گول سیٹنگ خواب کو حقیقت میں بدل دیتی ہے

(abdul razzaq choudhri, lahore)
آؤ آج ایک خواب دیکھتے ہیں ۔ کچھ منفرد ،انوکھا اور تعمیری اعتبار سے ناقابل یقین کارنامہ سر انجام دینے کا خواب ۔ چلیں خواب تو ہم نے دیکھ لیا لیکن اب ہمیں اپنے خواب سے متعلق کچھ تحقیق کرنی ہو گی ۔ کیا ہمارا خواب کوئی عام خواب تو نہیں جو ہر کوئی دیکھ رہا ہے ۔ اگر آپ کا خواب ویسا ہی ہے جیسا دوسرے دیکھ رہے ہیں تو معذرت کے ساتھ آپ ایک عام انسان ہیں اور کوئی بھی بڑا کارنامہ آپ کے کھاتے میں جانے کے آثار نظر نہیں آ رہے ۔ اچھا جی تو آپ کا خواب دوسروں سے جدا ہے کچھ الگ ہے کچھ بلند ہے تو پھر دیکھیے کیا آپ اپنے خواب سے متعلق کلیر ہیں مطلب یہ کہ کیا ذہن میں یہ تو نہیں اگر یہ خواب پورا نہ ہوا تو پھر خواب ٹو چلے گا ۔ ابھی آپ نے خواب ٹو نہیں سوچنا صرف اورصرف خواب ون کو تعبیر کی پوشاک پہنانی ہے ۔ اب آپ یہ دیکھیے کیا آپ کا خواب حقیقت کے قریب ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کا خواب حقیقی دنیا سے ہی ماورا ہو ۔ انسان کے بس میں ہی نہ ہو ۔ اب آپ اپنے خواب کو ٹائم کا پابند کر دیجیے کہ میں نے اپنا یہ خواب اتنے عرصہ میں پورا کرنا ہے ۔ مثال کے طور پر کسی کا وزن100کلو ہے تو وہ اپنے وزن کو ایک مہینے میں 95 کلو تک لے جانے کا پروگرام ترتیب دے سکتا ہے یہ حقیقت کے بھی قریب ہے اور ٹائم کا بھی پابند ہے ۔ یہاں میں آپ کو اپنی مثال بھی دیتا ہوں ۔ دس ماہ پہلے میں نے پروگرام ترتیب دیا کہ ایک سال میں میرے 100کالم اخبارات میں شائع ہونے چاہییں اس کے بعد پلان ٹو پہ کام شروع کروں گا آج اللہ کے فضل و کرم سے میں دو ماہ پہلے ہی اپنا ٹارگٹ حاصل کر چکا ہوں ۔یہ بھی خواب کی حقیقت کے قریب اور ٹائم کے پابند ہونے کی ایک تمثیل ہے ۔آپ نے چونکہ بہت پر کشش خواب دیکھا ہے اس لیے ضروری ہے کہ آپ محنت کی عادت کو بھی مذید پختہ کریں ۔ ایک بات اور چیک کریں اپنے خواب سے متعلق کہ آیا آپ نے جو خواب دیکھا ہے کیا وہ کسی سے attract ہو کر دیکھا ہے یا وہ خواب آپ کا passion ہے ۔ اگر تو آپ نے خواب کسی سے attract ہو کر دیکھا ہے تو معذرت کے ساتھ آپ کو خواب کی تعبیر ملنا مشکل ہے لیکن اگر آپ کا خواب آپ کا passionبھی ہے تو پھر اپنے اندر چند مذید خوبیاں پیدا کر لو تو آپ وہ سب کچھ کر جاو گے جو کچھ آپ نے اپنے خواب کی صورت اپنے دل و دماغ میں بٹھایا ہوا ہے ۔یاد رہے ہم میں سے زیادہ تر لوگ محض ناکامی کے خوف سے ہی اپنے خواب کا پیچھا کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور ساری عمر دوسروں کے خواب پورا کرنے میں مگن رہتے ہیں جبکہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی منزل کے راستہ میں آنے والی رکاوٹوں ،مزاحمتوں اور مصیبتوں سے گبھرا کر اپنے خواب سے دست بردار ہو جاتی ہے لیکن ہم میں سے ہی چند لوگ ایسے بھی ہیں جو پختہ ارادے،جدوجہد،مستقل مزاجی اور ٹریننگ کے ذریعہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتے ہیں اور بالآخر اپنے خواب کو پورا کر کے ہی دم لیتے ہیں ۔ میری دانست میں اگر آپ کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہو تو عقاب ایک ایسا پرندہ ہے جس کی عادات کو سٹڈی کرنے پر آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہو ۔ عقاب حد درجہ کا وژنری پرندہ ہے ۔اس کا وژن اتنا strong ہوتا ہے کہ وہ پانچ کلو میٹر کی بلندی سے اپنے شکار کو فوکس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تب تک اپنی نظر ادھر ادھر نہیں گھماتا جب تک کہ وہ اپنا شکار اچک نہ لے ۔ عقاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کی پرواز بہت بلند ہوتی ہے دوسرا کوئی پرندہ اتنی بلندی پر نہیں جا سکتا جتنی اونچائی پر عقاب اڑ رہا ہوتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عقاب صرف عقابوں کے ساتھ ہی اڑتا ہے کسی دوسرے پرندے کے سنگ نہیں اڑتا ۔عقاب دلیری اور بہادری کی بھی علامت ہے جب طوفان اپنے عروج پر ہوتا ہے تو دوسرے پرندے سہم جاتے ہیں ۔ ڈر جاتے ہیں ۔ درختوں کی شاخوں اور پتوں کی اوٹ میں چھپ جاتے ہیں لیکن عقاب طوفان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ پر اتر آتا ہے ۔عقاب جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کے پر کمزور ہو جاتے ہیں وہ برق رفتاری سے نہیں اڑ سکتا تو وہ پہاڑوں میں کہیں چھپ جاتا ہے اور چٹانوں سے ٹکرا ٹکرا کر اپنے سارے پر نوچ ڈالتا ہے اور اس کا جسم بالکل ننگا ہو جاتا ہے وہ تب تک وہاں چھپا رہتا ہے جب تک اس کے نئے پر نہ نکل آئیں یہ وقت عقاب کے لیے بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے اور لگ بھگ ایک سو پچاس دنوں پر محیط ہوتا ہے ۔ پھر جب عقاب کے نئے پر نکل آتے ہیں تو وہ پہلے والی برق رفتاری سے فضاوں کا سینہ چیرنا شروع کر دیتا ہے ۔عقاب تازہ شکار کھاتا ہے مردار نہیں کھاتا ۔ کتنی ہی ایسی اچھی عادات ہیں جو ہم عقاب سے سیکھ سکتے ہیں ۔ ہم عقاب سے وژن سیکھ سکتے ہیں ۔ جس طرح عقاب اپنے پر نوچ دالتا ہے اسی طرح ہم بھی اپنی بری عادتیں اپنی ذات کے اندر سے نوچ کر ان کی جگہ اچھی عادات ڈال سکتے ہیں ۔ جس طرح عقاب مردار نہیں کھاتا ۔ تازہ شکار کھاتا ہے اسی طرح ہم بھی صرف مثبت باتوں کو اپنے کانوں میں جگہ دے سکتے ہیں اور منفی باتوں سے اجتناب برت سکتے ہیں۔عقاب کی طوفان کا مقابلہ کرنے کی عادت سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح پریشانیوں اور تکلیفوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ قصہ مختصر یہ کہ اگر ہم عقاب کی چند خوبیوں کو ہی اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہم نہ صرف اپنے خواب کی تعبیر پا سکتے ہیں بلکہ زندگی میں آنے والی ہر مشکل کو آسان بنا سکتے ہیں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: abdul razzaq choudhri

Read More Articles by abdul razzaq choudhri: 96 Articles with 38437 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jul, 2016 Views: 310

Comments

آپ کی رائے