مزے مزے کی باتیں کرنے والا پرندہ

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)
اﷲ عزوجل نے حیوانات ،نباتات ،جمادات، چرند پرند کو پیدافرمایا۔جس بھی مخلوق پر غور کریں تو عقل انسانی حیران رہ جاتی ہے ۔

محترم قارئین!!!!!
ٹیں ٹیں ٹیں!!!یقیناً آپ یہ آوازیں اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہوں گے۔ ٹیں ٹیں کرنے والا یہ پرندہ مجھے بھی بہت اچھا لگتا ہے۔ آپ اس سے خوب مزے مزے کی باتیں بھی کرتے ہوں گے اور یہ آپ کی نقل اُتارنے کی کوشش بھی کرتا ہوگا؟ کیونکہ نقل اُتارنے میں تو اسکی کوئی مثال نہیں۔

کچھ اندازہ ہوا میں کس کی بات کر رہاہوں ؟اتنا باتونی ہے اتنا باتونی کے بندہ حیران رہ جاتا ہے ۔

ہے نا حیرانی کی بات کہ باتیں تو انسان کرتے ہیں یہ کونسا پرندہ جو باتونی ہے۔ بلکہ ایک اور مزے کی بات بتاؤں اس کی سو سے زیادہ اقسام ہیں سو سے زیادہ !!

ہے نا دلچسپ بات !!میں بات کر رہا ہوں اس پرندے کی جس کے بارے میں مختلف محاورے بھی ہم اکثر اپنی گفتگو میں شامل کرتے ہیں ۔طوطہ چشم ۔۔طوطے کی طرح یادکرنا۔طوطا صفت وغیرہ !!!

اب پہچان گئے نا! جی ہاں! آج میں آپ کو اسی پرندے کے بارے میں بتاؤں گا۔ یہ وہ پرندہ ہے جو انسان کی گفتگو کو کاپی کرتا ہے ۔اور ان الفاظ کو ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یعنی بولتا ہے۔ انسان کی نقالی کرتا ہے۔ مزے کی بات کہ انسان کی طرح آوازیں نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔

محترم قارئین !آج ہم آپ کو بتائیں گے اس پرندے کے بارے میں !!جسے انگریزی میں parrot کہتے ہیں اور اردو میں طوطا!! پرندوں کے گروہ میں طوطوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، طوطے طرح طرح کے خوبصورت اور دلکش رنگوں میں پائے جاتے ہیں۔ نقل اُتارنے میں طوطے بہت مہارت رکھتے ہیں۔ انسانوں کی طرح بولنے کے علاوہ بعض دوسری آوازیں بھی عمدگی سے نکال لیتے ہیں اور ہاں! طوطے سیٹی بھی بجا لیتے ہیں اور کچھ طوطوں کی آواز اتنی اچھی ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے سریلی آواز میں حمد و ثنا کر رہے ہیں۔

طوطے دنیا بھر میں تقریباً ہر جگہ پائے جاتے ہیں، جنگلات میں، میدانی علاقوں میں اور پہاڑوں پر بھی طوطے پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی اقسام کے طوطے ہوتے ہیں جن میں سے زیادہ تر طوطے خشک علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں، طوطوں کی زیادہ تر اقسام گرم آب و ہوا والے علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن ایشیا اور یورپ کے بعض انتہائی ٹھنڈے علاقوں میں بھی ان کی موجودگی کے ثبوت ملے ہیں،

طوطوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ گرم علاقوں کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی جگہ پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں لیکن سرد مقامات پر ان کی بہت زیادہ حفاظت کی جاتی ہے۔

طوطے عام طور پر اپنے انڈے، درختوں کے کھوکھلے تنوں یا چٹانوں میں موجود درازوں میں دیتے ہیں، طوطوں کی تمام اقسام گول اور سفید انڈے دیتی ہیں، بڑی قسم کے طوطے دو یا تین انڈے دیتے ہیں جبکہ چھوٹے طوطے بارہ تیرہ انڈے ایک ساتھ دیتے ہیں، جنوبی امریکہ کے طوطے اپنے انڈے خالی جگہوں پر نہیں دیتے بلکہ وہ گھاس پھوس سے گھونسلے بناتے ہیں اور اس میں انڈے دیتے ہیں، طوطے کے بچے جب پیدا ہوتے ہیں تو وہ دیکھ نہیں سکتے اور اس وقت نہ ہی ان کے پر ہوتے ہیں۔

طوطوں کے آٹھ ذیلی خاندان ہیں، ان خاندانوں میں تین سو سے زائد اقسام کے طوطے موجود ہیں، آٹھ ذیلی خاندانوں میں سے ایک الو سے بہت ملتی جلتی ہوتی ہے اور اس طرح یہ طوطا کم اور اُلو زیادہ نظر آتا ہے، لیکن خاص بات یہ ہے کہ یہ طوطا اُڑ نہیں سکتا۔

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے طوطے یوں تو بہت خوبصورت ہوتے ہیں لیکن ان کی حرکتیں بہت خطرناک ہوتی ہیں، یہ بہت ہی خونخوار قسم کے طوطے ہوتے ہیں، ان کی چونچ بہت تیز اور مضبوط ہوتی ہے اور اپنی چونچ سے یہ بھیڑ تک کو ہلاک کرسکتے ہیں، اپنی چونچ کی مدد سے یہ بھیڑ کے پچھلے حصے پر حملہ کر کے چیر پھاڑ مچاتے ہیں اور بھیڑ کے گردے کی چربی کھا جاتے ہیں، اس قسم کے طوطوں کی عادتیں دوسرے طوطوں سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔

ایک درخت پر طوطوں کے کئی کئی خاندان آباد ہوتے ہیں، طوطوں کی عادت ہوتی ہے کہ یہ مل جل کر کھاتے پیتے ہیں، ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں اور اپنی خوراک کی تلاش میں دور تک نکل جاتے ہیں۔

محترم قارئین!!دیکھا آپ نے طوطے اپنے ساتھیوں سے کتنی محبت کرتے ہیں اور ایک ہم ہیں؟

آخر میں ایک طوطے کے بارے ایک متعلق معلوم ہوا۔ انسانی آواز کی نقالی میں طوطوں کی مہارت کا واقعی کوئی جواب نہیں جو اپنی صلاحیتوں سے دیکھنے والوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو اس طوطے کو ہی دیکھ لیں جواپنے مالک کو ہنستے ہوئے دیکھتا ہے تو خود بھی ایسے زوردار قہقہے لگانے لگتا ہے کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے۔ خوش مزاج طوطے کی ہنسی میں طنز کا عنصر بھی واضح طور پر شامل ہوتا ہے جو نہ صرف حیران کن ہے بلکہ بے ساختہ چہرے پر مسکراہٹ بھی لے آتا ہے۔ مزید دلچسپ اور مفید معلومات آپ تک پہنچائیں گے۔

اپیل:محترم قارئین :میں نے بھی گذشتہ کئی مضامین میں فاطمۃ الزھراہ اسلامک اکیڈمی کے حوالے سے تعاون کی رٹ لگائی ہے ۔دیکھتا ہوں آپ کب میری طوطے والی رٹ پر کان دھرتے ہیں ۔۔۔فقط آپکا اپنا
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 670 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 231 Articles with 219641 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

Language: