ماں کے دودھ کی افادیت

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)
قارئین! ہر سال پاکستان سمیت 170 سے زائد ممالک میں یکم اگست سے سات اگست تک ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک منایا جاتا ہے۔اس میں ماں کے دودھ کی افادیت کوا جاگر کرنے کے لئے عوام الناس میں آگاہی کے لئے یہ ہفتہ منایا جاتا ہے۔دوسرے ممالک کی نسبت جنوبی ممالک خصوصاً پاکستان میں ماؤں کے دودھ پلانے کی شرح میں دن بدن کمی ہوتی جارہی ہے۔ان ممالک میں بوتل سے دودھ پلانے کا رواج عام ہے۔ہمیں اپنے ملک میں زچہ بچہ کی صحت کے لئے جہاں مناسب سہولتوں کا فقدان ہے وہیں ہمیں اس بات کی آگاہی کی بھی ضرورت ہے جس سے مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانا شروع کر دیں۔

اس کے لئے ہمیں زچہ بچہ سنٹروں اور ہسپتالوں میں ماؤں کے لئے خاص لیکچر تیار کرنے چاہیں۔بلکہ یہ لیکچر ماں اور باپ دونوں کے لئے ہونے چاہیں۔تاکہ یہ دونوں ماں کے دودھ کی افادیت کو سمجھ سکیں۔ان لیکچرز میں ماں اور باپ کے لئے ماں کے دودھ کی افادیت اور بوتل سے دودھ پلانے کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہو گا۔

ماں کے دودھ کی افادیت میں محکمہ صحت اور میڈیا کو خصوصی پروگرام تشکیل دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طریقے سے عام لوگوں تک پیغام جلد پہنچ جاتا ہے اور لوگ اس کا اثر بھی لیتے ہیں۔اس کے علاوہ علماء اکرام کا فرض ہے کہ وہ اپنے خطبات میں بھی ماں کے دودھ سے متعلق لوگوں کی راہنمائی کریں۔تاکہ لوگوں میں خاص طور پر ماں اور باپ میں اس کی افادیت کا شعور اجاگر کیا جا سکے۔کیونکہ پاکستان میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا ایک تہائی حصہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
بچے کو ماں کا دودھ پلا کر ہم اس شرح کو کم کر سکتے ہیں۔آگاہی مہم سے ہم اپنے بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔اور ہم کل روشن ہو سکتا ہے۔یہ ہفتہ ہمارے لئے ایک سنہری موقع ہے جس سے ہمیں پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیئے۔اس سال2016ء کا موضوع ہیـ (بچوں کے لئے ماں کا دودھ پائیدار ترقی کی بنیاد)۔

ماں کے دودھ کے فوائد:
٭ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد بچے کو صرف ماں کا دودھ پلایا جائے۔
٭ ماں کا دودھ بچے کو چھ ماہ کی عمر تک پلانا چاہیئے۔
٭ چھ ماہ کے بعد دودھ کے ساتھ ساتھ بچے کو نرم غذا بھی کھلانی چاہیئے۔
٭ماں کا دودھ بچے کو دو سال کی عمر تک پلانا چاہیئے۔
٭جو بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے وہ دوسرے بچوں کی نسبت کم بیمار ہوتا ہے۔
٭ماں کا دودھ پینے سے بچے کی نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی نشو و نما بھی ہوتی ہے۔
٭ماں کا دودھ بچے کی صحت کا ضامن ہے۔
٭ ڈبے کا دودھ کھبی بھی ماں کے دودھ کا نعمل ا لبدل نہیں ہو سکتا۔
٭ حاملہ ماں کی غذا متوازن اور صحت بخش ہونی چاہیئے۔
٭ ماں اگر بچے کو دودھ پلاتی ہے تو اس سے ماں اور بچے میں انسیت کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔
٭ ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم زچہ و بچہ کی صحت کا پورا پورا خیال رکھیں تاکہ ایک صحت مند اور تندرست معاشرہ تشکیل پا سکے۔
٭ماں کا دودھ پینے والے بچے ذہانت میں دوسروں بچوں کی نسبت زیادہ تیز ہوتے ہیں۔
٭ ماں کا دودھ بچے کو معدے کے امراض،دمے اور الرجی سے محفوظ رکھتا ہے۔
٭ ماں کا دودھ غذائیت سے بھر پور ہوتا ہے۔
٭ماں کا دودھ بچے کو جلد ہضم ہو جاتا ہے۔
٭ماں کا دودھ قدرتی طور پر صاف ستھرا ہوتا ہے۔
٭ماں کا دودھ بچے کو جلد ہضم ہو جاتا ہے۔
٭ ماں کا دودھ بچے کی آنتوں کے لئے فائدہ مند ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1325681 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
12 Aug, 2016 Views: 666

Comments

آپ کی رائے