عمران خان کے نام کھلا خط

(Aslam Lodhi, Lahore)
 کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ پاکستانی ایک قوم نہیں بلکہ مختلف خیالات کے حامل ایک ہجوم کا نام ہے جو تماشا دیکھنے کے لیے کسی کے گرد بھی جمع ہوجاتاہے اور جب دل بھر جاتاہے تو کسی اور تماشاگر کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں ۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے میں پیپلز پارٹی کے بانی چیرمین ذوالفقار علی بھٹو کی وہ بات یہاں درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو انہوں نے روٹی ٗ کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر پاکستانی قوم کو بیوقوف بنانے کے وقت کی تھی اور چار مرتبہ یہی نعرہ لگاکر عوام سے ووٹ لیے اور اپنی تجوریاں بھر کر چلتے بنے۔ بھٹو جب قوم کو یہ نعرہ دے کر واپس لاڑکانہ پہنچے تووہاں کے ڈپٹی کمشنر (جو بھٹو کے قریبی دوست تھے ) نے پوچھا کہ آپ نے روٹی کپڑا مکان کا جو نعرہ دیا ہے ۔ اس کے لیے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے ۔بھٹو نے مسکراتے ہوئے جواب دیا... یارتم ایسے ہی پریشان ہورہے ہو ۔ پاکستانی ایک بیوقوف قوم ہے جس کو بیوقوف بنانے کے لیے میں نے یہ نعرہ لگایا ہے ۔بھلا کروڑوں لوگوں کو کون روٹی کپڑا اور مکان دے سکتا ہے ۔ یہ بات اس شخص کی ہے ٗ جسے پاکستانی سیاست میں فخر ایشیا ٗ تیسری دنیا کے عظیم لیڈ راور قائد جمہوریت کے نام سے یاد جاتا ہے ۔لیکن جب پیپلز پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری کے ہاتھ میں آئی ہے تو آدھے سے زیادہ جیالے آپ ( عمران) کی جوشیلی اور مارو یا مرجاؤ والی تقریریں سن کر تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ہیں ۔میرے خاندان کے وہ تمام لوگ جو پہلے بھٹو کی پارسائی کی قسمیں کھا کر ہر الیکشن میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا کرتے تھے ان سب کے گھروں میں اب آپ( عمران ) کی تصویریں لگی ہوئی اور وہ اپنے نام کے ساتھ فخر سے پی ٹی آئی والے لکھتے ہیں ۔

