فالج

(Shahid Shakeel, Germany)
فالج کیا ہے اور کیسے اس کی علامات کا پتہ چلتا ہے؟فالج کو انگریزی زبان میں سٹروک یا اپوپلیکس کہا جاتا ہے،فالج کی ڈیفینیشن،اعداد ، وجوہات، ممکنہ نتائج اور فوری امداد ایک نظر میں۔فالج کا اٹیک ایک ہنگامی صورت حال ہے اور فوری مدد طلب کرنی اہم ہے تاکہ مریض کو مناسب طبی امداد حاصل ہو اور کم سے کم نقصان ہو۔فالج کے دورانِ اٹیک یعنی سٹروک کی صورت میں چوبیس گھنٹوں کے اندر اچانک دماغی خلیات یعنی دماغ کے مخصوص حصوں میں ناکافی خون کی فراہمی کے سبب ہوتا ہے یعنی بھورے رنگ کے سیل دماغ کے خاص حصے میں کافی مقدار میں آکسیجن اور غذائی اجزاء کے حاصل نہ ہونے سے خطرات پیدا کرتے ہیں یا گردش کرنا چھوڑ دیتے ہیں اس دوران دماغی حصوں میں خون کی سرکولیشن میں روکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس سے دماغ اور جسم شدید متاثر ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ مکمل طور پر سیلز ختم ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ بھورے دماغی خلیات کتنے مضبوط یا کمزور ہیں اور عارضی طور پر روکاوٹ پیدا کررہے ہیں یا مستقل فنکشن کرنے سے محروم ہیں اور عام طور پر ان علامات کے نتائج ایسے بھی ظاہر ہو سکتے ہیں کہ انسان کو بولنے میں دشواری ہوتی ہے، مختلف اعضاء کا فنکشن نہ کرنا، بصیرت کا شکار یا چہرے پر ٹیڑھا پن بھی نمودار ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے فالج اٹیک ہونے کی صورت میں فوری ایمبولیس کو فون کیا جائے کیونکہ ٹرانسس ٹوریکل اٹیک جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔دماغی سیلز میں خون کے بہاؤ کے منجمند ہونے یا دیگر خلیات کا گردش نہ کرنے کی دو خاص وجوہات ہو سکتی ہیں ،ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً اسی فیصد کیسسز میں دماغی خون کی بندش یا مکمل طور پر سرکولیشن نہ کرنا جسے طبی زبان میں ایمبوئس کہا جاتا ہے یا دوسری وجہ جسے سکیمنگ وائٹ سٹروک کہا جاتا ہے ممکن ہے یا ہیمرج سٹروک ہو سکتی ہے۔حقائق اور اعداد وشمار۔جرمنی میں دولاکھ ستر ہزار افراد ہر سال فالج کا شکار ہوتے ہیں جن میں اسی فیصد سے زائد افراد ساٹھ سال سے زائد عمر کے ہوتے ہیں لیکن جوان لوگ بھی فالج اٹیک کا شکار ہو سکتے ہیں،یہاں تک کہ نوزائدہ بچے اور چھوٹے بچوں پر بھی فالج اٹیک ہوتا ہے۔فالج اٹیک کی مختلف وجوہات صرف دماغی حصوں پر سے شروع ہوتی ہیں انحصار کرتا ہے کہ کس حصے میں شدت سے تکلیف ہوئی جس کے نتیجے میں چہرہ بگڑ گیا اور بولنے کی طاقت نہ رہی یا بصارت سے محروم ہونایا ہاتھ پاؤں ساکت ہوگئے،سماعت سے بھی کئی افراد محروم ہو جاتے ہیں یا جسم کا آدھا حصہ حرکت نہیں کرتا شدید چکر آنا وغیرہ۔جرمنی میں فالج اٹیک کے بعد ہوسپیٹلز میں بروقت علاج یعنی ریہا بیلیشن ،پلاسٹیسیٹی تھیراپی سے کیا جاتا ہے فالج کے مریضوں کی انتہائی گہری نگہداشت سے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے اندر جینے اور حرکات و سکنات کرنے میں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے مختلف ادویہ ،تھیراپی ،فٹنس ٹریننگ ٹیسٹ جاری رہتے ہیں ،فالج کے ایکسپرٹ ڈاکٹر کا کہنا ہے ہمارا اولین فرض ہے کہ سب سے پہلے انسان کی زندگی بچائیں اور علاج سے شفایابی کیلئے دیگر مواد استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ انسان کا دل و دماغ فنکشن کرتے رہیں اسی میں ہماری کامیابی ہے ہمارے تجزئے کے مطابق عام طور پر چھ ماہ کے دوران فالج زدہ انسان میں کافی حد تک تبدیلی لائی جا سکتی ہے تاکہ اس کے اندر جینے کی تمنا ہو اور یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے کہ علاج کے ساتھ ساتھ مریض کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ماہرین کا کہنا ہے فالج اٹیک عام طور پر ڈپریشن سے پیدا ہوتا ہے لیکن اگر بروقت طبی امداد اور ادویہ استعمال کی جائیں جو انسانی ذہن کو خاص طور پر پرسکون کریں تو بہت جلد صحت یابی ممکن ہوتی ہے ،مطالعے میں بتایا گیا کہ ڈپریشن کی صورت میں فوری طور پر ادویہ ساز گار حالات پیدا کرتی ہیں اور فالج کی نوبت ہی نہیں آتی۔رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں معقول علاج ،ادویہ اور دیگر مراعات حاصل نہ ہونے پر کئی افراد تمام زندگی کیلئے معذور ہو جاتے ہیں جبکہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں انسان کی زندگی بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Shakil

Read More Articles by Shahid Shakil: 250 Articles with 156448 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Aug, 2016 Views: 971

Comments

آپ کی رائے
2 veins gale ke nichle hisse se demag tak pahonchti hai ye bahut barik ragen hoti hain blood me zara sa lothra ban jaye tu ye khon ki riwani ko rok leta hai jab koi aysa hadsa ho tu insan ko khoon patla karne wali dawa fauran le le agar 3 ghante tak dawa nahi mili tu insan mazoor ho sakta hai mere nazdeek agar 2 tablets aspirin 150 fauran le li jaye tu insan ka tissue damage nahi hota hai agar aap sahi waqt par pahonch jayen tu nuqsan mamoli hoti hai aur woh bad me thek bhi ho jati hai lekin dawa mustaqil khani parti hai tu phir koi takleef nahi hoti hai chiknai cholestrol waghaira se parhez karni hoti hai.Mai apni zati mushayeda batata honmai byepass patient hon aur taqreeban 23 sal ho choke hain dopahar ke waqt namaz parh kar aur khana kha kar leta tu hamari zaban me tabdeli aani shro ho gaye ye stroke ka attack tha main ne bache ko fauran taxi lane kaha aur hospital pahonch gaya onhon ne fauran control kar lia aur hame dosre din specialist ko dekhane ke liye kaha main ne nahi mana aur taqreeban ek hafta wahan guzara aur jetne test ho sakte thae karaya mai khodh prostate ka mareez bhi hon mai ek dawa khata tha jo ke nehayet khatarnak hai oska nam tamsolin 4mg hai ye dil ke liye nehayet nuqsan de hai aur ye bori tarah blood pressure barha deta hai ise lene se pahle bahot ehtiat ki zarorat hai bulke na le tu behtar hai is ki jagha hytrin 2mg aur proscar le pani ka ziadah istemal kare aur fauri taur par ultra sound full abdomen aur prostate ka le is se pata chal jati hai ke kharabi kahan hai phir is ke mutabiq elaj karwaye.
By: mahfuzurrehman, Karachi on Aug, 07 2016
Reply Reply
0 Like