پاکستان کا بنیادی حق

(مولانا محمد کلیم اﷲ حنفی, )
اگست شمسی سال کا آٹھواں مہینہ ہے اس کی 14 تاریخ روشن اور یادگار دن کے طور پر منائی جاتی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب مسلمانان برصغیر کو اﷲ تعالیٰ نے طویل قربانیوں کے صلے میں نعمت آزادی سے سرفراز فرمایا۔ حصول آزادی کی کربناک تاریخ میں تاریخ انسانیت کی سب سے بڑی ہجرت رونما ہوئی۔ قائدین تحریک آزادی پاکستان نیآزاد اسلامی ، نظریاتی ریاست کو حتمی شکل دی بالآخر 14 اگست 1947ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔قومیں اپنی تاریخ آزادی کی تاریخ کو تاریک نہیں ہونے دیتیں چنانچہ اہلیان پاکستان بھی اس دن خداوند قدوس کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں اور اپنی خود مختار ،آزاد ، اسلامی، نظریاتی فلاحی، جمہوری ریاست کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تجدید عہد کرتے ہیں۔

حسب سابق اس سال بھی پاکستان میں 14اگست کو یوم آزادی کے طور پرملکی و ملی جوش و جذبے سے منانے کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں ، اہلیان وطن کے ہر محب وطن شہری کی آنکھوں میں خوشیوں کے خواب رقصاں تھے کہ شرپسند تخریب کاروں نے بلوچستان کی غیرت مند سرزمین کو مقتل گاہ بنا کر پاکستانی قوم کو سوگ کا شکار کر دیا۔ فتنہ پرور، سفاک درندوں نے خونی کھیل کھیلا۔کئی بے گناہ وکلاء ، صحافی برادری اور عوام الناس لقمہ اجل بن گئے، وطن کے سجیلے جوانوں کے جسمانی اعضاء فضا میں بکھر کر رہ گئے ،100 سے زائد لاشیں گر گئیں، زخمیوں کے اعضاء ناکارہ ہو گئے ، شہداء کے لواحقین و پسماندگان کی چیخ و پکار سے عرش الہی کانپ نہیں لرز اٹھا۔حالات نے ایک کروٹ بدلی کہ انصاف دینے والے خود انصاف کے طالب بن گئے ، دہائیاں سننے والے خود دہائیاں دینے لگے، فریاد رس نوحہ کناں بن گئے ، امن کی راہیں ہموار کرنیوالے خود اس راہ میں ہموار ہوگئے۔

دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد اسے ختم کرنے کے لیے حکومتی لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے ، کچھ دن بعد پھر کوئی سانحہ پیش آتا ہے اس کے بعد پھر نئی حکمت عملی ترتیب دی جانے لگتی ہے۔ ہمیں کسی کا انکار نہیں سب قوم کے مفاد میں کیا جاتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ جرائم کی شرح میں خاطر خواہ کمی نہیں آ رہی۔ کچھ دن کا وقفہ ہوتا ہے اور پھر سے دہشت گرد منظم ہو کر ملک کے امن کو تباہ کر دیتے ہیں۔ قوم کی نظریں ناخداؤں سے خدا تک پہنچ جاتی ہیں۔

ہمارا تجزیاتی نکتہ نظر یہ ہے کہ چونکہ اس ملک کی بنیاد اسلام پر ہے جب تک اس کو اس کی بنیاد پر نہیں رکھا جائے گا اس وقت تک اس کی عمارت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ امن ہو یا معیشت اس میں کسی نہ کسی طرف جھول رہے گا۔ اقتصادی و معاشی عدم استحکام ، امن و سالمیت کا عدم استحکام اس وقت تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔جب تک اسلامی نظریاتی ریاست میں اسلام کو بحیثیت قانون نافذ نہیں کیا جاتا۔ آئے دن ملک ترقی سے تنزلی کی طرف ، امن سے بدامنی کی طرف جا رہا ہے۔ اور اس وقت تک ہم عدم استحکام کا شکار ہو کر خط دہشت کے نیچے زندگی بسر کرتے رہیں گے جب تک ہم ملک کا اس کا بنیادی حق نہیں دیں گے۔ اس کی بنیاد اسلام ہے جو ہمارا دین بھی ، اور ہمارا آئین بھی۔ ہمارا عقیدہ بھی ہے اور ہمارا محافظ بھی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad kaleem ullah

Read More Articles by muhammad kaleem ullah: 107 Articles with 72222 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Aug, 2016 Views: 376

Comments

آپ کی رائے