عمران خان کا خواب

(Dr Tasawar Hussain Mirza, Lahore)
چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے 25 جولائی 2016ء کو ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں مکمل ہونے والے اور آئندہ منصوبوں کی مختصر تفصیل بتائی ہے۔۔۔۔ مندرجہ ذیل میں یہ وہ زبردست منصوبے ہیں جن پر کامیابی سے عمل ہو رہا ہے۔۔۔ اور عوام تک ان کے مثبت اثرات پہنچنا شروع ہو چکے ہیں۔۔۔۔
رائٹ ٹو سروس ایکٹ۔۔۔۔۔۔۔
رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ۔۔۔۔۔۔۔
غیر سیاسی پولیس۔۔۔۔۔۔
تعلیمی اصلاحات۔۔۔۔۔۔
ہسپتالوں کا نیا سسٹم۔۔۔۔۔۔
بلین ٹری سونامی۔۔۔۔۔
صوبائی کرپشن کا خاتمہ۔۔۔۔۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا آئندہ مستقبل قریب میں جن منصوبوں کو پورا کرنے لیے کوشاں ہے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:
مثالی بلدیاتی نظام۔۔۔۔۔۔۔
بلدیاتی نظام میں مزید بہتری لائی گئی ہے۔۔۔۔ بلدیاتی نمائندوں کو تینتیس ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں۔۔۔۔ (مشرف دور میں صوبہ میں ایک ارب ساٹھ کروڑ نیچے تک گیا تھا)۔۔۔ اب سے کوئی ڈویلپمنٹ فنڈ کسی ایم پی اے کے پاس نہیں جائے گا۔۔۔۔ تمام فنڈز صرف بلدیاتی نمائندوں کو ملیں گے۔۔۔۔

نیا احتساب ایکٹ۔۔۔۔
پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور طاقتور ایکٹ لایا جا رہا ہے۔۔۔۔ جس کے ذریعے بلاامتیاز سب کا احتساب کیا جائے گا۔۔۔۔

وسل بلوئیرڈ ایکٹ۔۔۔۔۔
جو بھی کرپشن کی نشاندہی کرے گا اس کو ریکوری کا پچیس فیصد دیا جائے گا۔۔۔ اس کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا۔۔۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو کرپشن خاتمہ کے لیے سب سے موثر چیز ہے۔۔۔۔

کنفلیکٹ آف انٹریسٹ لاء۔۔۔
اقتدار میں آ کر پیسے بنانا اور کروڑوں روپے کما لینا۔۔۔ اس کے خلاف پہلی دفعہ قانون پاس کیا جانے لگا ہے۔۔۔۔

گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی۔۔۔۔
ایک ایسی اتھارٹی جو پرائیویٹ سیکٹرز اور دوسریی جگہ سے لوگ لے گی اور بیوروکریسی کے تمام معاملات کو چلائے گی۔۔۔ ایک نئی طرز کی گورننس ہو گی۔۔۔ اسی گلیات اتھارٹی میں چیف منسٹر ہاؤس نتھیا گلی اور سپیکر ہاؤس نتھیا گلی ہاؤس سمیت تمام ریسٹ ہاؤسز اس اتھارٹی کے نیچے چلے جائیں گے۔۔۔ اس سے پہلے بھی پانچ ریسٹ ہاؤسز دیئے جا چکے ہیں۔۔۔ ان تمام کو عوام کے لیے کھول کر جو بھی پیسہ اکٹھا ہو گا اور ان علاقوں کی ترقی پر لگایا جائے گا۔۔۔۔

چیف منسٹر ہاؤس پشاور۔۔۔۔۔
وزیراعلی ہاؤس کو بڑے انویسٹرز اور ٹیکس پیئرز کے لیے کھولا جائے گا۔۔۔ ان کو وہاں سیکورٹی اور مہمان نوازی ملے گی۔۔۔ تا کہ صوبے میں سرمایہ کاری اور ٹیکس ادائیگی کو فروغ دیا جا سکے۔۔۔۔