آپ نے ورلڈ کپ جیتنے کے بعد پاکستانی سیاست میں قدم رکھا ۔ابتداء میں آپ کو زیادہ کامیابی نہیں ملی لیکن 2013 کے الیکشن سے پہلے جب آپ نے قوم کو نیا پاکستان بنانے اور کرپشن کے خاتمے کا نعرہ دیا تو لوگ آپ کے گرد دیوانہ وار جمع ہونا شروع ہوگئے ۔بطور خاص لاہور جسے مسلم لیگ ن کا گڑھ قرار دیا جاتاہے یہاں بھی آپ کے چاہنے والوں کی تعداد اچھی خاصی ہے جس نے آپ کے ابتدائی جلسے میں شریک ہوکر میڈیا کو حیران کردیا تھا۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ جس شخص یا سیاسی جماعت کولاہور میں مقبولیت حاصل ہوجاتی ہے پھر اسے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پی این اے کی عوامی تحریک ہو ٗ بے نظیر بھٹو کا 1986ء والا فقیدالمثال استقبال ہو ٗ یا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کا معاملہ ہو ٗ آپ کو ہر لیڈر کی کامیابی اور ہر تحریک کا مرکز لاہور ہی دکھائی دے گا ۔جہاں کے لوگوں کاایک اچھا خاصا حلقہ آپ کو اپنا لیڈر تصور کرکے آپ کے جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کرتا چلاآرہا ہے ۔2013ء کے الیکشن میں بے شک آپ کو قومی صوبائی اسمبلی کی زیادہ نشستیں نہیں ملیں لیکن ووٹوں کے تناسب سے آپ کا شمار پاکستان مسلم لیگ ن کے بعد دوسرے نمبر پرآتا ہے ۔جبکہ پیپلز پارٹی جو اب صرف سندھ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ٗ کو ملنے والے ووٹ صرف سندھی عوام کے ہیں اور تعداد کے اعتبار سے بھی وہ تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس کے برعکس آپ کو پنجاب ٗ کراچی ٗ گلگت بلتستان اور اب آزاد کشمیر سے بھی لاکھوں کے حساب سے ووٹ مل چکے ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر آپ نے احتجاجی تحریکوں کو خیر باد کہہ کر خیبر پختوانخواہ میں عملی طور پر کچھ کردکھایا تو یقینا پاکستانی قوم کی سوچ اور فیصلے تبدیل ہوسکتے ہیں اور وہ غیر سیاسی لوگ ( جو خاموش ووٹر ہر الیکشن میں ووٹ کاسٹ نہیں کرتا ) ان کے ووٹ بھی آپ کے پلڑے میں بھی پہنچ سکتے ہیں ۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ آپ نے گزشتہ تین سالوں میں سوائے دھرنوں ٗ احتجاجی تحریکوں ٗ جلسے اور جلوسوں کے سوا کچھ نہیں کیا ۔جس سے آپ کے اپنے سپورٹر بھی بددل اور مایوس دکھائی دیتے ہیں ۔ آزاد کشمیر میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے خود اعتراف کیا تھا کہ میں خیبر پختوانخواہ میں جس قسم کی تبدیلی چاہتا تھا وہ لا سکا ۔ اسی طرح خیبر پختوانخواہ کے وزیر اعلی پرویز خٹک بھی میڈیا کے سامنے یہ اقرار کرچکے ہیں ہم نے تین مہینے میں جس تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ تین سالوں میں بھی نہیں لاسکے ۔خیبرپختوانخواہ حکومت کی جانب سے شائع ہونے والے اشتہار میں جس تاریخی احتساب قانون کے نفاذ کا کریڈٹ لیاگیا ہے اس کی حقیقت آپ سے زیادہ اور کون جانتا ہے ۔ یہ درست ہے کہ احتساب کاادارہ قائم کیاگیا تھا لیکن جب احتساب ادارے کا رخ چیف منسٹر ہاؤس اور تحریک انصاف کے وزیروں کی جانب ہوا تو آپ نے اس ادارے کے پر کاٹنے ضروری سمجھے بالاخر احتساب کمیشن کا سربراہ یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے ہی مستعفی ہوگیا کہ یہاں احتساب کی نہیں کرپشن کی ضرورت ہے جو تحریک انصاف کے چیف منسٹر اور وزیر مشیر خوب جی بھر کے کر رہے ہیں ۔ اب تو تحریک انصاف کے ایم پی اے بھی چیف منسٹر کی نااہلی اور کرپشن کے خلاف صف آراء دکھائی دیتے ہیں جن کو منانے کے لیے پرویز خٹک تو ناکام ہوئے ہی ہیں اب آپ بھی انہیں منانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں ۔

آپ نے تین سالوں میں ابھی تک صرف 10 میگا واٹ کے بجلی گھر کا افتتاح کیا ہے جبکہ درجنوں مقامات ایسے ہیں جہاں بجلی گھر تعمیر کیے جاسکتے ہیں ۔ دریائے کنہار ٗ دریائے سندھ ٗ دریائے سوات ٗ دریائے کابل اور نہ جانے کتنے دریا خیبر پختوانخواہ کے سینے پر بہتے اور سال میں کئی مرتبہ طوفانی رفتار سے انسانی آبادیوں کو تہس نہس کرکے صفحہ ہستی سے مٹاتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں اگر ان دریاؤں پر چھوٹے بڑے ڈیم بناکر بجلی گھر تعمیر کرلیے جاتے تو آج خیبر پختوانخواہ بجلی کے معاملے میں نہ صرف خود کفیل ہو جاتا بلکہ نیشنل پاور اتھارٹی کو بجلی فروخت کرکے کروڑوں کا منافع بھی حاصل کرسکتا تھا ۔ پھر دنیا کی بلند ترین پہاڑ ٗ خوبصورت جنت نظیر وادیاں ٗ اور بہتے چشموں کی بہتات بھی ہے ۔ بطور خاص وادی سوات ٗ مانسہرہ سے گلگت بلتستان تک ٗ مانسہرہ سے ناران کاغان تک درجنوں ایسے خوبصورت مقامات ہیں جہاں تک کشادہ سڑکیں تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ اگر ہیلی کاپٹر سروس شروع کر دی جاتی تو نہ صرف پاکستانی بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کو تفریح کے مواقع فراہم کرکے کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا تھا بلکہ ہوٹل انڈسٹریز کے ساتھ ایسے مقامات پر شاپنگ مالز تعمیر کرکے مقامی ثقافت اور تجارت کو بھی فروغ دیا جاسکتا تھا لیکن آپ کی حکومت سے یہ بھی نہیں ہوسکا ۔

اس عید الفطر پر لاکھ افراد اور خاندانوں نے قدرتی مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے وادی سوات اور وادی ناران ٗ جھیل سیف الملوک اور وادی کاغان کا رخ کیا تھا لیکن سڑک تنگ ہونے کی بنا پر تمام لوگوں کوکس قدر تکلیف اٹھانا پڑی اس کا الفاظ میں تصور نہیں کیاجاسکتا۔اگر آپ یا پرویز خٹک کی توجہ اس جانب مبذول ہوتی تو یہی سیاحتی مقامات خیبر پختوانخواہ میں باعزت روزگار کی فراہمی کا باعث بن سکتے تھے لیکن نہیں بن سکے اور آپ کی حکومت نے پورے تین سال دھرنوں میں ڈانس کرتے ہوئے اور احتجاجی جلسوں میں شرکت کرکے ضائع کردیئے ۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر وادی سوات اور وادی کاغان کو جانے والی سڑکوں کو صوبائی حکومت کشادہ کرتی یا وہاں موٹروے تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کرتی تو نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے کھلتے بلکہ تحریک انصاف کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہوتا ۔ سننے میں آرہاہے کہ اب سوات ایکسپریس وے کا منصوبہ شروع کیا جارہاہے ۔ کیا یہ منصوبہ دو سالوں میں پایہ تکمیل کو پہنچ جائے ۔کیا آپ کو یقین ہے کہ 2018ء الیکشن میں خیبر پختوانخواہ کے عوام صرف آپ کے نمائندوں کو ہی ووٹ دے کر حکمرانی کا حق دیں گے ؟ اگر یہ نیک کام شروع کرہی دیا ہے تو ایبٹ آباد سے مانسہرہ اور وہاں سے بالاکوٹ ٗ ناران اور جھیل سیف الملوک تک بھی ایک ایکسپریس وے شروع کردیں ۔ یہاں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایکسپریس وے ان تمام علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا ۔

یہ بات بھی شاید آپ کے علم میں ہو کہ کے پی کے میں صندل اور چیر کے درختوں کے لامحدود جنگلات بھی ہیں ۔لکڑی چوری کی وارداتیں نہ تو آپ کی حکومت سے رک سکی ہے اور نہ ہی کوئی اور انہیں روک سکتا ہے لیکن اگر آپ کی صوبائی حکومت ہر ضلع میں حطار کی طرح ٹیکس فری صنعتی زون قائم کرکے فرنیچر سمیت دیگر صنعتیں لگانے کے لیے قومی سرمایہ کاروں کو ترغیب دے تو اس سے نہ صرف زرمبادلہ حاصل ہوسکتا ہے بلکہ مقامی لوگوں کو وسیع روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے ۔ لیکن پرویز خٹک کی توجہ اس جانب بھی نہیں مبذول نہیں ہوسکی وہ بھی آپ کے ساتھ احتجاجی دھرنوں میں رقص کرنے میں ہی مصروف نظر آتے ہیں ۔صوبہ خیبر پختوانخواہ معدنی دولت سے بھی مالا مال ہے وہاں پتھر کی انڈسٹریز کے علاوہ بے شمار قیمتی معد نی دولت بھی زیر زمین موجود ہے ۔اگر آپ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اجلاس پشاور میں بلاتے اور ماہر ارضیات کو بلوا کر زمینی سروے کرواتے تو نہ جانے کتنے ہی قیمتی خزانے آپ کی حکومت کو ملتے جس سے لوگوں کے رہنے رہن سہن اور طرز زندگی میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا ۔یہ کام بھی آپ کی نااہل حکومت نہ کرسکی۔

