سو لفظوں کی کہانیاں ۔۔۔ چھیاسٹھ سے ستر

(Syed Anwer Mahmood, Karachi)
کشمیر کمیٹی کا کردار تو کشمیر کے نام پر 6 کروڑ روپے کی سالانہ عیاشی میں نے پوچھا تو پھر کشمیریوں کے دکھ درد پر کون آواز اٹھائے گا؟ کم ازکم کشمیر کمیٹی کے موجودہ چیرمین مولانا فضل الرحمان تو نہیں
سو لفظوں کی کہانی نمبر 66۔۔۔۔ خود کشی ۔۔۔۔۔۔
سکندرکے وڈیرئے نے وعدہ کیا تھاکہ
وہ عید سے قبل اس کی کھیت مزدوری ادا کردیگا
کل اسے پتہ چلا کہ وڈیرہ عیدمنانے بڑئے شہر چلا گیا
رات بھر وہ لوگوں سے مانگتا پھر اکچھ نہ ملا
گھر واپس آیا تو عید کی صبح تھی ، بچوں نے اس سے کہا کہ
ابا! ہمیں بھوک لگی ہے
بچوں کی بھوک کی حالت برداشت نہ کرسکا
کمرئے میں جاکرچھت کے پنکھے میں رسہ باندھا
گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی
بچے اپنے باپ کی لاش سے لپٹ لپٹ کر
رو رہے تھے کہ ابا اٹھو!
ہم روٹی نہیں مانگیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو لفظوں کی کہانی نمبر 67۔۔۔۔ ایدھی مرگئے۔۔۔۔۔۔
دونوں بیمار ہوگئے
وزیر اعظم کا دل اور ایدھی کے گردئے خراب ہوگئے
وزیراعظم علاج کےلیے لندن چلے گئے
ان کا کامیاب آپریشن ہوگیا
ایدھی مفت کا علاج کرانےسرکاری ہسپتال ایس آئی یو ٹی چلے گئے
آٹھ جولائی کو ایدھی مرگئے اور
وزیر اعظم کو ڈاکٹروں نے سفر کی اجازت دئے دی
اگلے دن ایدھی کو جب دفنایا جارہا تھا
وزیر اعظم کا چارٹر طیارہ لاہور میں اتررہا تھا
ایدھی ان ہی کپڑوں میں دفن ہوئے جو پہنے ہوئے تھے
ایدھی غریبوں کےلیے اربوں روپے چھوڑ گئے
وزیر اعظم کی آمد پر غریب عوام کے 30 کروڑ روپے خرچ ہوگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو لفظوں کی کہانی نمبر 68۔۔۔۔ ’ڈو مور‘۔۔۔۔۔۔
فاطمہ بھٹو نے ایک کانفرس میں
دہشت گرد نامی سانپ ہم پر چھوڑنے والوں کو کہا
’’دنیا میں اکھٹے ابھریں گے یا اکھٹے ڈوبیں گے
یہ نہیں ہوسکتا کہ دمش میں دھماکہ ہو اور پیرس بچا رہے
کابل میں سکون نہ ہو اور لندن میں سکون ہو
امریکہ کے اسکولوں کے بچے محفوظ ہوں
اور بغداد میں بچے محفوظ نہ ہوں‘‘
آگے میرئے دوست بے باک کہتے ہیں
ائے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے حکمرانوں
آپ ہمیشہ ہمیں کہتے تھے ’ڈو مور‘ ’ڈو مور‘
لیکن آج ہم آپ کی ہمدردی میں آپ سے کہہ رہے ہیں
’ڈو مور‘ ’ڈو مور‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو لفظوں کی کہانی نمبر 69۔۔۔۔ فوجی بغاوت ۔۔۔۔۔۔۔
نواز شریف نوئے کی دھائی میں دو مرتبہ وزیر اعظم بننے
اپنے دوسرئے دور میں غیر جمہوری فیصلوں کی وجہ سے غیر مقبول ہوگئے
بارہ اکتوبر 1999 کو فوج نے بغاوت کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا
پندرہ جولائی کی رات ترکی میں فوجی بغاوت ہوئی
ترک وزیر اعظم اردوان نے عوام سے جمہوری حکومت بچانے کی اپیل کی
لاکھوں افراد باہر نکل آئےجنہوں نے جمہوریت کا ساتھ دیا
نواز شریف کہہ رہے تھے
ترکی کے بہادر عوام کا عزم قابل تعریف ہے
اپنے پاکستانی عوام کےلیے ایسا کیوں نہ کہہ سکے
فرق واضع ہے مقبول اور غیر مقبول حکمراں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سو لفظوں کی کہانی نمبر 70۔۔۔۔ کشمیر کمیٹی ۔۔۔۔۔۔۔
رانا تبسم کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کاخاندانی شجرہ
دادا تاج برطانیہ کا وفادار اورتنخواہ دارتھا
باپ پاکستان بنانے کے "گناہ" میں شریک نہیں تھا
نواز شریف کی وزات عظمی میں
کشمیر کمیٹی کی چیرمین شپ سونے کی کان
6 کروڑ روپے سالانہ کا بجٹ،
گذشتہ تین سال میں تین اجلاس ، لاگت 18 کروڑ روپے
رہا کشمیر کمیٹی کا کردار تو کشمیر کے نام پر 6 کروڑ روپے کی سالانہ عیاشی
میں نے پوچھا تو پھر
کشمیریوں کے دکھ درد پر کون آواز اٹھائے گا؟
کم ازکم کشمیر کمیٹی کے موجودہ چیرمین مولانا فضل الرحمان تو نہیں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Anwer Mahmood