کلاس فائیو کی بھرتیاں۔۔۔۔۔
کلاس فائیو کے اوپر اب جتنی بھی بھرتیاں ہوں گی وہ این ٹی ایس کی بنیاد پر میرٹ پر ہی ہوں گی، ایسا پہلے بھی ستر فیصد اداروں میں ہو رہا تھا لیکن اب اس میں مزید سختی برتی جائے گی تا کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔۔۔۔

لوئر جیوڈیشری ریفارمز۔۔۔۔
ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا۔۔۔ ایک کمیٹی بنائی گئی ہے تا کہ چھوٹے چھوٹے مقدمات پر عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کو فوری ممکن بنایا جائے۔۔۔۔

مدرسہ ریفارمز۔۔۔
اس سے پہلے مشرف دور میں امریکہ کی طرف سے مدرسہ ریفارمز کے لیے سوملین ڈالر کی آفر کی گئی تھی جو ریجیکٹ کر دی گئی تھی۔۔۔ حقانیہ مدرسہ کے ساتھ جو ایم او یو سائن ہوا وہ میڈیا کو جاری کیا جا رہا ہے۔۔۔ ہم مدرسے کے غریب بچوں کو دین کے علاوہ سائنس کے علوم سکھانا چاہتے ہیں تا کہ وہ بھی معاشرے کے ساتھ چل سکیں۔۔۔ ہماری کوشش ہے کہ انگلش میڈیم، اردو میڈیم اور مدرسہ ان تینوں سلیبسز کی بجائے ایک ایسا سلیبس بنایا جائے جو تمام بچوں کے لیے ایک ہو۔۔۔۔

افغان مہاجرین۔۔۔۔
افغان مہاجرین کے واپسی کے دوران ان سے کسی قسم کی زیادتی نہ ہو اس کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔۔۔۔ ان مہاجرین کے تمام مسائل سے نپٹنے کے لیے پوری کوشش کی جائے گی۔۔۔ تا کہ کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ ہو۔۔۔

چیرمین پاکستان تحریک انصاف جناب عمران خان کی پریس کانفرس حقیقت میں تحریک انصاف کی پالیسی کم مگر پاکستانیوں کا خواب زیادہ لگتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو کوئی بھی سیاسی لیڈر ہو عمران خان کی پریس کانفرنس سے متفق بھی ہوگا اور کھلی آنکھوں سے ایسا خواب بھی دیکھتا ہوگا۔۔۔ اﷲ پاک کرے پاکستان کے باسیوں کو بھی حقیقی آزادی نصیب ہو اور جو کچھ عمران خان نے پریس کانفرس میں بیان کیا ہے اس پر عمل درآمد کی توفیق بھی نصیب ہو ۔۔۔۔۔ مگر اس کے لئے چیرمین تحریک انصاف عمران خان کے گوشہ گزار ایک عرض ہے کہ یہ سبز باغ ، یہ خواب و خیال یہ بیان بیازی کی حد تک تو بہت آسان ہے مگر عملی طور پر اگر نہ ممکن نہیں تو مشکل بہت ہے ۔۔۔۔۔۔ اس کے لئے لازمی ہے کہ پارٹی کے اندر ایک ایسا منظم سسٹم متعارف کروایا جائے ۔۔۔ جس سے جیالوں اور ورکروں کو ٹِشوپیپرز کی طرح استعمال کے بعد پھینکا نہ جا سکلے ۔۔۔

اس کو سمجھنے کے لئے کسی فارمولہ کی نہیں بلکہ پہلے آئیں پہلے پائیں کا اصول اپنانا ہوگا تا کہ موسمی سیاست کرنے والے پاکستان تحریک انصافکو نقصان نہ پہنچا سکے اور ٹکٹ صرف حقداروں کو مل سکے ۔۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر جنرل الیکشن میں تحریک انصاف کا حشر بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح ایک سیاسی جماعت کی طرح ہی ہوگا اور چیرمین عمران خان کی پریس کانفرس عمران کا ویژن نہیں عمران خان کی پریس کانفرس ہی رہے گئی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Tasawar Hussain Mirza

Read More Articles by Dr Tasawar Hussain Mirza: 263 Articles with 156063 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2016 Views: 281

Comments

آپ کی رائے