خیبرپختوانخواہ کے نوجوانوں کو دہشت گردی کی جانب راغب ہونے سے بچانے کے لیے وہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی جانب راغب کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔اس مقصد کے لیے آپ کو تحصیل سطح پر تمام کھیلوں کے بارے میں کلب اور گراؤنڈز کا اہتمام کرنا چاہیئے تھا تاکہ خیبرپختوانخواہ کی نوجوان نسل نہ صرف مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب ہوکر صحت مند ہو بلکہ ان کے دل میں آپ کے لیے بھی نیک اور اچھے جذبات پیدا ہوں ۔ یہ کاوش آگے چل کر مزید کامیابیاں کے راستے کھل سکتی ہے ۔

اب آتے ہیں اس کرپشن کی جانب سے جس کے خاتمے کے لیے آپ ہمیشہ سے احتجاجی موڈ میں دکھائی دیتے ہیں ۔ اگرچہ آپ نے کرپشن نہیں کی لیکن آپ کے ارد گرد بیشتر لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی برسراقتدار پارٹی کے ساتھ منسلک رہ کر جی بھر کے کرپشن کرچکے ہیں ۔ بطور خاص آپ جس جہاز پر سفر کرتے ہیں وہ بھی ایک ایسے ہی شخص کاہے جس کی کرپشن کے بارے میں صحافتی دنیا میں مختلف اور متضاد کہانیاں سننے کو ملتی ہیں ۔ کچھ لوگ آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے امیرزادوں اور کرپٹ لوگوں کو دیکھ کر انہیں آپ کی اے ٹی ایم سے بھی تشبیہ دیتے ہیں جن کے پاس قارون کا خزانہ ہے جو وہ پہلے ق لیگ کے لیے اور اب آپ کے لیے استعمال کررہے ہیں ۔پھر آپ کی جماعت میں جتنے بھی نظریاتی کارکن تھے وہ سب چھوڑ کر جاچکے ہیں اب آپ کی جماعت میں صرف وہ لوٹے ہی رہ گئے ہیں جو کبھی پیپلز پارٹی میں تھے تو کبھی ق لیگ میں ۔ خیبر بنک کا مینجنگ ڈائریکٹر بھی صوبائی حکومت ہی مقرر کرتی ہے اس کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز اور بنک انتظامیہ کی جانب سے صوبائی وزیر خزانہ کے لیے کرپشن اور رشوت خوری کے الزامات بھی لگ چکے ہیں جن کو تحقیق کیے بغیر ہی دبادیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ کہنے کامقصد یہ ہے کہ پاکستان میں صرف وہی شخص فرشتہ ہے جس کو کرپشن کا موقع ہی نہیں ملا ۔ یہ پاکستان کی روایت ہے ۔مسلم لیگ ن ہو یا پیپلز پارٹی ٗ ق لیگ ہو یا مولانا فضل الرحمن کی جماعت ٗ اے این پی ہو یا اچکزئی کی جماعت ۔ یہاں ہر کوئی قومی خزانے کو لوٹنے کے لیے سیاست میں آتا ہے ۔ پھر یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچی چکی ہے کہ ایک چور دوسرے چور کو بچاتا ہے ۔ ہمارا عدالتی نظام نہ صرف کرپٹ اورسست ہے کہ مدعی مقدمہ لڑتے لڑتے ہی قبر میں اتر جاتاہے ۔خیبر پختوانخواہ میں عدالتی نظام میں بھی کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

آپ کرکٹ کے میدان میں ہیرو ہیں آپ نے پاکستان کو ورلڈ کپ جتوایا ہے لوگ آپ کا ہیرو کی حیثیت سے احترام کرتے ہیں ۔آپ نے لاہور اور پشاور میں دو کینسر ہسپتال تعمیر کروائے یہ کارنامہ بھی اپنی جگہ قابل تعریف ہے ۔ لیکن پاکستان میں تو لوگ کمائی کرنے کے لیے ہی سیاست میں آتے ہیں ۔ اس وقت پارلیمنٹ میں جتنے بھی ارکان موجود ہیں ان تمام کاماضی اگر آپ کرید کے دیکھیں گے تو ایک سے بڑھ کر ایک کرپشن ٗ ٹیکس چور اور اقربا پرور دکھائی دے گا ۔ پاکستانی سیاست برائیوں کی امجگاہ ہے ۔برائیوں کو ختم کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے جو آپ نے اختیار کیا ہے بلکہ سب سے پہلے اپنی جماعت میں ایسے لوگ شامل کریں جن کاکردار صاف اور شفاف ہو جو کسی بھی مالیاتی سیکنڈلز یا بنکوں سے قرض معاف کروانے والے نہ ہوں ۔جن کی تعلیمی ڈگریاں اصلی ہوں ۔پھر آپ ملک بھر سے ہر شعبے سے متعلقہ انتہائی تعلیم یافتہ افراد کو جمع کرکے تمام شعبہ ہائے زندگی کے تھنک ٹینک بنوائیں پھر ان کی سفارشات کی روشنی میں ایک ایک برائی کو ختم کرتے جائیں ۔

دشمن پر حملہ کرنے سے پہلے اپنی فوج کو منظم اور مرتب کیا جاتاہے دوران جنگ کام آنے والے ہر شعبے کو مضبوط اور مستحکم بنایا جاتا ہے تاکہ دوران جنگ کوئی کمزوری دشمن کے ہاتھ نہ آجائے جو شکست کا باعث بنے ۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ نظریاتی کارکن اور لیڈر جنہوں نے ابتدا ء میں تحریک انصاف کی بنیادوں کو استوار کیا تھا ان میں سے اکثر کسی نہ کسی بہانے آپ کو چھوڑ چکے ہیں ۔آپ کی تنظیم سازی بھی نامکمل ہے ۔ آپ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اس کو پارٹی میں شدید مخالفت کا سامناکرنا پڑتا ۔ اس کے باوجود کہ آپ من مانی کرتے ہوئے کسی کی بات پر دھیان نہیں دیتے اور اختلاف رائے کا نام دے کر جان چھڑا لیتے ہیں لیکن اب تک آپ کی جتنی بھی پالیسیاں ٗ احتجاجی تحریکیں اور احتجاجی دھرنے دیکھنے میں آئے ہیں ۔وہ سب کے سب ناکام ہوئے ہیں ۔شیخ رشید جیسے فضول لوگ ٗجن کو سٹیج ڈراموں میں مسخرے کا کردار تو مل سکتا ہے لیکن وہ سنجیدہ سیاست دان نہیں ہے لیکن آپ ہمیشہ اسی کے غلط مشوروں پر چلنے میں عافیت خیال کرتے ہیں ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ آزادکشمیر میں بدترین شکست کے بعد لاہور میں آپکی صدارت میں پارٹی رہنماؤں کا جو اجلاس ہوا اس میں اختلافات واضح طور پر دکھائی دیئے ۔ خیبر پختوانخواہ میں بھی کتنے ہی ایم پی اے بغاوت کرچکے ہیں ۔اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ آپ انگاروں کے ایسے ڈھیر پر بیٹھے ہوئے دوسروں کو للکار رہے ہیں جو خود آپ کو بھی جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا سکتے ہیں ۔

آپ کے لیے اس سے زیادہ بہتر مشورہ اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ آپ بار بار احتجاجی تحریکیں شروع کرنے اور بار بار دھرنے دے کر اپنا اور قوم کا وقت ضائع نہ کریں بلکہ اپنی جماعت کی تنظیم سازی پر توجہ دیں اور ان تمام دھڑوں کو مطمئن کریں جو آپ کے لیے ناکامیوں کے نئے در کھول رہے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں دنیا کا بہادر سے بہادر جرنیل ان حالات میں دشمن سے جنگ لڑ کر کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اس کی اپنی قوم اور فوج اس کے ساتھ نہ ہو ۔ آپ کی جماعت لوٹوں کی جماعت بن چکی ہے جن میں سے اکثر آپ کے ساتھ ہی متفق نہیں ہوتے باقی کی بات چھوڑیں ۔ ان حالات میں جبکہ آپ ایک منتشر ذہن جماعت کے لیڈر ہیں ٗآپ کیسے ایسی تحریک کیسے شروع کرسکتے ہیں جو نواز شریف کو وزارت عظمی کی عہدے سے بے دخل کرسکے ۔