Read More Articles by Syed Anwer Mahmood: 477 Articles with 323682 views »
Syed Anwer Mahmood always interested in History and Politics. Therefore, you will find his most articles on the subject of Politics, and sometimes wri.. View More
29 Jul, 2016 Views: 980

Comments

آپ کی رائے
رعنا تبسم پاشا صاحب معذرت قبول کرلیں، آپکی بات سے سو فیصد متفق ہوں، ہر ایک کواپنا نام بہت عزیز ہوتا ہے، آپکے کالم کا انتظار رہے گا۔ شکریہ
By: Syed Anwer Mahmood, Karachi on Aug, 11 2016
Reply Reply
0 Like
دیکھ کر بہت حیرت اور خوشی ہوئی کہ آپ نے ہم ناچیز کے نام اور ایک تبصرے کے کچھ فقروں کو اپنی سترویں کہانی کا حصہ بنایا ۔ اس عزت افزائی اور قدردانی کے لئے بےحد نوازش ۔ سید صاحب! ویسے تو ہم خود کو کسی قابل نہیں سمجھتے پھر بھی ایک عرض کی جسارت ۔ رانا تبسم کا کہنا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی جگہ اگر آپ لکھتے ، رعنا تبسم پاشا نے کہا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو ہمارا پورا اور صحیح نام بھی شامل ہوتا اور الفاظ کی تعداد پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ ہمیں اپنے نام میں شامل لفظ پاشا بہت عزیز ہے ۔ اسکے بغیر ہماری کوئی شناخت باقی نہیں رہ جاتی ۔ رانا تبسم یا رعنا تبسم نام کے ہزاروں لوگ ہونگے مگر پاشا کے ساتھ یہ نام صرف ہمارا ہے اور پوری دنیا میں ہمارے علاوہ اور کسی کا بھی نہیں ہے ۔ اب آپ پوچھیں گے کیسے؟ تو بس صرف اسی بات پر ہمارے ذہن میں ایک پورا کالم موزوں ہو گیا ہے ۔ جلد ہی اسے سپرد تحریر کرینگے ۔ پڑھ کر اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازیئے گا ۔ خدا آپکے علم عمر اور صحت میں برکت عطا فرمائے اور آپکو ہمیشہ خوش رکھے ۔ متذکرہ تبصرے کو آپ نے فیس بک پر بھی شیئر کیا ۔ ایکبار پھر آپکا بہت بہت شکریہ ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Aug, 10 2016
Reply Reply
0 Like