آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات

(Ghulam Ullah Kiyani, )
آزاد کشمیر اسمبلی کا انتخابی عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔اس کے 41حلقوں پر ہونے والے انتخابات میں 31پر مسلم لیگ (ن)نے لینڈ سلائیڈ کامیابی حاصل کی ہے۔ تین تین نشستیں پی پی پی اور مسلم کانفرنس کو مل سکی ہیں۔ ایک پر اے جے کے پی پی کے سربراہ سردار خالد ابراہیم کو کامیابی ملی۔ جبکہ ایک سیٹ آزاد امیدوار نے جیت لی۔ ابھی ریٹرنگ افسران نے سرکاری طور پر نتائج الیکشن کمیشن کو نہیں دیئے۔ جمعہ کے روز ریٹرنگ افسران نے تمام امیدواروں اور ان کے ایجنٹوں کو بلا کر سب کے سامنے سرکاری گنتی کرنا تھی۔ اس کے بعد نوٹیفکیشن ہو گا۔ اس کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن ہو گا۔ اس کے بعد 41امیدوار سرکاری طور پر آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن بن جائیں گے۔

پھر 8مخصوص نشستوں کے لئے الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا۔ ان میں سے خواتین کی پانچ، سمندر پار کشمیریوں، علماء و مشائخ کے لئے تین نشستیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ان مخصوص نشستوں پر الیکشن کے لئے کم از کم ایک ہفتہ درکار ہو گا۔ اس لئے امکان یہ ہے کہ پہلے 41ارکان کا حلف ہو گا ۔ اس کے بعد ہی مخصوص نشستوں کے لئے انتخاب ہو گا۔ کیوں کہ ان کے شیڈول کا بھی وہی طریقہ ہو گا جو 41نشستوں کے لئے ہے۔ پہلے کاغذات نامزدگی، پھر ان کی سکروٹنی، اس کے بعد اعتراضات، اور حتمی لسٹ جاری ہو گی۔ پولنگ میں 41منتخب ارکان ہی حصہ لیں گے۔ خفیہ بیلٹ کے زریعے ان آٹھ نشستوں پر ارکان کا انتخاب ہو گا۔

ریٹرنگ افسران نے الیکشن بیگ ابھی واپس نہیں کئے ہیں۔ وہ مظفر آباد میں الیکشن کمیشن کے صدر دفتر میں انہیں جمع کرائیں گے۔ مختص سیٹوں پر امیدواروں کے انتخاب کے بعد ہی گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے پر آزاد کشمیر اسمبلی کا انتخابی عمل مکمل ہو گا۔ پی ٹی آئی کے سر براہ عمران خان نے اخلاقی جرائت کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کیا۔ اپنے بیان میں انھوں نے مسلم لیگ کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ پی ٹی آئی نے پہلی بار آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ اس بنیاد پر اس کی کارکردگی بہترین ہے۔ پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے سربراہ بیرسٹرسلطان محمود چوھردی کو پہلی بار الیکشن میں حصہ لینے والے ایک کاروباری شخصیت چوھدری محمد سعید نے شکست دی۔ چوھدری صاحب کے بیٹے چوھدری صہیب سعید اس وقت آزاد کشمیر چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہیں۔ ایک کاروباری خاندان کی جانب سے بیرسٹر صاحب کو شکست دینا غیر معمولی بات ہے۔ تا ہم لاہور سے پی ٹی آئی کے غلام محی الدین دیوان کا ن لیگ کو شکست دینا ایک بڑا اپ سیٹ ہے۔ کیوں کہ لاہور ن لیگ کا گڑھ ہے۔ یہاں پی ٹی آئی کا قبضہ کمال کی بات ہے۔

پی پی پی نے آزاد کشمیر کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ وہ دھاندلی کی شکایت کر رہے ہیں۔ جب کہ یہ بھی سچ ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایسے ووٹ کاٹے ہیں جو ایک سے زیادہ جگہ درج تھے۔ یہ بوگس ووٹ تھے۔ ان ووٹوں کو فہرستوں سے نکالنا الیکشن کمیشن کا کارنامہ ہے۔ اسے دھاندلی سے تعبیر کرنا مناسب نہیں۔ اگر دھاندلی کے ثبوت ہیں تو انہیں متعلقہ فورم پر پیش کیا جانا چاہیئے۔ سچ یہ ہے کہ پہلی بار آزاد کشمیر کے انتخابات مثالی تھے۔ پولنگ بوتھ کے اندر بھی دو فوجی اہلکار ڈیوٹی دے رہے تھے۔ اصلی شناختی کارڈ سب دیکھ پرکھ کر کسی کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ملتی تھی۔ پاک فوج کے احترام میں پولنگ بوتھ کے اندر پولنگ ایجنٹ بھی خاموش تھے۔ کوئی شور شرابا نہ تھا۔ ڈسپلن مثالی تھا۔ کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ میں نے آزاد کشمیر میں کئی انتخابی سٹیشنز کا دورہ کیا۔ سیکورٹی سخت تھی۔ کسی دھاندلی کا کوئی امکان نہ تھا۔ لیکن پی پی پی دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے۔ دیکھتے ہیں وہ اس سلسلے میں کیا ٹھوس شواہد پیش کرتے ہیں۔ شواہد کے بعد ہی الیکشن کمیشن جوابی کارروائی کرے گا۔ اگر کوئی اپنی ہار کی خفت مٹانے کے لئے یہ الزامات لگا رہا ہے تو اس کے مثبت نتائج نہیں نکلیں گے۔ ایک بات درست ہے کہ پی پی پی کی سیاست آزاد کشمیر میں ہی نہیں بلکہ ملک میں بھی داؤ پر لگ چکی ہے۔ خاص طور پر پارٹی سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا سیاسی مستقبل اس سے جڑا ہو اہے۔ نوجوان بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر الیکشن کی خود مہم چلائی۔ وہ خود اس مہم کے سربراہ تھے۔ اگر چہ وہ پل پل اپنی پھو پھو کی رہنمائی حاصل کر رہے تھے۔ تا ہم انھوں نے خود نصف درجن سے زیادہ جلسوں میں شرکت کی۔ جوشیلے خطاب کئے۔ نواز شریف کو براہ راست نشانہ بنایا۔ وزیراعظم کو بھارتی وزیر اعظم کا یار قرار دیا۔ انہیں غدار قرار دینے سے بھی گریز نہ کیا۔ اس لئے پی پی پی سمجھتی ہے کہ اس کے مستقبل کے ہیرو کی مہم ناکام ثابت ہو گئی ہے۔ جب کہ سچ یہ ہے کہ بلاول کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنی سیاست کا خود فیصلہ کرتے ہیں تو عوام کا ان پر اعتماد قائم ہو سکتا ہے۔ تا ہم مسلم لیگ ن کی لہر کے آگے کوئی نہ ٹھہر سکا۔ نواز شریف سے کوئی لاکھ اختلاف کرے، یہ سچ ہے کہ ان کا ایجنڈا ملک کی تعمیر و ترقی ہے۔ وہ انفراسٹکچر کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں شامل کر رہے ہیں۔ اس کے لئے شاہرائں اور سرٹنلز تعمیر ہوں گی۔ بجلی گھر تعمیر ہو رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اسلام آباد حکومت آزاد کشمیر کے لئے اقتصادی پیکج کا بھی جلد اعلان کرے۔ کیوں کہ واقفان اندرون خانہ کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی، عوام کے روزگار، صنعتوں کے قیام، مہاجرین1989کے گزارہ الاؤنس میں اضافہ کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے سامنے مسلہ کشمیر کو حل کرنے کا بھی ایک خاکہ ہے۔ ن لیگ کے کرتا دھرتا کہتے ہیں کہ وہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام رائے شماری کے لئے دنیا بھر میں سرگرم مہم چلائیں گے۔ نواز شریف اس سلسلے میں جارحانہ سفارتی مہم کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ دنیا میں پاکستانی سفارتکاروں کو اسلام آباد طلب کر لیا گیا ہے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستان کے لئے بھی مثالی تھے۔ یہ ایک بہترین تجربہ تھے۔ اس میں نادرا، پی ٹی اے، الیکشن کمیشن آف پاکستان، پاک فوج، چیف سیکریٹری ، آئی جی آزاد کشمیر سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کا مثبت رول شامل تھا۔ اب منتخب لوگ اگر چاہیئں تو عوام کے بھاری منڈیٹ کا احترام کریں گے۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی عوام کے منڈیٹ کا احترام کرے۔ مسلم لیگ ن کے منڈیٹ کے تحت اسے پانچ سال حکومت کرنے دے۔ ن لیگ کی بھی یہی ذمہ داری ہے کہ عوام کے اعتماد کا بھر پور احترام کرے۔آزاد کشمیر کی فلاح و بہبود اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے کردار ادا کیا جائے۔ اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کو بھی ساتھ لے کر چلنے سے اس خطے کے لئے مثبت نتائج برآمد کئے جا سکتے ہیں۔ اگر آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کا بیس کیمپ بنانا ہے تو اس سے یہی توقع رکھی جا سکتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221315 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
23 Jul, 2016 Views: 315

Comments

آپ کی رائے