بہتر ہوگا ٗاحتجاجی تحریک شروع کرنے کی بجائے آپ سپریم کورٹ میں نواز شریف کے خلاف رٹ دائر کریں اور وہاں اپنے وکیل کے ذریعے ثبوت فراہم کرکے نواز شریف کے خلاف فیصلہ لیں ۔ سڑکوں پر آ کر لوگوں کو پریشان کرنا کہاں کی دانش مندی ہے ۔ آپ تو ار ب پتی ہیں آپ کو شاید کوئی اور مصروفیت نہ ہولیکن چاہنے والے کتنے دن اور کب تک اپنی روزگار اور ملازمتوں کو آپ کے لیے قربا ن کرسکتے ہیں ۔ روزانہ تو باپ بھی اگر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع کردے تو بچے باپ کی بات نہیں مانتے آپ پھر عوامی لیڈر ہیں ۔آپ کی ہاں میں ہاں تو ملائی جاسکتی ہے آپ کی تقریر ٹی وی پر بیٹھ کر تو دیکھی جاسکتی ہے لیکن روزانہ آپ کے احتجاجی جلسوں میں شریک ہواکر پولیس کے ڈنڈے نہیں کھائے جاسکتے ۔ عقل ودانش سے کام لیتے ہوئے اپنے کارکنوں کی زندگیوں کی حفاظت کریں جو آپ کا سرمایہ بن چکے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں ابھی آپ کو اتنی عوامی مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی کہ آپ ترکی کی طرح عوام کو سڑکوں پر لاکر ریاست کو مفلوج کرسکیں ۔آپ نے خود بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ 2013ء کے الیکشن کے وقت آپ کو جو مقبولیت حاصل تھی اس میں دن بدن کمی واقعہ ہوتی جا رہی ہے۔پلڈاٹ سروے کے مطابق تحریک انصاف کی مقبولیت تین فیصد کمی کے بعد 44 فیصد پر آچکی ہے ۔ اگر مقبولیت میں کمی کا یہی سلسلہ جاری رہا تو شاید خیبر پختوانخواہ بھی آپ کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے کیونکہ لوگ بار باراحتجاج کو پسند نہیں کرتے۔ وہ کام دیکھتے ہیں جو آپ سے گزشتہ تین سالوں کے دوران نہیں ہوسکا ۔مجھے یقین ہے کہ آنے والے دو سال بھی آپ اسی طرح تحفظات کااظہار کرتے کرتے ہی گزار دیں گے اگر آپ ناکام ہوئے تو جتنے بھی بے ضمیر اور لوٹے سیاسی لوگ اور ارکان اسمبلی آپ کی جماعت میں اس وقت شامل ہیں وہ تمام کے تمام واپس اپنی اپنی جماعتوں میں چلے جائیں گے کیونکہ مردہ پیپلز پارٹی میں جان ڈالنے کے لیے بلاول زرداری ایک بار پھر ملک بھر کے دورے کررہا ہے ۔

ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ آپ نے خیبر پختوانخواہ وہ کونسا کام کیا ہے جس کو بنیاد بنا کر آپ ووٹ ما نگ سکتے ہیں ۔اس لیے یہی صائب مشورہ ہے کہ پہلے آپ اپنی پارٹی کو مستحکم بنیادوں پر استوار کریں ہر شہر اور ہر یونین کونسل میں اپنی ممبر شپ مکمل کرکے وہاں پارٹی الیکشن کروائیں پھر ان نمائندوں کی ذہنی تربیت کرکے انہیں مسائل ٗ وسائل اور قومی سیاست کے بارے میں گائیڈ کرکے ہوم ورک مکمل کرلیں اس کے بعد آپ 2018ء کے الیکشن کے لیے ایسے امیدواروں کا انتخاب کرکے انہیں ابھی سے اپنے اپنے حلقے میں عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کے لیے کہیں تاکہ جب الیکشن کو بگل بجے تو آپ کے تمام پارٹی ورکر اور لیڈرپہلے سے تیار ہوں ۔ برا نہ مانیئے گا اس وقت آپ چوں چوں مربع پارٹی کے لیڈر ہیں ۔ جن میں آدھے سے زیادہ وہ لوگ ہیں جو پیپلز پارٹی اور ق لیگ کو چھوڑ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں ۔یہ بھی بتاتا چلوں کہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے جتنے سیاسی راہنما بھی تحریک انصاف میں آئے وہ دودھ میں نہائے ہوئے نہیں ہیں بلکہ یہ وہ فصلی بیٹرے ہیں جو کامیابی کے زینے پر چڑھنے والی کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہونا اپنا فرض اولین تصور کرتے ہیں اور ناکام پارٹی کو منجدھار میں چھوڑ کر ہمیشہ چلے جاتے ہیں ۔پیپلز پارٹی مہا کرپٹ لوگوں کی پارٹی ہے جس کا شاید ہی کوئی شخص کرپشن سے پاک ہو ۔ اسی طرح ق لیگ ان کرپٹ افراد پرمشتمل ہے جو مشرف دور میں ن لیگ پر نازل ہوتا ہوا عذاب دیکھ کر اور اپنی کرپشن چھپانے کے لیے ق لیگ میں شامل ہوئے تھے ۔ ہوسکتا ہے تحریک انصاف میں نئے اور پرانے ورکروں اور راہنماؤں کے مابین جو اختلافات سامنے آرہے ہیں ان کی بنیادی وجہ بھی یہی ہو ۔اب بھی وقت ہے کہ عقل کے ناخن لیں اور احمقوں کی طرح احتجاج اور دھرنوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے خیبر پختوانخواہ میں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع کریں۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ 2018ء میں خیبر پختوانخواہ بھی آپ کے ہاتھ نکل جائے گا ۔پھر آپ میانوالی تک ہی محدود ہوجائیں گے ۔آپ نے قوم کوورلڈ کپ جتوایا آپ نے قوم کو دو بڑے کینسر ہسپتال دیئے یہ خدمات اپنی
جگہ موجودہیں جن کا ہر شخص معترف بھی ہے لیکن سیاست میں آپ جتنا تیزی سے زوال پذیر ہورہے ہیں اس سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کریں ۔

اپنے کارکنوں کو مایوس ہونے سے بچائیں اور انہیں کامیابیوں کے راستے پر گامزن کریں۔ اچھا لیڈر وہی ہوتا ہے جو حالات و واقعات کو دیکھ کر فیصلے کرتا ہے ۔ جب پارلیمنٹ ٗ سپریم کورٹ ٗالیکشن کمیشن اور احتساب بیورو جیسے ادارے موجود ہیں تو آپ نواز شریف کی کرپشن ثابت کرنے کے لیے ان سے رجوع کریں بلکہ آپ رجوع بھی کرچکے ہیں۔پھر سڑکوں پر احتجاج کا کوئی جواز نہیں رہتا ۔کیونکہ جب سڑکیں بند ہوتی ہیں تو وہاں سے گزرنے والی عوام کے دلوں میں نفرت کے جذبات پیداہوتے ہیں ۔ یہ بات شاید کسی دانش مند انسان نے ہی کہی ہے کہ لوگ تقریریں عمران خان کی سنتے ہیں ووٹ نواز شریف کو دیتے ہیں۔یہ بات بھی غلط نہیں کہ جلسوں میں آنے والے سبھی لوگ ووٹر نہیں ہوتے بلکہ زیادہ تعداد تماش بینوں کی ہوتی ہے بندر کا تماشا دیکھنے کے لیے کسی بھی جلسے میں جاپہنچتے ہیں ۔پھر آپ کے جلسوں میں فیشن ایبل خواتین بھی بہت کثرت سے شریک ہوتی ہیں جو تماش بینوں کے لیے سامان راحت پیداکرتی ہیں ۔بیہودگی کے کتنے ہی واقعات آپ کے جلسوں میں ہوچکے ہیں جن کا آپ کو بخوبی علم بھی ہے اور آپ نے ان خواتین سے معافی بھی مانگی تھی ۔اس لیے احتجاج احتجاج کھیلنے کی بجائے اپنی پالیسیوں کو از سر نو مرتب کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ خیبر پختوانخواہ کی ترقی و خوشحالی پر مرکوز کردیں ۔مجھے یقین ہے اگر آپ نیا خیبر پختوانخواہ تعمیر کرنے میں کامیاب ہوگئے تو باقی صوبوں کے لوگ بھی آپ کو ووٹ دینے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ سکتے ہیں ۔میرا کام تھا آپ کو مشورہ دینا باقی آپ ماشااﷲ خود بہت سیانے ہیں اور مجھ سے زیادہ دنیا دیکھ چکے ہیں ۔میری نظر میں لیڈر وہ ہوتاہے جو خود کو حالات کے مطابق ڈھالے ۔امیدہے آپ اچھالیڈر ہونے کا عملی ثبوت دیں گے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 561 Articles with 282729 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2016 Views: 557

Comments

آپ کی رائے
Mr. Aslam lodhi sahib Very fantastic and congratulations from core of heart. You have offered a very suitable and sensible recommendations to mr. U turn khan for future and now it is upto him either to accept it or reject it. however, I hope he should be grateful to you for this act of kindness.
By: ali khan, mandi bahauddin on Jul, 30 2016
Reply Reply
0 Like