئے کہ راجہ ظفر الحق ، سردار مہتاب، خواجہ سعد رفیق ، احسن اقبال، اور اس طریقے کے لوگوں سے نظریہ پاکستان کے احیاء کا کام لیں۔ صوبائی اور مرکزی سطح پر نظریہ پاکستان وزارتیں قائم کی جائیں۔ سندھ میں کرائم علی شاہ اپنا کام کرتے رہیں لیکن صوبائی نظریاتی وزارت اپنا کام شروع کردے۔ ملک میں مضبوط نیشنل سیکورٹی کونسل قائم کر کے اس کے نیچے صوبائی سیکورٹی کونسلیں قائم کر کے ہر کور ہیڈ کوارٹر کو اس کی ذمہ داری سونپی جائے۔

چین پاکستان راہداری ہو یا مستقبل میں شنگھائی پیکٹ میں پاکستان کی ممبر شب یہ سب صرف اور صرف فوج کی ضمانت سے ہی ممکن ہیں۔ بدامنی لوٹ مار اور اقتصادی راہداری باہم متصادم اور متضاد امور ہیں۔ سیاسی قیادت کو چاہئے کہ کھلے دل سے اپنی قومی فوج سے تعاون کر کے پاکستان کو دستیاب علاقائی اور عالمی تبدیلیوں سے پوری طرح مستفید ہونے کا موقع ضائع نہ ہونے دے۔ عسکری ضرب عضب یقینا کامیاب جا رہی ہے اب ہمیں تیزی سے نظریاتی اور فکری ضرب عضب کی جانب بڑھنا ہے جس کے لئے نظریاتی ایمرجنسی اور فکری مارشل لا جیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1677 Print Article Print
About the Author: Sardar Attique Ahmed Khan

Read More Articles by Sardar Attique Ahmed Khan: 23 Articles with 21944 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: