آپریشن ضرب عضب کے خلاف سازشیں!! قسط نمبر ۲

(جاوید صدیقی, کراچی)
 گزشتہ اسی کالم کی پہلی قسط میں سندھ اور بلخصوص کراچی شہر کے سیاسی حالات کا تذکرہ کیا تھا اس سے پہلے کہ مین دیگر صوبوں کی جانب اپنے قائرین کو مبذول کراؤ ں ابھی کچھ اور اسی صوبے کے متعلق بات کرنی ہے جہاں آپریشن ضرب عضب سمیت نیشنل سیکیورٹی ایکشن کے خلاف صف آرائی نظر آتی ہیں۔۔۔!! معزز قائرین ،آپریشن ضرب عضب پاکستان میں پائے جانے والے وہ سیاہ عناصر جن سے ملکی و قومی نقصان پہنچارہے ہیں ان کا اور ان کے معاونین و سہولت کاروں کا قلع قمع کرنا مقصود ہے،ان معاونین و سہولت کاروں کی ایک بڑے گھیپ کراچی سمیت پورے سندھ میں موجود ہے، جن میں نام نہاد مذہبی تنظیموں کے ٹھیکیدار، سیاسی ایکٹر، بہروپیئے اور مفاقفوں کے ساتھ ساتھ مطلب پرست، خود غرضوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔۔۔!!سندھ کے سیدھے سادھے لوگوں کو دولت کمانے کا آسان راستے پر گامزن کردیا گیا ہے اورانہیں معلوم بھی نہیں کہ دھوکہ دہی سے دشمن ہمارے محلے، پاس پڑوس میں ایسے گھس بیٹھےہیں کہ ذرا بھی شبہ نہیں ہوتا ۔۔۔!!اس میں سندھ کے باسیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنے محلے، علاقے اور اپنے آشنانے کو کرائے یا فروخت کے وقت اس کے متعلق مکمل تحقیق نہیں کرتے بس بھاری رقم کی ہوس میں معامالات طے کربیٹھتے ہیں،بات صرف یہاں تک محدود نہیں یہ دہشت گرد کس طرح آپ کے درمیان پہنچے، شہروں ،قصبوں، محلوں اور ہمارے علاقوں تک کون پہنچاتا ہے ، کون ہے جو ان کا سہولت کار اور معاون ہے۔۔؟؟؟ ظاہر ہے باہر کا تو کوئی نہیں ہوسکتا۔۔؟؟ کون ان کی گواہی اور ان کے متعلق اعتماد کی فضا کون قائم کرتا ہے ۔۔؟؟ ؟اگرزبان ،قوم اور رنگ و نسل کی بات کی جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اکثر افغانی باشندے ان بستیوں کو سب سے زیادہ مقدم اور پسند کرتے ہیں جہاں پشتو یا فارسی زبان بولی جاتی ہے اسی لیئے یہ ان میں گھل مل جاتے ہیں اور اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے انہیں اپنا آلہ کار بھی بناتے ہیں ۔۔!!ہونا تو یہ چاہیئے کہ سندھ حکومت اس معاملے کو شروع دن سے ہی سنجیدہ لیتی لیکن انہیں تو اپنی سیاسی جماعت کی فکر لاحق رہتی ہے، اپنے اقتدار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی کارکنان سمیت ممبران اسمبلی بھی گھناؤنے کھیل میں پائے گئے ہیں ، کہاں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کا دور اقتدار تھا اور اب کہاں یہ سیاسی جماعت ہے، بھٹو سے محبت اور عقیدت رکھنے والے جیالوں کا کہنا ہے کہ سندھ دھرتی کی اس عظیم سیاسی جماعت کو جس طرح تباہ و برباد اور اس کا ستیاناس کیا ہے تاریخ کبھی بھی ایسے لوگوں کو معاف نہیں کرے گی، سینئر جیالے آصف علی زرداری کی حکمت عملی اور پالیسی سے بہت زیادہ نالاں ہیں ان کے مطابق آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی کو ہائی جیک کیا ہے اور اسے بھٹو سے بدل کر زرداری کی پالیسی میں بدل ڈالا جو کہ صرف اور صرف لوٹ مار، کرپشن، بدعنوانی، لاقانونیت اور ظلم و بربریت پر منحصرہے۔!!

سینئر جیالے موجودہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھٹو کی پی پی پی کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں ، ان کے مطابق بھٹو کی پارٹی ایک شفاف، صاف ستھری، جمہوری پارٹی تھی جس میں غریب عوام کیلئے فلاحی امور کو بلا تفریق کیا جاتا تھا، بھٹو کی پارٹی مین نہ رنگ،نہ نسل،نہ ذات پات، زبان کو فوقیت تھی اسی تھی تو وہ ایک شناخت پاکستانی۔۔!! جس میں ہر قوم کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور سچے جیالوں کی قدر کی جاتی تھی ۔۔!! آج موجودہ دور میں پاکستان پیپلز پارٹی بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سے تواتر کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار میں ملوث رہی ہےسینئر جیالے کہتے ہیںکہ بی بی کہ شہادت کے بعد سے اس پارٹی میں ان گنت دہشتگرد، ٹارگٹ کلرز داخل ہوگئے ہیں جنھوں نے اس پارٹی کو اپنے قبضے میں لے رکھاہے۔۔!! یہی وجہ ہے کہ ان سات سالوں میں سندھ بھر میں نہ کوئی ترقیاتی کام ہوا اور نہ ہی سندھ کے بسنے والے لوگوں کیلئے فلاحی امور بننے، اگر کچھ ہوا بھی ہے تو صرف سرکاری کاغذات میں؟؟جیالوں کے مطابق جن لوگوں کے ہاتھوں میں پی پی پی ہے وہ اس قدر ذہنی نچلی سطح پر واقع ہیں کہ انہیں اپنی طاقت، اقتداورجاگیرادانہ انداز بہت پسند ہے وہ کبھی بھی اس دائرہ سے باہر نہیں نکلنا چاہتے ہیں یہ اقتدار میں بیٹھے لوگ جھوٹ، منافقت مین ڈگری لیئے ہوئے ہیں ان کی باتیں بہت بلیغ ہوتی ہیں مگر عمل اسی قدر بھیانک اور غلیظ ہیں۔۔!! شراب و شباب ان کی کمزوری ہے، دین کی اساس سے کوسوں دور ہیں انہیں تو اپنے نفس کی اطاعت کرنے سے فرصت نہیں۔۔!!بھٹو کے جیالےکہتے ہیں کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں بھرپور طریقے سے آپریشن کلین اپ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وڈیروں اور جاگیرداروں کے عقوبت خانوں کا خاتمہ ممکن ہوسکے اوربرسوں کی جاہلی روایت کا بھی خاتمہ ہو جس میں غلام در غلام بنانے کا سلسلہ ختم کیا جانا چاہیئےاور ونی جیسے انسانی ظلم شامل ہیں۔۔!! غریب کی عزت و آبرو کی ذمہ داری حکومت پر واقع ہوتی ہے لیکن جب حکومت میں ہی جاگیرداروں، وڈیروں کا قبضہ ہو وہاں کیونکر غریب اور کمزورمحفوظ رہ سکتا ہے،سینئر جیالے اس بات سے بھی بہت نالاں ہیں کہ بھٹو کے نام سے جیتنے والے اداروں کو اپنے باپ کی لونڈی بنائے پھرتے ہیں ان میں بلخصوص سندھ پولیس شامل ہیں ، سندھ پولیس کو اپنی ذات کی بقا، اپنی شان کی پروان اور اپنے گھروں کے آگے چوکیدار بناکر خوشی محسوس کرتے ہیں کیا عوام کی جان جانور سے بھی بدتر ہے، سینئر جیالے کہتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی در حقیقت غریب،مزدور اور کسانوں کی جماعت تھی لیکن افسوس صد افسوس یہ اب ایسے لوگوں کے ہاتھوں چلی گئی جو نہ سندھ کے مخلص اور نہ پاکستان کے!! سینئر جیالوں کے مطابق سندھ کی دوسری سیاسی جماعت ایم کیو ایم بھی انہیں کے نقش قدم پر چل پڑی تھی،یہی وجہ ہے کہ چائنا کٹنگ، کرپشن، لوٹ مار، ٹارگٹ کلنگ جیسے موذی امراض کا شکار ہوئی، پولیس اور رینجرز کے آپریشن سے کئی مطلوب اشتہاری مجرم پکڑے گئے جن میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں، جن میں کئی کو سزا مل گئی ہے اور کئی ابھی عدالت کے کیس کو فیس کررہے ہیں ۔۔۔!! عمومی طور پر سندھ کی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے ووٹروں کو بہت مایوس کیا ہے ،انہیں عوام نے جس مقصد کیلئے ووٹ دیتے رہے ہیں وہ مقصد آج تک عمل میں نہیں لایا گیا بلکہ انہیں تو بنیادی ضروریات سے بھی محروم کررکھا ہے جس میں پینے کا پانی، گیس اور بجلی کی سہولیات شامل ہیں ،ان یوٹیلیٹی بلز میں اضافہ تو کردیا جاتا ہے اور ٹیکس در ٹیکس کی بھرمار لاد دی جاتی ہے مگراس کے سبب سہولت میسر نہیں ؟؟ آخر کیوں؟؟ چنگی ناکہ ہو یا بلدیاتی ٹیکس ان تمام عناصر سے کمائی گئی دولت کوکہاں استعمال کیا جاتا ہے یقینا تحقیق سے ثابت ہوگیا ہے کہ یہی دولت اور اس طرح کے کئی طریقہ کار سے کمائی گئی دولت کو ذاتی استعمال میں لایا گیا۔۔ کراچی سمیت سندھ بھر کی شاہراہیں ہوں یا اسٹریٹ لائٹس، نکاسی آب کےمسائل حد سے تجاوز کرچکے ہیں، گندگی کے ڈھیر جابجا پھیلے ہوئے ہیں ہر سال بجٹ میں رکھنے والے بھاری رقم آخر کہاں جاتی رہی ہیں ، عوام گزشتہ سال سالوں سے بیڈ گورنیس کا شکار رہی ہے۔!!دوسری جانب تھر کئی دہائی سے زندگی بچانے کی کوشش میں رہا لیکن حکومت کے عدم تعاون، بے حسی کے سبب بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کوئی اہمیت نہیں رکھتی، سندھ کے شعور رکھنے والی شخصیات نے دونوں سیاسی جماعتوں کو سندھ کی بربادی کا قصور وار ٹھہرایا ہے ان کے مطابق نا اہل اور کرپٹ لوگوں کے ہاتھ اقتدار ہے اسی سبب سندھ بے امنی کا شکار ہے ، نہ یہاں ترقی کا عمل ہے اور نہ ہی زمینی پیداواراگر کچھ سجھائی دیتا ہے تو ہر طرف لوٹ مار، ڈکیتیاں، ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت۔۔۔!!۔!!! اللہ ہم سب کا حامی و ناظر رہے آمین ثما آمین۔!!! پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!! !
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی

Read More Articles by جاوید صدیقی: 308 Articles with 156531 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Aug, 2016 Views: 435

Comments

آپ کی رائے